قارئین! ذرا مُعاشرے کے اِقداری پہلو کی طرف نظر دوڑائیے بڑے ہی گھمبیر مسائل کی نشاندہی ہوجائے گی۔ کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ آج ہمارے سماج کا اِزدواجی معاملہ بہت زیادہ شکستہ ہوچکا ہے۔ لوگ پوری عمر گزار دیتے ہیں لیکن "اچھے/اچھی” کی طلب اور ضرورت پھر بھی باقی رہتی ہے۔ آپ سروے کی زحمت اُٹھائیں گے تو کئی راز طشت از بام ہوجائیں گے۔ آپ پر کئی عُقدے کھلیں گے کہ 50 کی پیڑی عبور کرنے والے انکل حضرات بھی "پہلی” کی موجودگی کے باوجود "دوسری” کی چاہ دل میں لئے اور حسرتوں کے انبار تلے زندگی گزار رہے ہوں گے۔ اُن کے الامان اور الحفیظ پر مبنی نعرہ کے دو بول ملاحظہ تو کریں، وہ کتنی حسرتوں سے کہتے ہیں:

"پہلی کی ہے، دوسری کی تاک میں ہیں، تیسری کی فراق میں ہیں اور چوتھی کو حاصل کرنے کی شدید خواہش ہے۔”

یہ حسرتوں کا ڈنکا صرف مُسلم سماج میں ہی بجتا ہے۔ باقی دیگر سماج میں "پہلی” کی گرہ باندھی گئی تو پھر کسی دوسری، تیسری اور چوتھی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ بیویوں کی کثرت کا روگ دل میں پالنا کس مقصد کی تکمیل ہوسکتی ہے یا کون سے اہداف کو عبور کرنا لازم ٹھہر جاتا ہے، یہ بحث حقیقی معنوں میں کسی مسئلے کی نشاندہی کرسکتی ہے۔ مُسلم سماج کا تنظیمی و ترتیبی پہلو اس اعتبار سے بھی مُنفرد مقام رکھتا ہے کہ یہاں احکام کی تعمیل اور مسائل کا حل بڑی باریک بینی سے پیش کیا گیا ہے۔ جیسا کہ مُسلم سماج کا سب سے بنیادی ذریعہ کلامِ عظیم قرآن مجید ہے۔ کلامِ ربّانی نے مردوں کی ایک ضرورت کو نُمایاں طور پر بیان کرکے اُس انسانی فطرت کو بڑھاوا دیا ہے جس کو نظر انداز کرنا کسی بھی طور صحیح نہیں ہے۔ قرآن نے کہا کہ اگر تم ایک پر اکتفاء نہیں کرسکتے تو دو کرلو، پھر تین کرلو اور چار سے آگے مت بڑھ جانا۔ یہ حکم حتمی ہے اور مردوں کو پابند کیا گیا ہے کہ چار سے زیادہ کی فرمائش اسلام کی تعلیمات میں ہرگز رواء نہیں ہے۔ لیکن ہم نے چار کی عدد تک پہنچتے پہنچتے اپنے لئے کئی جواز تراش لئے اور خود کے ضمیر کو مُطمئن کرنے کےلئے کہہ دیا کہ اسلام نے مردوں کو بیک وقت چار چار شادیاں کرنا رُخصت قرار دیا ہے۔ یہ عددیہ تصور کہ جس کے پسِ پردہ کئی سو راز پہناں ہیں، ہمارے لئے وہ تمہیدی جواز بن جاتا ہے کہ ہم سب کچھ کر گزرنے کے بعد سوالی بن جاتے ہیں اور معصومانہ انداز میں پوچھتے ہیں:

"اِسلام اِس بارے میں کیا کہتا ہے۔”

پھر خود ہی مُفسر بننے کے بعد جواز اور حلال کا فیصلہ کر ہی ڈالتے ہیں۔ قرآن کے مفہوم کے مطابق عددیہ چار کا تصور تو واضح ہے لیکن یہ عدد اس بات کا پابند ہے کہ اُن چاروں کے درمیان کوئی تفاوُت نہ ہو۔ مُساوات کا پہلو بہرحال برقرار رہنا چاہیئے۔ قرآن خدشہ کا اظہار کرتا ہے کہ تم نے چار کا ہندسہ عبور تو کرلیا لیکن مُساوات کا دامن تھامے رہنا تمہارے لئے مُشکل مرحلہ ہے اور تم مُساوات نہیں کرسکتے۔

ہمارے سماج کا سب سے مُشکل اور مُختلفٌ فیہ مسئلہ یہی ہے کہ ہر صاحبِ زوج مرد کہ جس نے پہلی شادی تو کرلی لیکن دوسری کی گنجائش اور خواہش دل میں ضرور چُھپا کر رکھتا ہے۔ ایک وجہ تو وہی ہے کہ بقولے: "قرآن نے کہا ہے” آپ اُن سے پوچھیں تو سہی کہ قرآن نے صرف "چار” کے قلعے کو فتح کرنے کو کہا ہے؟ قرآن تو اپنے مجمُوعی پیغام میں اِنسانیت کو تلاشنے اور غور و فکر کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ کیا کبھی اتفاق ہوا کہ غور و فکر کی اِنتہائی گہرائی میں گئے اور انسانیت سے متلعق کسی اہم مسئلہ کا حل نکالا؟ یہ سوال مُسلم سماج کے ہر اُس مرد سے ہے جس کی تیئں صرف شادیوں کی بجا آوری ہی اسلام ہے، باقی دیگر احکام کی پابندی بھلے ہی اُس سے چھوٹ جائے۔ اگر اب تک ایسا نہیں ہوا ہے اور صرف زوج پہ زوج رکھنے کا جذبہ پیدا ہورہا ہے تو یقین مانیں کہ اُن مردوں سے کسی حکم کی تعمیل نہیں ہورہی بلکہ خواہشِ نفس کا زیادہ سے زیادہ حصول ہی مقصدِ نگاہ ہے۔ دوسری وجہ میاں بیوی کے درمیان افہام و تفہیم اور ذہنی ہم آہنگی کا فُقدان ہے۔ اکثر مُسلم سماج میں لڑکیوں سے رائے لینے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی۔ البتہ دیگر مُعاشروں میں یہ روایت قدرے مختلف ہے۔ وہاں لڑکی ہو یا لڑکا بلوغت کی اسٹیج سنبھالنے کے بعد وہ خود مُختار ہوجاتے ہیں۔ اُن کو مرضی کی زندگی گزارنے کا مکمل حق ہے۔ یاد رہے کہ خود مُختاری کی یہ روش اکثر و بیشتر نئی نسل کو ضرورت سے زیادہ بے باک ہونے کا جواز فراہم کرتی ہے اور نتیجتاً سماج کے اُصول غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا مرضی کےخلاف رشتہ کا قیام بھی معاشرتی نُمو کےلئے فائدہ مند نہیں اور ضرورت سے زیادہ چُھوٹ بھی مُعاشرے کی بنیادوں کو ہلانے کا باعث بنتی ہے۔ البتہ مُسلم سماج میں اَن دیکھے اور نامعلوم رشتوں کا سلسلہ کچھ زیادہ ہی ہے۔ اکثر رشتوں میں لڑکی کو معلوم نہیں ہوتا کہ ہونے والے میاں کی جغرافیائی شکل و صورت کیسی ہے؟ اخلاقی و اقداری ہیئت کس قدر پُختہ ہے؟ آیا جو شخص آئندہ زندگی کا ہمنوا بننے جارہا ہے، اُس کی ذہنی سطح اِس قدر بُلند ہے کہ وہ کسی بھی مرحلے میں اپنی شریکِ حیات کو اوّلیت و فوقیت دینے سے نہیں ہچکچائے گا؟ غالباً باپ ہی وہ واحد ہستی ہے جو داماد کی شکل و صورت کو قبولِ صورت ہونے کی سند عطاء کرتا ہے، اخلاق و اقدار کی پرکھ بھی باپ کرتا ہے اور گمان کرتا ہے کہ داماد جی بالکل ایسے ہی ہیں، جس کا تقاضا میری بیٹی کو ہے۔ بتائیں ذرا! یہ کون سا الہام ہے کہ باپ بنا پوچھے سمجھ لیتا ہے کہ بیٹی کو اِن اِن خوبیوں کے حامل شوہر کی تلاش تھی۔ جب رشتہ قائم ہوجاتا ہے اور دو افراد کے درمیان نئی زندگی کی داغ بیل پڑی گئی تو آشکار ہوجاتا ہے کہ ارے! یہ مہاشے تھا کہ جس کو میرے شوہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے؟ اس حیرت کا ظاہر ہونا یقینی ہے۔ بسا اوقات حقیقت کُھلنے کے بعد میاں کو "نمونہ” کا لقب بھی تفویض ہوجاتا ہے۔ بیوی جی چٹ پٹی خبروں کی طرح سہیلیوں کو باخبر کرتی ہے اور دُہائی دیتی ہے کہ:

"ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے، ملا تو کیا ملا، نمونہ ہی تو ہے۔ اگر شادی کا مقصد اِس نمونے کا حصول تھا تو میں شادی ہر گز نہیں کرتی۔”

اُدھر میاں کا حال مُلاحظہ کریں۔ اگر شریکِ حیات کی شکل و صورت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہو تو خود کو دُنیا کا خوش نصیب اِنسان سمجھتا ہے۔ بھلے "حور کی بغل میں لنگور” کا قول صدق کیوں نہ آجائے۔ بیوی کی ہر ہر ادا کا دیوانہ ہونا شب و روز کا مقصد ٹھہر جاتا ہے۔ آپ سوچیں گے کہ صرف شکل و صورت ہی کسی مرد کی اوّلین ترجیح ہے؟ میرا نقطہ نظر ہے کہ مرد کا غالب جُھکاؤ شکل و صورت ہی ہے۔ اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو اکثر مردوں کے نزدیک کردار اور اخلاق ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ فوقیت تو اچھی شکل کو ہی دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر آج کے مردوں کے رُجحان دیکھتے ہوئے کسی سے تقاضا کریں کہ ایک افریقین لڑکی جس کا کردار بھی لائقِ تحسین ہے اور اخلاق میں تو حرفِ آخر ہے، کیا آپ اپنی شریکِ حیات بنائیں گے؟ البتہ رنگ کے اعتبار سے وہ بالکل بھی کالی ہے، یہ سوال اُن تمام کتابی باتوں کی نفی کرے گا جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ لڑکی کا کردار ہی سب کچھ ہے۔ شکل و صورت تو کوئی معنی نہیں رکھتے۔ اِس لئے کہ آج کے سماج میں مرد کی ترجیحات کا رُخ مادیت کی طرف گیا ہے۔ خُصوصاً اِنتخابِ زوجہ کا رُجحان مکمل طور پر ایک ایسا رُخ اختیار کر گیا ہے جہاں اُصول گئے تیل لینے، صرف ظاہری شبیہہ کو ہی اُصول گردانا جاتا ہے۔ ایسے میں کردار اور اخلاق کی طلب کسی کو نہیں ہوتی۔ جو دستیابی صورتحال ہے وہ شکل و صورت ہے۔ آج کے سماج کا نوجوان اِسی ایک چیز کا گرویدہ ہے۔ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر سارے ہی مرد شکل و صورت کے دیوانہ رہے اور انہیں خُوبرو دوشیزہ ہی چاہیئے تو پھر مدِمُقابل میں عورت کی طرف سے کس معیار کا اِظہار ہونا چاہیئے۔؟ کیا کسی دوشیزہ کو حق نہیں پہنچتا کہ اُس کے میاں میں مردانہ وجاہت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی، خُوبرو ہو، شکل و صورت کا بھی مُنفرد ہو، یہاں تک کہ وہ اپنے ہم عصر ساتھیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ حَسین نظر آئے۔ اگر آپ تجزیہ کریں اور وسیع برداشت کے حامل کسی سماج میں مشاہدہ بھی فرمائیں تو بظاہر عورت کی طرف سے مندرجہ بالا شرائط نمایاں طور پر نظر آئیں گی۔ لیکن تلخ حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو یہ بھی سنتے جائیں کہ بعض اوقات عورت کی خواہش اور حاجت ان میں سے کسی ایک شرط کی بھی مُحتاج نہیں ہوتی۔ ہم اپنی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت کے میاں کی شکل و صورت معمولی سی ہوتی ہے۔ یعنی قبولِ صورت سے بھی کم درجے کے حامل میاں ایک خوبصورت خاتون کی بغل میں کھڑا ہو تو پاس سے گزرنے والا انسان حسد اور رشک جیسے دو جذبات اپنے اُوپر طاری کرتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ بلکہ بڑبڑاتے ہوئے کہتا ہے:
"ایسی بھی کیا جوڑی کہ ایک سنگِ مرمر ہے تو دوسرا سخت مریل پتھر، ایک چاند سے مُشابہت کی قریبی مثال تو دوسرا گُھپ اندھیرے کی جیتی جاگتی تصویر، ایک کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ کوئی اپسرا ہے اور دوسرے پر نظر پڑتی ہے تو گمان ہوتا ہے کہ شاید بھیانک خواب کی تعبیر مل گئی۔ ایسا کیا ہوا ہوگا یا وہ منحوس گھڑی کون سی ہوگی کہ جس میں "حُور اور لنگور” نے ساتھ نبھانے کا فیصلہ کیا۔”
یہ ہے نظرِ فریب کا کرشمہ اور جلن، حسد اور رشک کا ملا جُلا ردِعمل۔ ایک ہونی کو انہونی قرار دے کر مرد کی تمام تر بُرائیاں مرکزِ نگاہ ٹھہر جاتی ہے۔ ممکن ہے کہ بغل میں کھڑی خاتون کی چاہت اور اُلفت اپنے میاں کےلئے بے اِنتہاء اور بے مثال و بے نظیر ہو۔ آپ کے فیصلے میں مرد عورت کے لائق نہیں۔ لیکن عورت کے فیصلے کے مطابق مرد لائق ہے تبھی تو وہ دونوں میاں بیوی کے روپ میں سماجیانہ عمل کا حصہ بن گئے ہیں۔ آپ کی شرارت پھر بھی نہیں رُکی، جھٹ سے بول پڑے کہ عورت کو یقیناً مرد کی دولت راس آئی ہوگی۔ وگرنہ اس لنگور میں کیا رکھا ہے۔ آپ کا فیصلہ جاری ہوا کہ عورت کے نزدیک مال و دولت، عزت و شہرت اور عہدہ دراصل وہ بے تحاشا نعمتیں ہیں جن کے ارد گرد گھومنا ہی اُس کا منشاء و مقصد ہے۔ گویا ہمارے سماج میں مرد کی طلب خوبصورتی ہے جبکہ عورت مال و دولت و شہرت اور عہدے کی دلدادہ ہے۔ وہ جو ہم کفو اور کردار و عمل کی بات ہے اُس کو فی الحال کتابی ہی رہنے دیں۔ یہاں تو ہم کفو کا مطلب آج تک کھوجنے کی جستجو ہی نہیں ہوئی۔ ابھی تک یہ فیصلہ نہیں ہوا کہ "ہم کفو” کا دائرہ کار کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔ نہ ہم مذہب و اقدار کو ہم کفو کے میزان میں تولنے میں کامیاب ہوئے، نہ شکل و صورت میں اور نہ ہی معیشت و صنعت و حرفت میں۔ ہم نے کھلا راستہ چھوڑ رکھا ہے جہاں کہیں سے بھی اشارہ کنایہ ہوا ہم نے وہاں "ہم کفو” کی اِصطلاح فٹ کرلی۔
بطور خُلاصہ میرا نقطہ نظر ہے کہ "ہم کفو” کو خوبصورتی، عہدہ، مال و دولت اور دیگر پُر آسائش چیزوں میں تلاش کرنے کے بجائے ذہنی ہم آہنگی اور ہم فکری میں دیکھا جائے۔ "دوسری” کی تاک کا نشہ بھی اب ختم ہوجانا چاہیئے۔ روز روز کی خواہش کہ "میں ایک اور کرلوں” سے چُھٹکارہ پانے کا واحد علاج ایک ہی کو حرفِ آخر کے طور پر انتخاب کیا جائے اور اس انتخاب کا تعلق ذاتی پسند سے ہونا چاہیئے۔
والسلام