سیاست پاکستانیوں کا ایک دلچسپ مشغلہ ہے ۔ جبکہ وطن ثانی میں اس مشغلے کو اپنی شہرت کے لیے پیشہ بنانا بے حد آسان ہے۔ یہاں سیاست کرنے کے لیے کسی نظریے، کسی منشور یا کسی وژن کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کے پاس مال ودولت ہے، آپ پر امن لوگوں کے بیچ چنگاری سلگانے کی مہارت رکھتے ہیں، کسی بھی علاقہ میں جہاں مسائل نہ ہوں، وہاں مسائل پیدا کرسکتے ہیں، خود ساختہ مسائل کو عوام کی مدد سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مسائل کو حل کرنے کے بعد اپنا زور خطابت دکھا سکتے ہیں اور دنیا جہان کے مسائل پر اپنا بے لاگ تبصرہ کر سکتے ہیں تو آپ کو مبارک ہو، آپ کے اندر ایک سیاستدان بننے کے جراثیم موجود ہیں۔
سیاستدان بننے کے لیے ابتدائی سرمایہ کاری بھی معمولی سی درکار ہوتی ہے۔ چار پانچ سوٹ، ایک ، دو ٹائیاں اور دو جوڑے جوتے۔ اس سامان کو سلیقے کے ساتھ کارخانہ بدن کی زینت بناتے رہیں۔ تین چار رومال اور رنگ برنگے موزے سونے پر سہاگہ کا کام دیتے ہیں۔ چیریٹی تقریبات میں کثیررقم کے عطیات کا اعلان کرتے رہا کریں۔ چلیے جناب، سیاستدان کا ابتدائی خاکہ تیار ہو گیا۔ چہرے پر حسب ضرورت تاثرات فراہم کرنا خود آپ کی ذمہ داری ہے۔ آخر کچھ تو خود بھی کرنا چاہئیے نا۔
عموماً پاکستان میں سیاست کا ابتدائی کورس نائی یا قصاب کی دوکانوں پر وقت گزار کر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ یہاں آپ ہفتہ پندرہ دن میں ایک چکر پاکستانی دکانوں کا ضرور لگائیں اس سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اگر آپ کا چہرہ قابل دید نہ بھی ہو سکا تو قابل قبول بہرحال ہو جائے گا۔ دوسرا فائدہ یہ کہ مختلف لوگوں سے بے تکلفی سے گفت و شنید کا موقع ملے گا اور اپنی خطابت کی صلاحیت کو تراشنے کا بھر پور موقع ملے گا۔ مگر یاد رکھیں یہ ایڈوانس کورس ہے اور ابھی آپ ابتدائی مراحل میں داخل ہو رہے ہیں۔
ابتدائی کورس کے بعد آپ میدان عمل میں اتر سکتے ہیں۔ سیاست کے میدان کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ نے سچ نہیں بولنا اور اگر آپ کا جھوٹ پکڑا جائے تو اسے بھی سچ ثابت کرنا ہے۔ یہ ایک فن ہے۔ ڈھٹائی اس کی ایک اضافی خوبی ہے۔ مسلسل کوشش سے اس فن پر عبور حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں شام سات سے رات بارہ بجے تک نجی چینلز پر چلنے والی ٹرٹر ”ورچوئل ٹیوٹر“ کا کام کرتی ہے۔
دوسرا اصول جو آپ کو معلوم ہونا چاہیے وہ ہے تعلقات۔ آپ کے تعلقات چاہے آپ کی اپنی زوجہ سے بھی نہ ہوں مگر لوگوں کو تاثر یہ ملنا چاہیے کہ آپ کے ہر اس جگہ پر تعلقات ہیں جہاں ایک عام اور شریف آدمی کے تعلقات عموماً نہیں ہوتے۔ اپنے موبائل فون میں اپنی دوسری بند سموں کے نمبر اہم ناموں سے محفوظ رکھیں اور کال ملانے پر فون بند ہونے کا بتائیں۔ اس سے دو فائدے ہوں گے۔ پہلا تو یہ کہ آپ کی پہنچ سے لوگ متاثر ہوں گے اور دوسرا یہ کہ جہاں کسی پاکستانی کو کوئی کام پڑا ہو گا، وہ مرعوب ہو گا کہ آپ کسی انتہائی مصروف شخصیت سے رابطہ کرنے میں کوشاں ہیں۔
ثقافتی تقریبات، چیریٹی شوز ، سیاسی جلسوں اور ریلیوں میں شریک ہونا شروع کر دیں۔ کوشش کریں کہ نمایاں طور پر نظر آئیں۔ اخبار میں تصویر چھپ جائے تو اخبار کی کٹنگ اپنی جیب میں رکھیں۔ اگر کسی سیاسی لیڈر یا جانی مانی شخصیات کے ساتھ اتفاقیہ تصویر بن جائے تو اس کو فوراً فریم کروا کرنمایاں طور سے دیوار پرٹانگ دیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنا ہرگز نہ بھولیں ۔ ہر ملنے جلنے والوں کو دکھائیں۔
ہر محفل میں اصولی مؤقف اختیار کریں۔ مگر پہلے یہ جان لیں کہ موضوع کیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آپ کرپشن کے خلاف اصولی مؤقف اختیار کریں اور آپ کے لیڈر کا مقدمہ عدالت میں کرپشن کی بنیاد پر چل رہا ہو۔ ایسی غلطی کبھی مت کریں۔ اصولی مؤقف کے سلسلے میں جو اصولی بات یاد رکھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ سیاست میں بے اصولی سب سے بڑا اصول ہے۔
اپنے مخالفین کے کردار پر کیچڑ اچھالنا شروع کریں۔ یاد رکھیں جتنا رکیک حملہ اپنے مخالف کی ذات پر آپ کریں گے اتنا ہی عوام میں مقبول ہوں گے۔ اپنے مخالفین کے گھر کے ”اندر تک“ کی باتیں یوں بیان کریں جیسے آپ ان کی خلوت کا حصہ رہے ہیں۔ اس سے لوگ آپ کی ”پہنچ“ کے قائل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اس کے بعد آس پاس کے پھڈوں میں ٹانگ اڑانا شروع کر دیں۔ دو چار مرتبہ ٹھکائی ہو جائے تو بونس ہو گا۔ آپ سکہ بند قسم کے سیاستدان کے طور پر ابھر آئیں گے۔
محاوروں پر عبور حاصل کریں۔ درست موقع پر درست محاورات کا استعمال کریں۔ درست مواقع پر غلط محاوروں یا غلط مواقع پر درست محاوروں کا استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔ اونٹ کے خیمے میں گھسنے والی کہاوت ذہن نشین کر لیں اور اس کو عملی زندگی میں اپنا شعار بنائیں۔ لوگوں کے مسائل دریافت کریں اور پھر مسائل حل کرنے کے بہانے اونٹ بن کر خیمے میں گھس جائیں۔ راجا، رانی اور طوطے والی نظم کو بھی پلےسے باندھ لیں۔ آپ نے ہر حال میں حلوہ کھانا ہے۔
عموماً پاکستان میں اس مرحلے تک پہنچتے کسی نہ کسی سیاسی جماعت کی نظر آپ پر پڑ ہی جائے گی۔جبکہ یہاں آپ کے پاس یہ سہولت ہے کہ پاکستان کی حکمران جماعت میں فوری طور پر شمولیت کا اعلان کر دیں۔ چند نام نہاد اخبار ات اور فیس بکیوں کو ساتھ رکھیں اور ہر خبر میں اپنے نام سے پہلے سماجی ، سیاسی، کاروباری ، مشہور و معروف شخصیت کا لقب ضرور لکھوائیں۔ یہ خبر چھپوانا نہ بھولیں کہ علاقے کی معروف و مقبول شخصیت نے اپنے ہزاروں ساتھیوں سمیت فلاں سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی۔ شروع میں ضمیر کو سلا دیں کیونکہ بعد میں ضمیر کو جگانے کے بہت سے مواقع مل جائیں گے۔
سیاست کے پیشے کے آغاز سے ہی اپنی نگاہ بلندی کی جانب رکھیں۔ محب وطن پاکستانیوں کو قربانی کا فلسفہ سمجھائیں۔ ہر بڑا لیڈر عوام کو قربانی دینےکے لیے ہر وقت تیار رہنے کے لیے تیار کرتا رہتا ہے۔ بے چاری عوام قربانی دیتی رہتی ہے اور طوطا حلوہ کھاتا رہتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون جناب اویس احمد کی تحریر نیا سیاستدان بننے کاشارٹ کٹ سے متاثر ہو کرلکھا گیا ہے۔