گھر جمائی اے آر وائی کا مزاحیہ پلے ہے جو آجکل چل رہا ہے ۔ایک اچھا ہلکا پھلکا پلے ہے جسے آپ فیملی کے ساتھ انجوائے کر سکتے ہیں۔ ہنسی سے بھرپور یہ ڈرامہ ایک گھر جمائی کی درد بھری کہانی ہے جو کہ انتہا درجے کا کاہل اور نکما ہے مگر گھر کے کام اور کھانا اچھا بنا لیتا ہے اسی لیے تو ان ہے ۔ جس کی ایک عدد ساس ہے جو بہت سخت خاتون ہے جس کی ایک بیٹی اور بیٹا ہے شوہر نامدار دوسری بیگم کے ساتھ ہجرت کر گئے ہیں ۔ بیٹی پڑھی لکھی ہے اور اچھا کماتی ہے اسی لیے تو محترمہ نے بیٹی کی فضول پسند کو گھر جمائی کے طور پر قبول کیا کہ کہیں لکشمی گھر سے روانہ نہ ہو جائے مگر اپنے ان جمائی صاحب کو ہر دن ایک نئے سے نئے امتحان سے گزارتی رہتی ہیں اور رہی سہی کسر پوری کرنے کیلئے ان کا ایک عد بیٹا بھی ہے جو محلے کی اس آنٹی سے مناسب رکھتا جسے سب گھروں میں کیا ہو رہا ہے کہ خبر ہوتی ہے مطلب گھر جمائی صاحب کا ایک عدد سالا بھی ہے جو کسی نند سے کم نہیں ہے ۔بات ادھر سے ادھر کرنے اور تیلی لگانے میں محترم کو ملکہ حاصل ہے ، جمائی صاحب کو اکثر مشکلوں میں پھنسائے رکھتے ہیں۔ جو آئے تو تھے آرام سے بیٹھ کر بیوی کے کمائی اڑانے مگر اب جمائی صاحب کا سارا دن ساس اور سالا نما نند سے نمٹنے میں گزر جاتا ہے جن کی زور عزت افزائی ہوتی ہے مگر وہ بلک برا نہیں مانتے کیونکہ اب ان میں برا ماننے کا فیچر ہی نہیں ہے ۔
مزاحیہ حد تک تو ٹھیک مگر یہ ایک وارننگ بھی ہو سکتی ہے ان لڑکوں کےلیے جو خود تو کوئی کام نہیں کرتے مگر بیوی ایسی ڈھونڈ رہے ہیں جو انہیں گھر بیٹھا کر کھلا ئے تو انہیں محترم گھر جمائی سے سبق حاصل کرنا چاہئے اور اپنے لیے کوئی کام ڈھونڈنا لینا چاہئے نہیں تو ساس اور سالا نما نندوں کو جھیلنے کے لیے تیار رہیں ۔