Embed HTML not available.

کیا کرونا کا عفریت ایک بار پھر جانوں کا نذرانہ لے گا؟

دنیا بھر میں کرونا وائرس پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں کرونا وبا ایک دفعہ پھر سے اپنا سر اُٹھائے گی۔ کیا اس کی وجہ سرد موسم ہے یا کوئی دوسری وجہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔حالیہ دنوں میں یورپ اور گردونواں میں کیسز میں بہت تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو کہ گذشتہ لہر کے مقابلے میں دگنا ہے۔ کچھ کیسز تو ایسے بھی ہیں جو کہ اس سے پہلے بھی اس وبا کا شکار ہوئے تھے اور تشخیص کے بعد انکے جسم میں قوتِ مدافعت بھی پائی گئی تھی لیکن وہ پھر بھی اس کا دوبارہ شکار ہو گئے۔ کیا اس بیماری کی دوسری لہر کا اتنی تیزی سے اوپر جانا احتیاتی تدابیر کو نظرانداز کرنے کے باعث ہے؟۔سویڈن کے مقامی اخبار کے مطابق سویڈن کے وزیر اعظم اور انکی بیگم بھی قرنطینہ میں چلے گئے ہیں ایسا انہوں نے احتیاط کے پیشِ نظر کیا ہے کیونکہ انکے ایک قریبی رفیق میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ کب تک قرنطینہ میں رہیں گے اس کا فیصلہ ان کے Covid-19 کی جانچ کے بعد کیا جائے گا ۔ ساتھ ہی ساتھ یورپ کے کئی ممالک نے بھی دوبارہ لاک ڈاؤن میں جانا شروع کر دیا ہے انکا کہنا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہم ابھی سے اس وبا کو بڑھنے سے روک دیں تاکہ آنے والے کرسمس میں ہم اپنی مذہبی رسومات بھرپور طریقے سے منا سکیں اور ہمیں اس بیماری کے مزید بڑھنے کا خطرہ نہ ہو۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ وبا اور کون کون سے نئے رنگ دکھاتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں