53

” دور اندیشی“

” ارے اللہ اللہ کرکے اچھے شریف گھرانے میں رشتہ ہوا ہے تمہارے پرلے درجے کے نالائق بیٹے کا اور تم ہو کہ جہیز کی لسٹ پکڑوا کر آگئیں لڑکی والوں کو .“ زاہد علی بیوی پر برس پڑے.
” تو کیا خالی ہاتھ بیاہ کر لے آؤں بہو؟ کون سا میرے دس بیٹے ہیں، لے دے کر ایک ہی تو ہے ماشاءاللہ.لوگ تو بنگلہ، گاڑی، فرنیچر کیا کچھ نہیں مانگتے ، میں نے تو چند ہی چیزوں کا مطالبہ کیا ہے.“ رشیدہ تنک کر بولیں.
” 55 انچ کا اسمارٹ ٹی وی، فریج، اے سی، کوکنگ رینج، یہ سب چند چیزیں نہیں ہیں بیگم … تم جانتی ہو کہ وہ لوگ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں.چار بیٹیاں اور ہیں بیاہنے کو ان کی.ممکن نہیں ہوگا ان کے لئے اتنا کچھ کرنا . اور اگر تمہیں جہیز کا اتنا لالچ تھا تو بیاہ لاتی اپنی امیر بھتیجی کو . تمہارے بھائی بھاوج تو خوشی خوشی راضی ہوجاتے اور جہیز میں بنگلہ گاڑی سمیت سب مل جاتا.“ زاہد علی بیوی کو سمجھاتے ہوئے بولے.
رشیدہ شوہر کی بات پر ماتھے پر بل ڈال کر ناگواری سے بولیں.” نا بھئی! اتنی بیواقوف نہیں ہوں میں. بھابھی جہیز سے گھر تو بلاشبہ بھر دیتیں مگر میرے بیٹے کو اپنے قابو میں کر لیتیں. اچھی طرح جانتی ہوں میں اپنی چالاک بھاوج اور بددماغ بھتیجی کو. ابھی وہ مجھ سے سیدھے منہ بات نہیں کرتی ہے، شادی کے بعد تو چوٹی سے پکڑ کر باہر پھینکتی مجھے.“
پھر شوہر کے قریب آکر مسکرا کر کہنے لگیں.” زاہد ! میں نے کچھ سوچ سمجھ کے ہی حامد کا رشتہ خود سے کمتر گھرانے میں کیا ہے . آپ میری دور اندیشی کو نہیں سمجھ سکتے. یہ متوسط طبقے کے سفید پوش لوگ بیٹی کا رشتہ ٹوٹنے کی بدنامی سے بہت ڈرتے ہیں اور اسی ڈر سے سسرال والوں کے مطالبات کسی نہ کسی طرح پورے کرہی دیتے ہیں . گھا ٹے کا سودا نہیں کیا میں نے ، آپ دیکھ لیجئے گا! میری پسند کا جہیز بھی آئے گا اور غریب گھر سے آنے والی بہو بھی کبھی ہمارے سامنے چوں نہیں کرسکے گی، ہمیشہ دب کر رہے گی .“

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں