ہٹلر ایک مرتبہ اپنے ساتھ ایوان میں ایک مرغا لے کر آیا، اور سب کے سامنے اس کا ایک ایک پنکھ نوچنے لگا، مرغا درد سے بلبلاتا رہا مگر ہٹلر نے ایک ایک کر کے اس کے سارے پنکھ نوچ کر مرغے کو زمین پر پھینک دیا، اور جیب سے کچھ اناج کے دانے نکال کر مرغے کی طرف پھینک دیئے اور دھیرے دھیرے چلنے لگا، تو مرغا دانا کھاتا ہوا ہٹلر کے پیچھے چلنے لگا، ہٹلر دانا پھینکتا گیا ور مرغا دانا کھاتا اس کے پیچھے چلتا رہا. آخر کار وہ مرغا ہٹلر کے پیروں میں آکھڑا ہوا، ہٹلر نے اسپیکر کی طرف دیکھا اور ایک تاریخی جملہ کہا "جمہوری ملکوں میں عوام اس مرغے کی طرح ہوتی ہے، ان کے لیڈر عوام کا پہلے سب کچھ لوٹ کر انہیں اپاہیج کر دیتے ہیں. اور بعد میں انہیں تھوڑی سی خوراک دے کر ان کے مسیحا بن جاتے ہیں.”
حالیہ زمانے میں ہماری حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے.