68

کرونا کا عفریت پھر سر اٹھانے لگا ہے

سال 2020 کے شروعات سے دنیا بھر میں موت کا رقص کرنے والا عفریت کرونا جسے سائنس کی اصطلاح میں Covid -19 کا نام دیا گیا ہے اب تک 999,146 جانوں کا نذرانہ لے چکا ہے۔ بظاہر تو یہ ہی لگتا رہا ہے کہ شاید اس پر قابو پا لیا گیا ہے کیونکہ گذرے چند مہینوں میں متاثرہ افراد میں کمی دیکھی گئی ہے شاید اسکی وجہ لوگوں کا خوف کی بنا پر احتیاط کرنا تھا۔ لیکن جونہی زندگی معمول کی طرف اپنے قدم بڑھانے لگی لوگوں نے شاید احتیاط کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑ دیا اور بے خوف روزمرہ کی سرگرمیاں شروع کر دیں اور ایک دفعہ پھر اس قاتل کے لیے میدان ہموار کر دیا – ادارہِ عالمی صحت کے مطابق دنیا بھر میں متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے گو کہ اموات ابھی بھی کم ہیں لیکن اچانک سے اضافہ ایک فکر آئند بات ہے اور اس کی کیا وجوہات ہیں ان پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔ سویڈن میں گذشتہ ہفتے متاثرہ مریضوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے 17-24 ستمبر کے درمیان 855 نئے کیس صرف اسٹاکہولم میں لائے گئے ہیں۔ مریضوں میں مرد و عورت دونوں یکساں طور پر شامل ہیں بلکہ اس میں کچھ مریض نرسری جانے والے بچے بھی ہیں۔
سویڈن کے ادارہِ صحت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ ایک فکرمندانہ بات ہے اور ہم اسکی وجوہات جانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
اس وبا پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے موسمِ سرما میں اس بیماری میں اضافے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ تو یہ سمجھنا کہ اس قاتل وبا سے جان چھٹ گئی ہے بلکل غلط ہوگا اس لیے احتیاط اور فاصلہ برقرار رکھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں