پاکستان کی سوغات ، مشہور میٹھائی جو کراچی ایئر پورٹ چیک ان کے بعد خریدی تھی ، وہ اسٹاک ہوم حوائی اڈے پر ضبط کر لی گئی ۔ اس معاملے کو میں نے اپنے فیس بک پر شیئر کیا تو بہت سے دوستوں کے میسج اور فون آنے لگے کیونکہ پاکستان سے یورپ آنے والے پاکستانیوں کا ان اشیاء کو لانا معمول کی بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے سوچا جتنی معلومات مجھے ہے وہ آپ تک پہنچائی جائے۔

سویڈن کے حوائی اڈے کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ یہاں امیگریشن کاؤنر سے گزرنے کے بعد سے لے کر خارجی دروازے تک شاید و ناظر ہی کوئی عملہ آپ کو نظر آئے، بہت منظم طریقے سے بیلٹ سے اپنا سامان لے کر آپ حوائی اڈے سے باہر آجاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہاں لوگوں کی ایمانداری بھی بتائی جاتی ہے آپ کے سامان کا ٹیگ وغیرہ بھی چیک نہیں ہوتا لیکن خارجی دروازے سے پہلے ایک بورڈ ضرور نظر آتا ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ اپنا سامان کسٹم میں ڈکلیئر کروائیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اشیاء جن پر ڈیوٹی ہے ان کو آپ خود ڈیکلئر کریں۔

میں پاکستان سے واپس سویڈن پہنچا تو اسٹاک ہوم ہوائی اڈے پر کافی تعداد میں کسٹم آفیسرز نظر آئے، اور اپنا سامان وصول کرنے کے بعد مجھے ایک آفیسر نے روکا اور سامان اسکیم مشین میں ڈالنے کو کہا اور پھر سامان کھولا گیا۔ میں ماحول کا جائزہ لیتے ہوتے آفیسر سے کہا کہ میں 15 سال سے سفر کر رہا ہوں پہلی بار میں آپ لوگوں کے یہاں دیکھ رہا ہوں جس پر خاتوں آفیسر نے مسکرا کر کہا کہ میں یہاں 20 سال سے یہی کام کر رہی ہوں۔

یورپین یونین ممالک کے علاوہ کسی بھی ملک سے اگر آپ سویڈن آرہے ہیں تو گوشت اور ڈیری مصنوعات ساتھ نہ لائیں۔ کوئی بھی کھانے پینے کے اشیاء سویڈش بورڈ آف ایگریکلچر کے پرمٹ کے بغیر سویڈن نہیں لائی جاسکتی ۔ فوڈ ڈکلیئر نہیں کرنے کے صورت میں بھاری جرمانہ اور پلنٹی لگ سکتی ہے۔ گوشت اور ڈیری مصنوعات پر پاندی کی وجہ معاشرے کو خطرناک بیماریوں سے بچانہ ہے،پرندوں اور جانورو ں میں پائی جانی والی بیماریوں کا اس ذریعے سے یورپ میں آنے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ کھانے پینے کے چیزیں ای یو ممالک کے علاوہ بغیر پرمٹ نہیں لا سکتے۔

مزید معلومات کے لیے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں
https://www.tullverket.se/4.7df61c5915510cfe9e75a05.html