61

جرمنی کے اردو افسانے “رنگِ برگ “ کی تقریب اجراء

رپورٹ: مطیع اللہ
گذشتہ ہفتے جرمنی کے دارالحکومت میں بزم ادب برلن اور ریڈیو آواز ادب برلن کی جانب سے انور ظہیر رہبر کے جرمنی کی سرزمین سے ترتیب دی گئے افسانوں کے مجموعے “ رنگِ برگ “ کا شاندار اجراء اور محفل مشاعرہ منعقد کیا گیا جس میں جرمنی بھر کے افسانہ نگاروں اور شعراء و شاعرات نے شرکت کی ۔
اس تقریب کی صدارت اردو انجمن کے بانی و صدر اور بزرگ ادیب و شاعر جناب عارف نقوی نے کی جبکہ مہمانانِ خصوصی کے طور پر ڈینمارک سے معروف ادیب و شاعر جناب نصر ملک، کراچی سے حلقہ ارباب ذوق کے سیکٹری اور معروف ادیب و شاعر جناب زیب اذکار حسین اور ہندوستان سے معروف افسانہ نگار اور مولانا آزاد یونیورسٹی لکھنو کی مدرس ڈاکٹر عشرت ناہید نے بذریعہ زوم شرکت کی اور انور ظہیر رہبر کی اس ادبی کاوش کو سراہا کہ جو جرمنی میں افسانہ نگاری کے ضمن میں ایک تاریخی دستاویز کا درجہ رکھتی ہے۔
اس تقریب میں جرمنی کے اُن گیارہ افسانہ نگاروں نے شرکت کی اور اپنا تعارف و تہنیت پیش کی جو اس کتاب میں بطور فنکار شامل ہیں۔سب سے پہلےجناب عارف نقوی نے انور ظہیر رہبر کی اس ادبی کاوش پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جرمنی کے گیارہ اہم افسانہ نگاروں کے فن و شخصیت کو اس کتاب کے زریعے پیش کرکے انور ظہیر رہبر نے جرمنی کی ادبی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کیا ہے جو کہ یورپ اور دنیا بھر میں جرمنی کے فن افسانہ اور افسانہ نگاروں کے تعارف کے لیے ایک تعارفی اور تاریخی دستاویز ہے۔ ڈینمارک سے جناب نصر ملک نے بھی اس تصنیف کو سراہا اور کتاب پر بھرپور تبصرہ پیش کیا۔ زیب اذکار نے بھی اس کتاب کو یورپ کے افسانہ نگاروں کے فن و شخصیت کا تعارفی حوالہ گردانا اور افسانوں پر اپنی گراں قدر رائے پیش کی جبکہ ڈاکٹر عشرت ناہید نے تمام افسانوں پر اپنا مختصر تبصرہ پیش کرکے اس کتاب کو اردو افسانے میں گراں قدر اضافہ قرار دیا۔
اس تقریب میں جرمنی کے دیگر شہروں سے تشریف لائے شعراء و ادباء سمیت لاہور سے تشریف لائے ہوئے مہمان اعزازی جناب حسنین بخاری نے خصوصی شرکت کی اور کتاب کے اجراء کے بعد اُن گیارہ افسانہ نگاروں کو اجرک اور پھول کا تحفہ پیش کیا جن کے افسانے اور شخصی تعارف رنگ برگ میں شامل ہیں۔ بعد ازاں حسین بخاری صاحب کو آواز ادب ریڈیو کی جانب سے کتب کے تحائف پیش کئے گئے۔
تقریب کے دوسرے حصے میں مشاعرہ منعقد کیا گیا جس کی صدا رات فرینکفرٹ سے آئے مہمان شاعر و افسانہ نگار طاہر مجید نے کی جب کہ خوبصورت نظامت کی ذمہ داری معروف شاعرہ و ادیبہ عشرت معین سیما نے کی۔ مشاعرے میں برلن کے مقامی شعراء کے علاوہ ہمبرگ سے تشریف لائی صوفی شاعرہ طاہر رباب اور لاہور سے آئے ہوئے شاعر حسین بخاری اور سینئر شاعر عارف نقوی نے خصوصی شرکت کی اور اسٹیج پر آکر کلام پیش کرنے والے شعراء و شاعرات کو بھرپور داد و تحسین سے نوازا۔ جن شعراء و افسانہ نگاروں نے اس تقریب میں شرکت کی اُن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
عارف نقوی، طاہر مجید، وحید قمر، سرور غزالی، عشرت معین سیما، انور ظہیر رہبر، ہما فلک، سلمان حمید، حمیرا نگہت،عامر عزیز ، مایا حیدر، کاشف کاظمی، ریاض لاہوری اور طاہرہ رباب۔
مشاعرے کے اختتام کے بعد اس کامیاب تقریب کے معاون اور جرمن پاکستان پریس کلب کے چئیرمین ظہور احمد کو توصیفی سند سے نوازا گیا اور ڈینمارک کے سینئر ادیب و شاعر نصر ملک کی توصیفی سند بزم ادب کے معتمد اعلیٰ سرور غزالی نے وصول کی۔ بعد ازاں لذید پاکستانی پکوان سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں