پاکستان گذشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا ہے جس کے سبب ملکی اداروں کو ناقابل تلافی نقصانات اٹھانے پڑے. ان میں ہماری قومی ہواباز کمپنی پی. آئی. اے (پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن) بھی شامل ہے جس کو شدید خسارے کا سامنا رہا. علاوہ ازیں دہشت گردی کے خوف سے پاکستان کے لئے غیر ملکی ہواباز کمپنیوں کی پروازیں معطل ہوجانے سے بھی پاکستان کی معیشت کو بھاری نقصان پہنچا. خاص طور پر شعبہ تجارت اور سیاحت اس سے بے حد متاثر ہوئے.
تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ حالیہ برس میں دہشت گردی میں کمی اور ملک میں استحکام دیکھنے میں آیا ہے جس کی بدولت کاروبار کے لئے غیر ملکی کمپنیوں کی نظریں دوبارہ پاکستان کی جانب اٹھ رہی ہیں. اسی ضمن میں وفاقی وزیر برائے نجکاری اور ہوابازی جناب محمد میاں سومرو نے وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کے ‘صاف اور سبز پاکستان’ پروگرام کے حوالے سے ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر جاری مہم ‘ایک ملازم ایک درخت ‘ کے تحت کراچی کے ہوائی اڈے پر پودا لگانے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قوم کو خوشخبری دی کہ
‘ غیر ملکی ہواباز کمپنیاں پاکستان میں اپنی پروازیں دوبارہ شروع کرنے میں خاصی دلچسپی رکھتی ہیں. ان میں ایئر فرانس، نورویجیئن ایئر اور سعودی ایئر لائنیں اولین ہیں. اس سلسلے میں پیش رفت کے لئے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے.
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غیر ملکی کمپنیوں کو کاروبار میں آسانیاں اور سہولیات کی خاطر نئی ایوی ایشن پالیسی مرتب کی گئی ہے جسے وفاقی کابینہ کو ارسال کردیا گیا ہے. نئی پالیسی مرتب کرنے کا مقصد آپریٹروں کو مراعات دینا اور مسافروں کو مزید سہولیات فراہم کرنا ہے . اس طرح کے اقدامات شعبے میں خاطر خواہ بہتری اور ملک کی اقتصادی ترقی میں معاون و مددگار ثابت ہونگے.
خیال رہے کہ برٹش ایئر نے بھی پاکستان میں ایک دہائی کے بعد آئندہ سال جون سے اپنا فضائی سفر بحال کرنے کا اعلان کیا ہے. جس کی ابتدائی پروازیں لندن کے ہیتھرو کے ہوائی اڈے سے اسلام آباد کے نئے ہوائی اڈے پر اتریں گی.