28

کالم: پردیسی کے قلم سے از: انور ظہیر رہبر، برلن، جرمنی خلائی مشن انسپریشن 4

سیاحت کی غرض سےخلا میں چار سیاح بالکل اکیلے
16 ستمبر 2021 میں خلا کی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ ہوگیا

امریکی شہری ایلون مسک جن کا اصل تعلق ساؤتھ افریقہ سے ہے اور جو مشہور و معروف سسٹم “پے پال” ، معروف کار ساز کمپنی “تھیسلا “ کے مالک ہیں اب وہ خلائی سیاحت میں “ اسپس ایکس “ کمپنی بنا کر داخل ہوچکے ہیں ۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مورخہ 16 ستمبر 2021ء سے چار امریکی شہری اسپیس ایکس کے ایک کیپسول میں زمین کے مدار کی جانب محو پرواز ہیں۔
چار شوقیہ خلاباز جس کی قیادت امریکی ارب پتی جیرڈ آئزک مین کر رہے ہیں ، ایک پیرابولک فلائٹ سے جہاں آپ چند سیکنڈ کے لیے بے وزنی کا تجربہ کر سکتے ہیں، خلا میں روانہ ہوچکے ہیں۔
تین دن تک یہ چاروں خلا میں رہیں گے اور زمین کو اوپر سے دیکھیں گے۔ ان کے نیچے ہوگی نیلی گیند اور ان کے اوپر ہوں گےستارے۔ اب تک 567 خلابازوں کو خلا میں بھیجا جا چکا ہے لیکن اس بار کچھ مختلف ہے ، انسپریشن 4 مشن کے تمام عملے کے اراکین عام شہری ہیں ، جن میں سے کچھ کو قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کیا گیا ہے۔ جہاز میں پیشہ ور افراد کے بغیر تنہا وہ تین دن تک ہمارے سیارے کا چکر لگا رہے ہیں۔ اس سے پہلے اس شکل میں کبھی بھی ایسا کچھ نہیں دیکھا گیا ۔
ان چار سیاحی خلابازوں میں دوعورتیں اور دو مرد وسطی یورپی وقت کے مطابق رات 2 بجے ایلون مسک کی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے راکٹ کی مدد سے خلا کی طرف روانہ ہوچکے ہیں۔ مسک بالآخر خلائی سیاحت کے اس انوکھے سفر سے ایک نئی تاریخ رقم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ لیکن یہ کتنا حقیقت پسندانہ عمل ثابت ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا ۔ کیا یہ پرواز بہت خطرناک ہوسکتی ہے؟ زمین کے مدار میں عملہ کس طرح کے توقعات کے ساتھ یہ سفر کرسکتا ہے؟ اورہم ، آپ واقعی وہاں کیسے جاسکتے ہیں؟ یہ اور اسی طرح کے اہم سوالات اور جوابات یقیناً ہر کسی کے ذہن میں گردش کررہے ہیں ۔
جولائی میں ایمیزون کے بانی جیف بیزوس اور برطانوی کاروباری رچرڈ برانسن نے خلا میں پہلی نجی طور پر منظم سیاحتی پرواز کی کوشش شروع کی تھی۔ برانسن اور ان کا عملہ ایک خاص راکٹ جیٹ میں 86 کلومیٹر کی بلندی پر جا پہنچے تھے۔ بیزوس نے نو دن بعد اپنے نئے شیپرڈ میزائل میں اپنے ساتھ دوسرے تین مسافروں کو 107 کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچا یا۔
تاہم دونوں صورتوں میں یہ صرف ایک نجی پرواز تھی ۔ خلائی سیاح مختصر مدت کے لیے خلا کے گرد چکر لگاتے اور پھر زمین پر واپس لوٹ جاتے تھے ۔اس طرح وہ صرف تین سے چار منٹ کے لیے بے وزنی کا شکار ہوتے ۔لیکن‏Inspiration4 مشن اس سے کہیں آگے ہے۔ ایک فالکن 9 راکٹ میں موجود چار مکینوں کو خلائی کیپسول میں اتنی تیزی سے اوپر پھینکا گیا ہے کہ یہ ایک مستحکم مدار تک پہنچ پائے ہیں ۔ تین دن تک یہ خلائی سیاح 575 کلومیٹر کی بلندی پر زمین کا چکر لگا کر واپس لوٹیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (سطح سمندر سے 400 کلومیٹر) اور ہبل خلائی دوربین (550 کلومیٹر) سے زیادہ دور پہنچنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔
اس قیمتی سیاحت کی ادائیگی کون کرسکتا ہے؟ امریکی کاروباری شخصیت جیرڈ آئزک مین جن کی عمر صرف 38 سال ہے ، انہوں نے 1990 کی دہائی کے آخر میں ایک کمپنی کی بنیاد رکھی جو کریڈٹ کارڈ کی ادائیگیوں کے پروسیس میں مہارت رکھتی تھی۔ آج اس کمپنی کے بنائے گئے نظام کو Shift4 ادائیگی کہا جاتا ہے۔ اس کی مالیت چھ ارب امریکی ڈالر ہے۔ ایک سال پہلےا آئزک مین نے اسپیس ایکس سے خلا میں سفر کرنے کے آپشن کے بارے میں تحقیق شروع کی تھی اور اُن کے اس خیال کو فوری طور پر دوسرے لوگوں نے بہت پسند کیا۔ اس کے بعد ایلون مسک کی راکٹ کمپنی نے پہلی بار ناسا کے خلابازوں کے ساتھ اپنے کریو ڈریگن خلائی کیپسول کا تجربہ کیا اور اسے زمین کے مدار میں لے جانے کے لیے مالدار صارفین کی تلاش شروع کردی ۔ بالآخر آئزک مین نے چار سیٹیں بک کروائیں ۔ مبصرین کا اندازہ ہے کہ اس کی قیمت تقریبا. 50 ملین ڈالر فی سیٹ مقرر ہوئی ہے۔ آئزک مین نے اس مشن پر کس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دی یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ شاید وہ واقعی صرف اڑنے کا ایک منفرد مزہ چاہتے تھے جو پہلے ہی ایک پرجوش لڑاکا جیٹ پائلٹ ہیں اور اُن کا خلا کے سحر میں گرفتار ہونا کوئی بہت انہونی بات بھی نہیں لگتی ۔ آئزک مین نے کیپسول میں دیگر تین جگہیں مختص کی ہیں۔ انہوں نے ٹائم میگزین کو بتایا کہ” میں اپنے کچھ پائلٹ دوستوں کو اس سفر کے لیے مدعو کر سکتا تھا، لیکن میں نے اوسط مالدار عام شہری کو ترجیع دی ہے۔ آئزک مین دنیا کو اس خیال سے پرجوش کرنا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں خلائی سفر زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔ اُنہوں نے اپنے اِس مشن کے لیے اپنی جیب سے 100 ملین ڈالر کی خطیر رقم دی ہے ۔
پہلے چار خوش نصیبوں میں دوسری مسافر ایک خاتون ہیں جو سینٹ جوڈ چلڈرن ریسرچ ہسپتال میں میڈیکل اسسٹنٹ ہیں ۔ یہ 29 سالہ ہیلی آرسینو ہیں۔ ان کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ جب وہ دس سال کی تھیں تب وہ خود کینسر کے مرض میں مبتلا ہوگئیں تھیں۔ تب سے اُن کی ٹانگ مصنوعی لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ انھیں ناسا میں ان کے اس نقص کی وجہ سے خلاباز بننے کا موقع نہیں ملا، حالانکہ وہ بچپن سے ہی اس کا خواب دیکھا کرتیں تھیں۔
اس مشن کی تیسری خوش قسمت خاتون سیان پراکٹر ہیں جو امریکی خلائی ایجنسی کی جانب سے خلابازوں کے انتخاب میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں کئی بار ناکام ہوچکیں تھیں ۔ آج یہ 51 سالہ خاتون ایک کمیونٹی کالج میں ارضیات کی پروفیسر ہیں۔ انہوں نے ایک نظم لکھ کر آئزک مین کے کیپسول میں اپنی جگہ کے لیے درخواست دی اور کامیاب بھی ہوئیں۔اس نظم کا موضوع تھا” خلائی سفر میں مساوی مواقع اور تنوع “ ۔
کیپسول میں چوتھے مسافر آئی ٹی ماہر اور عراق جنگ کے تجربہ کار کرس سیمبروسکی ہیں ۔انھیں دراصل اپنے ایک دوست کی جگہ لیا گیا ہےجس کا نام قرعہ اندازی میں بھی آگیا تھا لیکن پھر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس نے خلا میں جانے کا اپنا ارادہ ترک کردیااور یوں کرس سیمبروسکی بھی خوش نصیبوں میں شامل کرلیے گئے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ان چاروں کے بعد ہر کوئی جلد ہی خلا میں اڑ کر جا سکےگا؟ جیسا کہ اسپیس ایکس اور دیگر خلائی کمپنیاں یہ تاثر پیدا کررہی ہیں۔ رچرڈ برینسن اور جیف بیزوس کی کمپنیوں کے مطابق کچھ دنوں کی تربیت وزن میں کمی کے شارٹ ہاپ سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں ۔ لیکن یہ بات بھی غور طلب ہے کہ ایسا کرنا تو پیشہ ور پائلٹ برینسن اور کمپیوٹر ماہر بیزوس کے لیے مشکل نہ ہو لیکن ایک عام شہری کے لیے؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان چاروں شوقین خلابازوں کو بھی کئی دنوں تک جاری رہنے والے مدار میں پرواز کے لیے نمایاں طور پر طویل تیاری کرنی پڑی ہے۔ Inspiration4 کے عملے نے تقریبا چھ ماہ تک تربیت حاصل کی ہے۔ اس پروگرام میں سینٹرفیج اور فائٹر جیٹ میں گھومنا ، پہاڑوں میں بقا کی مہم اور بعد میں علمی کوئز سمیت دستی کتابوں کی گہری پڑھائی بھی شامل تھی۔ ڈریگن کیپسول کو زمین سے مکمل طور پر کنٹرول کیا جا رہا ہے ، لیکن اگر رابطہ ٹوٹ جاتا ہے تو پھر مسافروں کو ٹچ پیڈ اسکرین خود چلانی پڑے گی ۔ اب تک صرف پیشہ ور خلاباز جنہوں نے کئی سال تک خلا میں اپنی سیر کے لیے تربیت حاصل کی تھی اور جن پر مکمل اعتماد کیا گیا تھا انہی کو خلا میں جانے کے لیے چُننا گیا تھا اور یہ ایک بہت مشکل اور تکلیف دہ مرحلہ تھا۔ اب ایلون مسک کا خیال ہے کہ پرعزم شوقیہ لوگ بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ کیا آپ اس کے لیے تیار ہیں؟
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ یہ سب کتنا خطرناک ہے؟ جہاں تک خلابازوں کے ساتھ پروازوں کا تعلق ہے تو اس میں اسپیس ایکس کا اب تک ایک بہترین ریکارڈ موجود ہے۔ ڈریگن کیپسول کو بھی عملے کے بغیر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن لایا گیا تھا اور اس نے 24 ٹیسٹ پروازیں بھی کامیابی سے طےکیں تھیں۔ فالکن 9 راکٹ کی لانچنگ بھی ہمیشہ اچھی ہی رہی ہے ، اس کی 123 ٹیسٹ پروازوں میں سے صرف دو پروازیں مسائل کا شکار ہوئی تھیں ۔ اس راکٹ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے چھوٹے دھماکہ خیز اُلٹراباڈی ، کیپسول کو راکٹ کی نوک سے الگ کردیتے ہیں، اور پیراشوٹ اسے محفوظ طریقے سے زمین پر واپس اتارلیتے ہی…لیکن اس مشن میں شامل ہر ایک کے لیے یہ بات بالکل واضح ہے کہ خلا میں ہر پرواز خطرے سے دوچار ہوسکتی ہے ۔ عملے کے ارکان کو لازمی طور پر قریبی رشتہ داروں کو الوداعی خط لکھنا پڑتا ہے جو کسی حادثے کی صورت میں اُن کے حوالے کیا جاتا ہے ۔ یہ واضح نہیں ہے کہ کیپسول کے اوپری حصے میں جو دیکھنے کا گنبد نما حصہ ہے کیا وہ Inspiration4 مشن کو زیادہ خطرناک بنا سکتا ہے؟اسپیس ایکس نے اسے خاص طور پر خلائی سیاحت کے لیے ڈیزائن کیا ہے اور اسے نصب کیا جہاں خلائی اسٹیشن پر ڈاکنگ کے لیے ڈاکنگ پورٹ عام طور پر واقع ہوتاہے۔ ناقدین اسے ایک مثال کے طور پر دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح اسپیس ایکس بعض اوقات جمالیاتی حس کو ترجیح دیتا ہے جو کہ سیکورٹی میں ناسا کے بنائے خلائی سفر سے کہیں بہت سے زیادہ آگے ہے۔
اسپیس تک رسائی کی اونچائی کو بھی ایک خطرہ سمجھا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود آئزک مین اپنی کوششوں میں کامیاب نظر آرہے ہیں ۔ کچھ نہیں تو کم از کم نیٹ فلکس پر موجود ایک دستاویزی فلم اسی انسپریشن 4 مشن کی تاریخ کو بیان کررہی ہے۔کیا یہ واقعی خطرے کا کھیل ہے؟ اگر آپ پرواز پر یقین رکھتے ہیں تو سوچیں کہ انسپریشن 4 کا عملہ بھی اپنی زندگی بھر کے سب سے اہم اور انوکھے سفر پر روانہ ہوچکا ہے۔ خلا میں تین دن ایک عام مسافر کے لیے ایک بہت طویل وقت ہے کیونکہ ان چاروں کو صرف نو کیوبک میٹر میں گزارنا ہے جو کہ تقریبا ایک پک اپ ٹرک کی گنجائش کےبرابر ہے ۔ بے وزنی کی کیفیت اس تنگ جگہ میں آپ کی مدد کرتا ہے کیونکہ آپ پھر ایک ہی وقت میں خلا میں تیرتے ہوئے پوری جگہ استعمال بھی کرلیتے ہیں اس لیے تنگی کا احساس بھی جاتا رہتا ہے جو اصل میں ایک بڑا چیلنج ہے۔ کچھ خلائی مسافر اپنے سفر کے بعد بھی اُلٹی اور چکر آنے کے عمل سے ایک ہفتے تک لڑتے رہتے ہیں ،طوفانی سمندروں کے پانی کے جہازوں کے مسافروں کی طرح۔ مشن کے دوران گھبراہٹ کے حملے یا خوفزدہ ہونا بھی ممکنات میں شامل ہیں، خاص طور پر عملے کے ارکان کا کسی نفسیاتی دباؤ کا شکار ہونا بھی خارج از امکان نہیں ہے ۔ جیسا کہ انسپریشن 4 کے معاملے میں یہ زیادہ ممکن نظر آرہا ہے کیونکہ یہ کوئی پروفیشنلز نہیں ہیں ۔ اس کیپسول میں ہنگامی حالت میں کسی شخص کو ایک جگہ پر رکھنے کے لیے بورڈ میں کیبل ٹائی اور ٹرانکلیزر بھی موجود ہیں۔
عملے کو اس تنگ جگہ کے پروگرام کے ساتھ اس پر پیدا ہونے والے مسائل کوسمجھنے اور کم سے کم مسائل پیدا کرنے کی بھی چھوٹی سی ٹرئینگ دی گئی ہے ۔ ایک طرف اس سفر کا کمانڈ آئزک مین کے ہاتھوں میں ہونے کے باوجود اس کے دوسرے ساتھی مسافروں کو بھی مسلسل معمول کی جانچ پڑتال کرنی پڑرہی ہے۔ اس کے علاوہ ، زمین پر ویڈیو سوئچ کی منصوبہ بندی بھی ہے ، نیز سادہ سائنسی تجربے کے لیےخون کے نمونے بھی لیے جارہے ہیں ، سیان پراکٹر شاعرہ ہیں ُ کرس سیمبروسکی گانے گا کر دوسروں کا دل بہلا رہے ہیں ۔ درمیان میں ٹھنڈا پیزا بھی کھانے کے لیے موجود ہے اور اس کیپسول میں نیند کی ایک پُر مسرت جھپکی مارنے کی بھی اجازت ہے۔
عام طور پر خلائی مسافروں کو آنتوں میں جگہ بنانے کے لیے ٹیک آف سے پہلے انیما دیا جاتا ہے۔ لیکن کسی وقت بھی فطرت آپ کے معدے میں سخت دباؤ ڈال سکتی ہے اس کیفیت سے نپٹنے کے لیے ڈریگن کیپسول میں ایک قسم کا ٹوائلٹ بھی بنایا گیاہے ، جس کی تفصیلات کے بارے میں اسپیس ایکس نے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئے ہے – شاید اس لیے کہ یہ آلہ روسی سویوز کیپسول کی طرح کام کرتا ہے ۔ امریکی خلاباز کرس ہیڈ فیلڈ نے ایک بار اس کےمتعلق بتایا کہ وہ کیسے کام کرتا ہے۔ اس کے مطابق کوئی ایک قسم کی چمنی طرز کی چیز ہے جو اخراج کو دھویں کی طرح تبدیل کرکے جذب کرلیتا ہے اور پھر انہیں ایک ٹینکی میں منتقل کردیتا ہے۔ لیکن یہاں یہ سوال پھر بھی ابھرتا ہے کہ یہ آلہ آپ کہاں رکھتے ہیں؟ بظاہر لگتا ہے کہ اسپیس ایکس نے اس کام کے لیے کیپسول کا ایسا علاقہ منتخب کیا ہے جو نشستوں کے اوپر ، براہ راست دیکھنے کے گنبد کے نیچے ہے جہاں آپ ایک پردہ بھی کھینچ سکتے ہیں ، جو شاید اسی رازداری کے لیے لگایا گیا ہے۔ آئزک مین نے بھی اس کے بارے میں یہ کہہ کر مسئلے کا حل یوں بتایا کہ “جب لوگوں کو باتھ روم جانا پڑے گا تو وہ شاندار نظارہ بھی دیکھتے ر ہیں گے ” ۔ لو جی بات ہی ختم ہوگئی۔۔
ایلون مسک سمیت ڈریگن کیپسول کی پہلی انسانی پرواز ایک ایسا واقعہ ہے جس پر پوری انسانیت خوش ہو رہی ہے۔ ٹیسلا اور اسپیس ایکس کا مالک مردوں اور عورتوں کو جلد از جلد مریخ پر لے جانا چاہتا ہے تاکہ وہاں بھی انسانی کالونی قائم کی جا سکے۔ ایسی خلائی سیاحت وہاں کے راستے کے لیے ایک ستون ہے۔ عام شہریوں کو جو مالدار بھی ہوں اورخلا کے لیے دلچسپی بھی رکھتے ہوں آگے آئیں تاکہ اسپیس ایکس کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔ مسک خاص طورامریکہ میں انسپریشن 4 مشن کے بارے میں بہت پرجوش ہیں ۔ دوسری طرف ناقدین کا خیال ہے کہ خلائی سیاحت بہت زیادہ عرصے تک لاٹری جیتنے والوں اور انتہائی امیروں کے لیے ہی ممکن ہوگا ۔ ایلون مسک کا خیال مگر مختلف ہے وہ کہتے ہیں کہ امیر یاغریب خلا کا سفر ایک دن سب کے لیے ممکن ہوگا۔
دوسری طرف 200 ملین ڈالر کے اس مہنگے ترین پروجیکٹ پر تنقید بھی بہت کی جارہی ہے۔ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اس پروجیکٹ سے زمین پر رہنے والے غریبوں کا مزید مذاق اُڑا گیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں