18

” فخرِ پاکستان “

” اگر انسان چاہے تو کچھ بھی ناممکن نہیں“

اس مثال کو سچ کر دکھایا کراچی کی ایک ایسی لڑکی نے جس نےاپنی دسویں سالگرہ سے قبل ہی اپنے والدین کو کھو دیا تھا۔کلثوم ہزارہ 4 ستمبر 1988ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئی ۔ تین بہنوں اور ایک بھائی میں وہ سب سے چھوٹی ہیں. جب وہ صرف دو سال کی تھی تو اپنی ماں سے محروم ہوگئی ۔پانچ سال کی عمر میں ان کے والد انھیں مقامی کراٹے کلب لے گئےجہاں کلثوم نے اپنی زندگی کا مقصد اور کامیابی کا راستہ پا لیا اور پھر اسی شوق اور جنون نے کلثوم کو اس قابل بنایا کہ وہ پاکستان کی قومی خواتین کی کراٹے چیمپیئن بن گئی۔کلثوم اپنے + 61 کلوگرام کے زمرے میں آج بھی خواتین کی اعلی ترین کراٹےکی کھلاڑی ہیں۔
وہ ،2002 ءسے قومی سطح پر ایک نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہیں. جس میں انھوں نے درجنوں طلائی تمغے جیتے ہیں اور لگاتار چار قومی مقابلوں میں سونے کے تمغوں کی ہیٹ ٹرک حاصل کرنے کا اعزاز بھی حاصل کیا ہے۔
کراچی کے علاقے، لیاری میں ان کا کراٹے کلب بھی ان کی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کرتا رہاہے۔ وہاں موجود دوسرے ماہر کھلاڑیوں کا ساتھ (جیسے سعدی عباس) اپنی صلاحیتوں کو آگے بڑھانے میں ان کی مدد کرتا تھا .کلثوم ہمیشہ بین الاقوامی میدان میں پاکستان کی نمائندگی کرنا چاہتی تھیں اور یہ موقع انہیں 2005ء میں تہران میں چوتھے اسلامی خواتین کے کھیلوں کے مقابلے میں ملا. جہاں انہوں نے پانچویں پوزیشن حاصل کی۔ اور پھر 2010 ء میں ڈھاکہ میں ہونے والے ساؤتھ ایشین گیمز میں کانسی کے دو تمغے حاصل کرتے ہوئے وہ پوڈیم تک پہنچی۔ وہ کہتی ہیں کہ جب ان کے کسی کام کی وجہ سے بیرون ملک پاکستانی پرچم بلند ہوتا ہے تو اس سے انہیں بڑی خوشی ہوتی ہے۔
کلثوم نے اپنی شاندار کارکردگی کی بناپر نئی دہلی میں سنہ 2016 ء کی جنوبی ایشین کراٹے چیمپیئن شپ میں سونے اور چاندی کے تمغے بھی حاصل کیے۔‎انہیں رواں سال کے شروع میں 23 مارچ کو ‘آئیکون آف دی نیشن’ ایوارڈ اور 14 اگست 2017 ء کو کھیلوں میں ‘ایکسی لینس ایوارڈ’ سے بھی نوازا گیا۔ 13 ویں ساوتھ ایشین گیم جو کہ نیپال کے شہر کھٹمنڈو میں ہوئے، زخمی ہونے کے باوجود ایک سونے اور چاندی کا تمغہ حاصل کر کے جنوبی ایشیائی خطے میں ممتاز خواتین کراٹے کی کھلاڑی کی حیثیت سے نیا مقام حاصل کیا۔
کلثوم نے جامعہ کراچی سے ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن میں ماسٹر کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ اب وہ خود کو فٹنس کنسلٹنٹ اور کوچ کی حیثیت سے خدمت انجام دیتی ہیں اور مستقبل کی خواتین کو کراٹے سیکھنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں