Mawazna Shahzad Ansari 56

موازنہ

میرے بچپن کی بری عادتوں میں سے ایک بُری عادت ہے “موازنہ” ۔ پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج تک ہمارے والدین نے کبھی ہم بہن بھائیوں میں موازنہ نہیں کیا ۔ شاید اسی وجہ سے مجھ میں‌یہ برائی پختہ ہوگئی۔ اب یہ بات صابر کو کہاں معلوم تھی۔ حسب معمول دفتر سے چھٹی کے بعد میٹرو اسٹیشن پر صابر نے سویڈن کی خوبصورتی کی تعریفوں کے پُل باندھنا شروع کیے جس کی حقیقت سے آنکھیں نہیں موندی جاسکتی۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد صابر نے شروع کیا سویڈن اور پاکستان کی خوبصورتی اور صفائی کا موازنہ۔ موازنہ اگر غیر جانبدارانہ ہو اور اس میں سیکھنے کا عنصر موجود ہو تو کوئی برائی نہیں ہوتی۔ خیر! صابر نے کہا کہ آپ نے دیکھا ہی ہوگا کہ کیسے ہمارے شہر کی دیواروں پر پینٹرز اشتہارات سے دیورایں خراب کرتے ہیں اور شہر کی دیواروں کو بدنما بنا دیتے ہیں۔ میں جو بہت دیر سے اس موضوعِ موازنہ سے بیزار تھا ، صابر سے پوچھا”جناب، گھر سے دفتر تک کا یہ سفر تقریباً 20 کلومیٹر تو ہوگا” صابر نے کہا ہاں تقریباً اتنا ہی ہوگا۔ میں نے ٹرین کی کھڑی سے باہر اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے راستے میں کوئی ایسی دیوار نہیں جس پر چاکنگ نہ کی گئی ہو اور کہیں کہیں کوئی نازیبا الفاظ بھی لکھے گئےہیں ۔ٹرین کی پٹری کے ساتھ بنائی گئی ان دیواروں کے اندرونی طرف چاکنگ کرنا خطرناک بھی ہے۔سویڈن میں بھی دیواروں کا بُرا حال کر رکھا ہے. جس پر صابر نے جواب دیاکہ بھائی یہ تو آرٹ ہے جسے گرافٹی کہتے ہیں اور صابر کی بات سن کر میں لاجواب ہوگیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں