64

فالُن کی کان سویڈن کی معیشت کا گڑھ تھی

بلدیہ دالرنا کے نواح میں واقع سیاحتی مقام فالُن اپنی تاریخ اور معیشت کی بنا پر طویل عرصے مرکزِ نگاہ رہا ہے۔ایک وقت تھا جب فالُن سویڈن کا دوسرا سب سے بڑا شہر تھا جسے تانبے کی کان کی بدولت بین الاقوامی شہرت حاصل تھی۔ یورپ کا دو تہائی تانبہ فالُن کی کان سے آتا تھا۔ جب کارل وون لن نے 1734 میں دالرنا کا سفر کیا اور فالُن پہنچے تو انہوں نے خاص طور پر ہوا کے معیار کا ذکر کیا اور یہ کہ کان کے گرد کتنی خراب ہوا ہے ہوورٹیل کو لگتا تھا کہ تیز سردی اور نقصان دہ تانبہ کا دھواں کی اصل وجہ زیرِ زمین لاوا ہے جو کہ زمین میں موجود تانبہ کے ذرات کو جلا رہا ہے۔ جب آپ کھدائی کے آس پاس چلتے ہیں تو پتھر کے ٹیلے کے گرد گندھک آلود بو محسوس ہوتی ہے۔ تاہم یہ گندھک کے اُس گندے دھوئیں سے بہت دور ہے جو چند سو سال پہلے شہر پر آیا تھا جو کہ تانبے کی کھدائی کا نتیجہ تھا۔

700 صدی کے اوائل میں اس علاقے میں تانبے کی کانوں کا پتہ چلا تھا ، اور پھر اسی صدی کے آخر میں اس کی کان کنی شروع ہوگئی تھی۔ یہ سویڈن کے بطور ملک و قوم وجود میں آنے سے پہلے کی بات ہے۔ تانبے کی کان تاریخی طور پر سویڈن کی معیشت اور یوروپ میں پوزیشن کے لئے بہت اہمیت کا حامل رہی ہے۔ 1700 صدی کے وسط تک یہ کان یورپ کے تانبے کی دو تہائی ضروریات کرتی تھی۔

اگر آپ کان کے اندر کا دورہ کریں تو اندر موجود گزرگاہوں اور راہداریوں سے گذرنااور ان میں موجود تمام چیزیں ایک الگ ہی احساس دلاتی ہیں اور آپ کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ یہ سب کچھ انسانی ہاتھوں سے بنائے گئے ہیں اور ماضی میں کان کنوں کی زندگی اور ان کو لاحق خطرات کا بھی احساس ہوتاہے ۔

یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ کان کے اندر کام کرنے کے بھی کچھ اصول ہیں جیسا کہ اندر آپ سیٹی نہیں بجا سکتے ، آپ چلا نہیں سکتے ،اگر آپ ان قوانین پر عمل کرتے ہیں تو نتیجتاً آپ کو پھل (تانبہ) ملے گا اور عمل درآمد نا کرنے کی صورت میں جان بچانے کے لالے بھی پڑ سکتے ہیں۔کان کے دورے میں وہاں موجود روشنی کو بند کر کے یہ احساس بھی کروایا جاتا ہے کے اُس وقت وہ کان کن اُن حالات میں کیسا محسوس کرتے ہونگے جب انکی لالٹین خراب یا ٹوٹ جاتی ہو گی۔

تاریخ کے مختلف پہلو
کان کے میوزیم میں مختلف قسم کی چیزوں کی نمائشیں بہت اچھی طرح سے کی گئیں ہے جو کان کے بہت سے مختلف پہلوؤں کا احاطہ بڑی خوبصورتی سے کرتی ہیں ، جیسے فالُن کان کی تاریخ ، کان میں زندگی ، سویڈن کی تاریخ میں تانبے کا کردار ، کان کنی کی تکنیکی ترقی اور تانبے کو کس کس چیز میں استعمال کیا جاتا تھا۔ یہاں ہم یہ بھی جان سکتے ہیں کہ کان کن کون تھے اور تاریخ میں سینکت اوریانس یلس کا مقام۔
میوزیم میں دلچسپ انداز میں سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے یہ ایک ایسی جگہ ہے جو ہر عمر کے مطابق ہے۔

ایک شخص جس نے کان کنی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا وہ موجد کرسٹوفر پولیم تھا۔ وہ 1700 صدی کے اوائل میں اس کان میں ماسٹر آرٹسٹ ، کان کا انجینئر تھا اور خاص طور پر بجلی کی ترسیل کے کھمبوں کو سرنگوں میں بہتر بنانے میں مدد کرتا تھا۔ سنہ 2016 سے پہلے قابلِ استعمال 500 کراؤن کے نوٹ پر ، پولیم کو کان میں کام کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

کان میں قانون کا نفاذ
میوزیم میں موجود ایک کتاب یہ بھی بتاتی ہے کہ کان کے اندر کس طرح قوانین پر عمل درآمد ہوتا تھا جس کی وجہ سے کان کے اندر کا ماحول توازن میں رہے اور کوئی ناخوشگوار وقعہ نا ہو۔ فالُن کان ایک وقت میں سویڈن کی معیشت کا مرکز بن گیاتھا۔ میوزیم کا ایک حصہ صرف اس کے بارے میں بتاتا ہے کہ کان کو اپنا پہلا کام کیسے ملا کیونکہ چرچ کی گھنٹیاں ، صلیب اور دیگر چیزوں کے لئے تانبے کی ضرورت تھی۔ بڑھتے ہوئے شہر اور کام نے بہت سے لوگوں کو اس میں اپنے ساتھ شامل کیا۔ کان میں کام کرنے والوں کے علاوہ ، وہ لوگ بھی تھے جو یہاں کاروبار کرنا چاہتے تھے ،کاریگر ، کسان اور غیر ملکی ماہرین بھی موجود تھے۔ کان کنی کے لئے ایندھن اور بارودی سرنگوں کی بھی ضرورت پڑتی تھی اور یہ ضرورت ہر وقت بڑھتی جاتی تھی ۔ لکڑی اور کوئلے کو دور دور سے لایا جاتا تھا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ دالرنا کی آبادی کی اکثریت بالآخر کان کے کام میں شامل تھی۔ کان کے گردونواح میں دیکھنے اور سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے ایک بات اور جو ہمیں کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے وہ ہے متعدد عمارتوں پر نظر آنے والی علامت معلوم کرنے پہ پتا یہ چلاکہ یہ تانبے کی کیمیاوی علامت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں