خان کو چند سالوں کے بعدکوئی نہیں پوچھے گا۔اس شخص کی عزت کا جنازہ نکالنے کے پلان پہ عمل ہو نا شروع ہو چکا ہے۔بڑے بڑے بول خان کو لے ڈوبیں گے۔ چاہے اسے مکافات عمل سمجھو یا پھر کسی کی سازش یا پھر میری conspiracy theory۔ ۔ابن آدم جو اس ہفتہ میں ہونے واقعات پہ خاص طور دوران پولیس ہلاکتیں ،اور بربریت پر غصے کا اظہار کرر ہا تھا۔
اس کے پہلو میں کرسی پہ براجمان سعد جو ایک کتاب کے اوراق پلٹنے میں مصروف تھا متوجہ ہوتا ہے اور
پوچھتا ہے: “ تمہیں ایسا کیوں لگ رہا ہے ؟ “
بھائی جس طرح حالات جا رہے لگتا پلان پہ عمل ہو رہا ہے۔
کون سا پلان؟ کون سی پہلیاں بھجوا رہے ہو ؟
سعد نے بڑے متجسس انداز سے پو چھا۔۔۔
بھائی ! عمران خان وہ شخص ہے جسے اللہ نے ۔بے پناہ عزت دی۔ قوم کا ہیرو بنایا، کرکٹ سے لیکر کینسر ہسپتال بنانے تک پھر نمل یورنیورسٹی، پھر ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھنا ۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے دلوں میں گھر کر جانا۔ خاص طور پر نوجو انوں اور پڑھے لکھے نوجوانوں کی آنکھ کا تارا بن جانا ۔ پھر ایک صوبے میں حکومت بنا لینا۔ یہ کرپشن ختم کرنے کی بات کرتا تھا ۔ معاشیات کی بات کرتا تھا۔ اداروں کی مضبوطی اور نظام کی درستگی کی بات کرتا تھا۔
یہ وہی خان ہے جو اپنے ٹویڑ پہ ماڈل ٹائون کے سانحے پہ پولیس ریفارمز کی بات کرتا تھا۔وہی خان ہے جو قرض نہ مانگنے کی بات کرتا تھا۔ یہ وہی خان ہے جو ڈالر کے مہنگے ہونے پر آسمان سر پہ آٹھا لیتا تھا۔ وہ ہی خان ہے جو ادارے مضبوط ہونے چاہیے لوگ تو آتے جاتے رہتے ہیں کی بات کرتا تھا۔ ایک ایک پائی نکلوانے کی بات کرتا تھا۔ وہی خان ہے جو عمر رضی اللہ عنہ کی مثال دیتا تھا۔اور کہتا تھا کسی حکمران کی سلطنت میں کسی غریب پہ ظلم ہو تو اس ظلم کا مورد وقت کا حکمران ہو گا!!
ابن آدم ایک ہی سانس میں خان صاحب کی خصوصیات گنوا رہا تھا اور غصے کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار ر کر رہا تھا ۔۔
سعد جو بڑے غور سے سن رہا تھا۔کتاب میز پہ رکھتے کہنے لگا ۔بجا فرما رہے ہو میرے دوست لیکن اپنی حکمت عملی بنانے میں وقت لگتا ہے۔ریفارمز دنوں میں نہیں آتیں۔ قوموں کو مہذب ہونے میں سالوں لگتے ہیں
اور پھر ایک ایسی قوم جو 70 سالوں سے(خود پرستی،کرپشن،ہیرا پھیر ی،بد دیانتی،جہالت،دغا بازی،ذات پرستی،جعلسازی،نمودنمائش جیسی) بیماریوں کا شکار ہو اس کو ٹھیک ہونے میں وقت بھی لگے گا ۔
خان کے پاس جادو کی چھڑی تھوڑی ہی ہے۔
سعد !!وقت بھی لے لے اپنی حکمت عملی بھی بنائے ۔۔لیکن سمت تو درست ہونی چاہے ۔۔فرق محسوس ہونا چاہے کہ آج وقت کا حکمران کون ہے۔
تمہیں محسوس ہو یا نہ ہو ۔ایک ہی مثال لے لو ۔پولیس کا نظام ۔
کیا آج ظلم اس مدنیہ کی ریاست کا دعوی کرنے خاں کے دور میں ویسے ہی نہیں ہو رہا ہے۔
ساہیوال کا سانحہ ہوتا ہے ۔ کیا ہوا اس کے بعد ۔۔پولیس گردی کی بھینٹ آئے روز لوگ چڑھ رہے۔ اب اس نیم پاگل کو مار دیا ہے عامر مسیح کو مار دیا ہے۔ بیچارے نیم پاگل کی تو وڈیو بھی بناتے رہے۔ خان کو کب ہوش آئے گا؟ پہلے تو آئے روز سوشل میڈیا پہ شور کرتا تھا۔اب سوشل میڈیا نہیں دیکھتا ۔ٹاپ ٹرینڈ ہی دیکھ لے اندازہ ہو جائے گا لوگ کس چیز پہ نالاں ہیں۔
اور ایک سچی بات بتاوں اس کے مشیر بھی جاہل ہیں کتنے مشیر ہیں کوئی نہیں بتاتا کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے آپکے اپنے لوگ آپ کے خلاف ہو رہے ہیں۔

لیکن تم پلان کی بات کرر ہے تھے اور بات کہاں سے کہاں لے گئے سعد نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
ایسے لگ رہا وہ ایسی باتیں ٹی وی پہ اینکروں سے سن سن کر تنگ آ چکا تھا۔۔۔

دیکھو بھائی دل نہیں مانتا لیکن مجھے بھی ایسا لگ رہا ہے ہمارے ملک میں سکرپٹ رائٹرز ہیں جو ملک کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

خان صاحب کو اقتدار اس لئے دیا گیا ہے کہ اس کو جو رب نے بے پناہ عزت دی ہوئی ہے اس عزت کوخاک میں ملایا جائے ۔ اور عزت خاک میں ملانے کے لئے اقتدار سے اچھا طریقہ نہیں ہے۔ ہر وہ کام جس کی خان صاحب مخالفت کرتے تھے وہ کر رہے ہیں یا کروایا جا رہا ہے۔ساہیوال کا ظلم ہوا ،ابھی 208 ارب کی معافی۔ پولیس گردی۔ کمزور معاشیت، کرپشن کے کیس کے پیسے کہاں ہیں
۔اور سنو عمران خان اینکر نے دعوی کیا میاں صاحب بھی رہا ہو رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پہ دیکھو ،لوگوں سے رائے لو، پڑھا لکھا طبقہ ان صف آرا ہو چکا ہے۔ لوگوں کا اعتماد کم ہوتا جارہا ہے ۔ اور چال یہ ہی ہے کہ خان صاحب کو لوگوں کے دلوں سے نکالا جائے۔ اور جس دن یہ عمل مکمل ہو جائے گا ان کا حشر بھی پرانے سیاست دانوں کی طرح ہو گا۔ پھر یہ نہیں دیکھا جائے گاوہ کتنے ایمان دار تھے ۔ دیکھا جائے ان کے نیچے کتنے ایمان دار تھے۔ اور پھر کہیں سے بھی کوئی وعدہ معاف گواہ نکل آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔اور خان صاحب دوسرا چانس صرف خود قسمت لوگوں کو ملتا ہے۔