31

ٹیکنالوجی کا ہماری زندگیوں پر اثر

ٹیکنالوجی ہماری شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے! اگر آپ اس بات سے متفق نہیں ، تو اپنے والدین سے پوچھئے.عین ممکن ہو وہ اس سے اتفاق کریں کہ کیسے اسکول کی چھٹی کے بعد طوفان کی طرح دوڑ لگا کر ساتھیوں کے گھر کی گھنٹی بجانا اور پھر یہ پوچھنا کہ کیا ساتھی کھیلنے کے لیے باہر آ سکتے ہیں،کمبل اور تکیوں کو جمع کر کے غار بنانا اور اس میں چھپ جانا، باغ میں پھول اور تتلیاں تلاش کرنا ، چھوٹے چھوٹے گڑہوں میں جمع، بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتیاں بنا کرتیرانا اور ایسے کئی ان گنت مشغلے اور کھیل اُن کی زندگی کا حصہ تھے۔یہ تمام شرارتیں ،سرگرمیاں اور کھیل ٹیکنالوجی کے اثرو رسوخ کے بغیر سر انجام دیے جاتے تھے۔ لیکن آج بچے اپنا دن کیسے گزارتے ہیں؟ اور کیسےٹیکنالوجی ان کی انفرادی شخصییت و ترقی پر اثر انداز ہوتی ہے؟
دور حاضر میں پروان چڑھتی اس نئی نسل کی ترقی کے ہر ایک مرحلے کا اگر مشاہدہ کریں تو سمجھ میں آتا ہے کہ اس نسل کو جنیریشن 2.0 کیو ں کہا جاتا ہے۔ اس دور میں ٹیکنالوجی کے ساتھ بڑا ہونا فطری عمل ہے ۔آج کے دور میں بچے اپنے والدین کو دفتری کام لیپ ٹاپ پر کرتے ہوئے دیکھتے ہیں یا بہن بھائیوں کو آن لائن کلاس میں شرکت یا موبائل ایپ کو استعمال کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔ لہذا یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ چھوٹے بچے ٹیکنالوجی کے استعمال کا تجربہ بہت پہلے حاصل کر لیتے ہیں ۔ کیونکہ وہ ٹیکنالوجی سے براہِ راست مانوس ہو رہے ہوتے ہیں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ وہ آہستہ اہستہ اس دلچسپی کے عمل کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور جو آلات انہیں فراہم کیے جاتے ہیں ان کو استعمال کرتے ہیں۔
اسمارٹ فون اور ٹیبلیٹ گیمز اور ایپ بچوں کو ٹیکنالوجی کو سمجھنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی ابتدائی کوششوں کو بہت آسان بنا دیتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی سے ہی ان کا تعارف میڈیا اور سوشل میڈیا سے ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی اور میڈیا دونوں اب ناگزیر ہو چکے ہیں۔بچوں میں بے حد مقبول کھیلوں اور کھلونوں کی جگہ بھی اس ٹیکنالوجی نے لے لی ہے۔ بچوں کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی بھی تفریح اور سیکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے ۔ جن کا استعمال وسیع مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔
اگر ہم اپنے ارد گرد کا جائزہ لیں تو احساس ہوتا ہے کہ تکنیکی آلات ہماری زندگی میں آسانی اور ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ فیشن اور سماجی حیثیت کی بھی ایک علامت بن چکے ہیں۔جس کی عمدہ مثال “ایپل” برانڈ ہے۔ اپنی بہترین حکمت عملی اور ذرائع ابلاغ کے امتزاج سے وسیع اشتہارات کے ذریعے بڑے برانڈز نے بلاضرورت انسان کو فضول خرچی کی طرف راغب کیا ہے۔ آج معلومات کی بھرمار ہے. بذریعہ گوگل آپ اپنی مطلوبہ معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ دوران سفر ،کسی کے انتظار میں ، یا بوریت کا شکار ہونے کی صورت میں موبائل فون پر سوشل میڈیا پر اسکرولنگ یا موسیقی سننا بھی عام بات ہے۔تفریحی عناصر، ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا انڈسٹری کا اہم ستون ہیں اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔تاہم جب بات رائے عامہ کو ہموار کرنے کی ہو تو اس میں سوشل میڈیا کا اہم کردار ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف موبائل ایپ باآسانی دستیاب ہیں۔ جن میں “Spiegel Online”, “Tagesschau” یا “N24” شامل ہیں جن پر سیاست، ثقافت، کھیل اور بہت سے مختلف موضوعات پر مضامین روزانہ کی بنیاد پر اپ لوڈ کیے جاتے ہیں۔
اگر ہم باہمی رابطوں کی بات کریں تو، طویل فاصلے صرف سوشل میڈیا کی بدولت معمولی بات بن گئے ہیں۔ بہت سے نوجوان جب تعلیم یا اپنے خاندانوں کے بہتر مستقبل کی غرض سے بڑے شہروں یا بیرون ملک،سکونت اختیار کرتے ہیں تو اپنے پیاروں اور دوستوں سے تعلق برقرار رکھنے میں “واٹس ایپ” ، “فیس بک” یا “اسکائپ” جیسی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا اہم کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔ البتہ، برائیوں اور خامیوں کو بے نقاب کرنے کی آڑ میں مایوسی پھیلاتا یہ میڈیا، انتہاپسندی اور اشتعال انگیز مواد سے بھرے یہی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیابچے کی ذہنی اور شخصی نشونما کو متاثر بھی کر سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر راتوں رات شہرت کی بلندیوں کو چھونے کا شوق جائز ناجائز کی تمیز ختم کرتا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ،میڈیا تک آزادانہ رسائی جہاں فحاشی اورعریانیت جیسی لعنت بے قابو دوڑ رہی ہے ، نا پختہ ذہنوں اور ان کی جنسی نشونما میں منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
“Call of Duty” or “Battlefield”جیسے مشہور و معروف گمیز سے تقریباً ہر ایک نوجوان ہی واقف ہوگا اوربیشتر نے تو انہیں کھیلا بھی ہوگا ۔ اس طرح کے گیمز بچوں کی اخلاقیات کو برباد کرنے کا سبب بند سکتے ہیں۔ یہاں نہ صرف جنگ اور اس کے منفی نتائج دکھائے جاتے ہیں بلکہ سب سے بڑھ کر مسلح تشدد کو اپنے مقاصد کے حصول کےاہم جز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بلاواسطہ تشدد کی مسلسل ترغیب بچوں میں بےچینی کا باعث بن سکتی ہے اور ان کے جارحانہ رویے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ بدترین صورتحال میں جرائم کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین نفسیات کے مطابق بچوں کو ٹیکنالوجی اور میڈیا تک مکمل آزادانہ رسائی کی درحقیقت کوئی خاص عمرمتعین نہیں ہے لیکن بے حد ضروری کام ان کی سماجی اور ٹیکنالوجی مصروفیات سے آگہی کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔
2020 کی اسٹڈی کے مطابق، 48 فی صد نو جوان روزانہ اپنے موبائل فون کا استعمال کر رہے تھے ۔جبکہ 23 فی صد نوجوان مختلف آن لائن گروپس میں سر گرم تھے۔ غالباً آج یہ زیادہ شدت کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔موبائل فون کا بے جا اور حد سے زیادہ استعمال ، ذہنی بیماریوں،نیند کی کمی،عارضہ قلب ، نظر کی خرابی، سر درد وغیرہ جیسی کئی بیماریوں کا پیش خیمہ ثابت ہورہا ہے۔
ٹیلی ویژن ، انٹرنیٹ مضامین ، یا اخبارات میں مستقل اشتہارات بھی اکثر اس شخص پر پیش کی جانے والی مصنوعات کو استعمال کرنے کے لئے بہت زیادہ دباؤ ڈالتے ہیں، بصورت دیگر وہ اس سے کوئی نقصان اٹھا سکتاہے۔ اپنے سماجی حلقے کا دباؤ اور کسی اہم چیز سے محروم ہونے ، اپنے حلقے کا حصہ نہ رہنے کا خوف بالآخر فضول خرچی کی بیماری میں مبتلا کرتا ہے ۔
ایک سروے کے مطابق 95 فیصد نوجوان انسٹاگرام یا اسنیپ چیٹ یا دونوں پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہیں ۔جہاں وہ دوستوں سے تعلقات قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے پسندیدہ فنکاریا مشہور سوشل میڈیا شخصیات کی پرستش کرتے ہیں۔ بظاہرسوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی زندگی کو کامل دکھانے والی ان نام نہاد شخصیات کی پس پردہ زندگی درحقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے جس کا ادراک بہت سے لوگوں کو نہیں ہوتا۔ عام طور پر خودنمائی بھی میڈیا کا ایک اہم جُز ہے۔ سوشل میڈیا شخصیات اپنی شبیہہ کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اندرونی دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر ان کی مثبت شبیہہ اور ان کی نام نہاد کامل زندگی، ان کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔ جبکہ ان شخصیات کی پیروی کرنے والے خود اعتماد ی کی صفت سے محروم نوجوان ،جن میں صلاحیت ہو نے کے باوجود اپنے آپ پر یقین نہیں ہوتا یا وہ جن کو اپنے آپ پر یقین تو ہوتا ہے لیکن صلاحیت نہیں ہوتی، اس سوشل میڈیا کی فریبی دنیا کے سہحر میں کھو جاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپنی محرومی کو مٹانے اور لوگوں میں مقبول ہونے کی غرض سے اپنی اصل شناخت کو تبدیل کرلیتے ہیں۔ انٹرنیٹ یا سماجی رابطوں کی یہ ویب سائٹ آزادنہ اظہار خیال کا موقع فراہم کرتی ہے اور یوں بد گمنامی ، نفرت ، عدم اطمینان اور لوگوں کی حسد ،نفرت زندگی میں شامل ہوجاتی ہے ۔ جس کے نتائج خود اعتمادی میں مزید کمی پیدا کرتے ہیں۔
ایسا ماننا بھی درست نہیں کہ میڈیا سے صرف منفی اثرات ہی مرتب ہوتے ہیں۔ میڈیا اور ٹیکنالوجی سے مثبت یا منفی تنائج اُس کے استعمال پر منحصر ہوتے ہیں۔شرمیلی اور خاموش طبیعت کے مالک نوجوان میڈیا کے ذریعے ہم خیال دوست ڈھونڈ تے ہیں۔ جن ے بات جیت کے ذریعے خود اعتمادی بڑھانے کا موقع ملتا ہے۔ بنیادی طور پر میڈیا سماجی رابطے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس بات کا احساس دلاتا رہتا ہے کہ آپ دوسروں سے رابطے میں ہیں اور باخبر ہیں ۔مختلف طریقوں کے ذریعے اپنی تشہیر، تشکیل اور شخصی ترقی کے لیے میڈیا بھرپور معاون ثابت ہوا ہے۔ نہ صرف عالمگیرثقافتیں بلکہ میڈیا بھی کھلے ذہن ، روادار ، اور خود اعتماد شخص کی ذاتی ترقی کی تائید کرتا ہے۔
میڈیا کا یہ بڑا جال جسے ہم نیٹ ورک کہتے ہیں دوسروں سے مزید جاننے اور مدد حاصل کرنے کو بھی ممکن بناتا ہے۔ “ٹائم ٹیبل” ، “الارم ” ، “یاد دہانی” اور “کیلنڈر” جیسی ایپس بہتر ٹائم مینجمنٹ اور نظم وضبط کو تشکیل دیتی ہیں جس سے ہمارا کافی وقت بچتاہے۔ ماضی میں ہمیں معلومات حاصل کرنے کے لیے شہر کی لائبریری میں جانا پڑتا تھا یا اپنے شعبے میں مہارت رکھنے والے افراد سے معلومات لینے کے لئے بار بار رابطہ کرنا پڑتا تھا۔ خوش قسمتی سے ٹیکنالوجی اور میڈیا کی بدولت آج ہمارے پاس بہت آسانی سے معلومات حاصل کرنے کا طریقہ موجود ہے ۔ علم کے حصول اور اپنی تکنیکی اور تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے میں میڈیا کا اہم کردار ہے۔ “پی ٹی وی ٹیلی اسکول” جیسے ٹیلیویژن پروگرام کچھ نیا سیکھنے کی جستجو اور چھوٹے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے میں اہمیت کا حامل ہیں۔
ٹیکنالوجی اور میڈیا کا مثبت اور تعمیراتی استعمال یقیناً مفید اور دورحاضر کی ضرورت ہے.لیکن اس کا غلط اور منفی استعمال ہماری شخصیت کی نشوونما ، ہماری نفسیاتی اور جسمانی صحت کو منفی طور پر متاثر کرسکتے ہیں۔ تازہ ہوا میں ایک مختصر وقفہ ، مہینے میں کچھ کھیل ، اور دوستوں یا رشتہ داروں سے ملنا جلنا اس ڈیجیٹل دنیا اور حقیقی زندگی میں توازن پیدا کر سکتا ہے۔
خیالات اور رائے: اشعر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں