54

گداگری

شاپنگ مال کے باہر کھڑی سلمیٰ زار و قطار رو رہی تھی۔ ” اے میرے مولا! مجھ پر یہ کیسی مشکل آ پڑی ہے جہاں میں بالکل بےبس اور تنہا کھڑی ہوں…اے اللہ تو ہی میری مدد کر سکتا ہے۔ میرے حال پر رحم فرما دے.” وہ دھیرے سے چلتی ہوئی شاپنگ مال کی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔ اتنے میں ایک گاڑی اس کے قریب آکر رکی اور اس میں بیٹھیں مسز روحان کی نظر یک دم لاچار اور بےبس سلمیٰ پر پڑی.
“اسلام وعلیکم بہن! آپ ٹھیک ہیں؟ آپ رو کیوں رہی ہیں؟” انہوں نے تشویشناک لہجے میں اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ سلمی کا قفل ٹوٹتا ہے اور وہ کہتی ہے۔
“میڈم میرا بیٹا بہت سخت بیمار ہے۔ ﮈاکٹروں نے کہا ہے کہ اگر جلد از جلد آپریشن نہ کیا گیا تو اس کی جان خطرے میں پڑ سکتی ہے…میرے تمام احباب اور دوستوں نےمیری مدد کرنے سے منہ موڑ لیا ہے…میں اپنی تمام جمع شدہ رقم علاج پر لگا چکی ہوں اور اپنا گھر بھی گروی رکھ دیا ہے جو کہ میرے شوہر کی تمام عمر کی محنت تھی۔ اب میں اپنے بیٹے کو کھونے کا غم برداشت نہیں کرسکتی۔ وہ میرے شوہر کی آخری نشانی اور امانت ہے…” سلمیٰ کے آنسوؤں میں کچھ اور تیزی آ گئی۔
“برائے مہربانی آپ روئیں نہیں۔ سب بہتر ہوگا” مسز روحان نے اس کا دکھ اپنے دل پر محسوس کیا۔
“کیسے بہتر ہوگا! میں یہاں پچھلے چار گھنٹے سے اپنے بچے کی زندگی کے لیے بھیک مانگ رہی ہوں لیکن ہر کوئی مجھے دھتکار رہا ہے۔ میری آنکھوں میں چھپی سچائی کسی کو نظر ہی نہیں آتی” سلمیٰ دکھ سے بولی.
” دیکھیئے بہن! آج کل لوگ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ گداگروں کا کاروبار ہے جہاں وہ اپنی عزت نفس کو بیچ کر اپنے آپ کو گرا کر لوگوں سے بھیک مانگتے ہیں۔ اس لیے کسی نے آپ کی پکار پر لبیک نہیں کہا…ہاں یہ بات سچ ہے کہ اس جہاں میں تمام لوگ ایک جیسے نہیں ہیں کچھ حقیقت میں مستحق و لاچار اور بے بس ہوتے ہیں…مگر آپ بالکل بھی فکر مند نہ ہوں اللہ پاک نے مجھے آپ کے لیے وسیلہ بنا کر بھیجا ہے۔ میں آپ کی ضرور مدد کروں گی. مجھے اسپتال لے چلیں” مسز روحان نے سلمیٰ کو سہارا دے کر کھڑا کیا۔
“آپ سچ کہہ رہی ہیں؟” سلمیٰ نے بےیقینی سے انہیں دیکھا۔
“ہاں میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں۔ آ کر گاڑی میں بیٹھیئے۔ ہم ابھی اسپتال چلتے ہیں” وہ اسے لیے گاڑی کی طرف چلی آئیں جبکہ سلمیٰ ابھی تک بےیقینی کی کیفیت میں تھی۔
مسز روحان نے اسپتال کے تمام واجبات ادا کر دیے….عامر کا آپریشن بھی شروع ہو گیا۔
“میں چلتی ہوں سلمیٰ! اپنا خیال رکھنا اور ہاں جیسے بھی حالات ہوں اللہ سے امید کا دامن کبھی مت چھوڑنا اور اس کی ہی فقیری اختیار کرنا وہ خودبخود تمہارے لیے آسان راستے معین کر دےگا..میرے جانے کا وقت ہے میں چلتی ہوں اللہ پاک تم کو ہمیشہ خوش رکھے.” یہ کہہ کر مسز روحان باہر نکل گئیں جبکہ سلمیٰ آنکھوں میں تشکر لیے انہیں دیکھتی رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں