56

جرمنی میں عدالت نےآذان پرعائد پابندی ختم کردی

جرمنی کے شہر مونسٹر کی عدالت نے مقامی مسجد میں اذان پر عائد پابندی پانچ سالا قانونی تنازعہ کوختم کر دیا۔مغربی جرمنی کے شہر مونسٹر کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقامی مسجد کو نماز جمعہ کے لیے آذان دینے کی اجازت ہے۔ عدالت نے یہ فیصلہ اوہرایر کنشویک قصبے کی انتظامیہ کی اس اپیل پر سنایا جس میں مسجد کو آذان دینے پر عائد پابندی کے سابقہ فیصلے کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ خیال رہے کہ 2018 میں جرمنی میں ایک مقامی عدالت نے مسجد کے قریب رہنے والے ایک مقامی مسیحی جوڑے کی شکایت پر جمعے کی نماز کے لیے مسجد میں آذان دینے پر پابندی لگا دی تھی۔ یہ جوڑا مسجد سے تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رہتا تھا۔ اس نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ مسجد کے موذن کے ذریعہ جمعے کے روز لاؤڈ اسپیکر پر دی جانے والی آذان ان کے مسیحی عقائد اور مذہبی آزادی کے منافی ہے۔
مقامی عدالت نے تاہم مذکورہ مسیحی جوڑے کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا کہ آذان ان کی ‘مذہبی آزادی‘ کے خلاف ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں