کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے کے ۵ اہم طریقے:

آپ اپنی طرزِ زندگی میں تھوڑی سی تبدیلیاں کر کے اپنا کولیسٹرول کافی حد تک کم کر سکتے ہیں . اِس سے نہ صرف آپکی صحت اچھی ہوتی ہے بلکہ آپ زہریلی داوئیوں سے بھی دور رہتے ہیں . جیسے کہ ہم جانتے ہیں کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے . ہمیں کس قسِم کی تبدیلیاں اپنی زندگی میں لانی چاہیں ؟ ذیل میں ۵ طریقے بتائے گئے ہیں:

۱) کھانے کا چناؤ بہتر کریں:

ہماری موجودہ حالتِ صحت ایک اتفاق نہیں بلکہ ہمارے روز مرہ کے کھانے ہیں . اگر آپ جسمانی طور پر فٹ نہیں ہیں تو یقیناً آپ کھانے کا چناؤ سہی نہیں کرتے اور آپ سالوں سے اِس پر عمل پیراں ہیں .

شکر ہے کہ آپ کے پاس اپنی عادت کو تبدیل کرنے کی صلاحیت ہے . یہ چند تجاویز ہیں جن کی مدد سے آپ اپنا کولیسٹرول یکدم ٹھیک کر سکتے ہیں اور دِل کی صحت  بھی بہتر کر سکتے ہیں .

صحت مند فیٹس بمقابلہ برے فیٹس:

تمام فیٹس برے نہیں ہوتے بلکہ ہمارے جسم کو فیٹس کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اپنے نظام کو چلا سکے خاص طور پر ہارمونل نظام کو .

موٹاپے سے خوفزدہ ہیں ؟ سچ تو یہ ہے کہ  صحت مند فیٹس کھانے سے   جسمانی فیٹس ختم ہوتے ہیں . تو پِھر غیر صحت مند فیٹس کیا ہیں ؟

غیر صحتمند فیٹس کو   saturated فیٹس بھی کہا جاتا ہے . یہ فیٹس ہمارے کولیسٹرول اور     lowdensity lipoprotein (LDL)  کو غیر صحتمندی کی طرف لے جاتا ہے .

saturated فیٹس میں پنیر ، پیزا ، دودھ سے بنے میٹھے ، sausages ،بیکن ، برگر ،  کم چکنائی والا دودھ ، پاستا ، مکھن ، تلے ہوئے سفید آلو اور بہت سی چیزیں شامل ہیں . یہ حیران کن بات ہے نا کہ یہی سب چیزیں آپکی پَسَنْدِیدَہ بھی ہیں۔ آپ اکیلے نہیں ہیں . ایک  عام امریکی کھانے میں ۶۰ فیصد saturated فیٹس ہوتے ہیں . اِس لیے موٹاپے کی بیماری بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے .

جو اچھے فیٹس ہیں ان کو unsaturated فیٹس کہتے ہیں . یہ دِل کے لیے مفید ہوتے ہیں اور کولیسٹرول کی سطح کو بہتر کرتے ہیں . صحت مند خوراک کے لیے آپ کو ایسا کھانا لیناچاہیے جس میں saturated فیٹس کی نسبت unsaturated فیٹس زیادہ ہوں . چند مثالیں یہ ہیں ہر قسم کا میوہ ، avacado ، سبزیزیاں ، see and nut oil جیسے کی سرسروں، زیتون ، سورج مُکھی ، مکئی کا تیل اور تیل مچھلی جیسا کہ    سیلمون ، pilchards ،    mackerel اور ٹَراؤُٹ .

اصول ہے کہ ہمیں اپنی روزمرہ کی کیلوریز کا ۷ فیصد سے کم حصہ saturated فیٹس سے لینا چاہیے . ہمیں صحت مند فیٹس لینے چاہیے تاکہ خود صحت مند رہیں اور lipid کی سطح بھی ٹھیک رہے .

۲) زیادہ ورزش کریں:

بہت سے لوگ ورزش سے بھاگتے ہیں مگر سچ تو یہی ہے کہ  اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے لیے خاص طور پر کولیسٹرول کی سطح کو نارمل رکھنے کے لیے ورزش بہت ضروری ہے

تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ لوگ جو زیادہ ورزش کرتے ہیں انکا HDL کولیسٹرول زیادہ ہوتا ہے بہ نسبت ان لوگوں کے جو ورزش نہیں کرتے . ایسے لوگوں کی مجمعوعی صحت بھی اچھی ہوتی ہے . کس قسم کی ورزش کرنی چاہیے ؟

قلبی بیماریوں سے بچنے کے لیے سب سے بہترین طریقہ ہے کہ aerobics  ( جس کو کارڈیو بھی کہا جاتا ہے ) اور  resistance  ٹریننگ کو ساتھ ساتھ کیا جائے .

ماہرین کی رائے ہے کہ کم اَزکم ۳ سے ۴ مرتبہ ہفتے میں درمیانی سے انتہائی شدت کی ایروبیکس کرنی چاہیے . اِس سے کولیسٹرول کی سطح بہتر ہوتی ہے اور خون کا دباؤ ، اسٹروک اور دِل کے دورے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے .

ہم  اِس پر کس طرح قائم رہیں ؟ سب سے اچھا طریقہ ہے کہ آپ کوئی جم دوست بنالیں یا کوئی فٹنس سینٹر میں داخلہ لے لیں . اِس سے آپکا  ورزش کا سفر پرمزہ ہو جائے گا . کوئی سی بھی ورزش کریں اور اِس کی پرواہ نہ کریں کہ کیا آپ سہی کر رہے ہیں . چاہے آپ باغ میں چہل قدمی کریں ، سیڑھیاں چڑھیں ، سائیکل چلائیں یا کمرے میں چھلانگیں ماریں .

چند ورزیشوں کی ذیل میں آپکی آسانی کے لیے فہرست بنائی گئی ہے :

یہ  درمیانی   شدت کی سرگرمیاں ہیں:

کمرے میں رقص کریں۔

ٹینس کھیلیں۔

باغبانی

سایئکل چلائیں۔

 انتہائی شدت کی سرگرمیاں یہ ہیں :

پہاڑ پر پیدل چلیں یا بھاری بستہ پکڑ کر ۔

تیراکی

آہستہ چلیں، تیز تیز چلیں یا بھاگیں۔

رقص کریں

سایئکل چلائیں

۳) وزن کم کریں:

اگر آپ نے پہلی دو حکمتِ عملیوں ( صحیح خوراک اور ورزش ) پر عمل کیا ہے تو آپکا وزن ویسے ہی کمی کی طرف آ رہا ہو گا .

کیا آپکو معلوم ہے کہ صرف وزن گھٹانے سے ہی آپ اپنے کولیسٹرول کی سطح  کوکم کر سکتے ہیں . اپنے وزن کو ۱۰ فیصد کم کرنے سے ہی آپ کے کولیسٹرول کی سطح یکسر نارمل ہو جاتی ہے . اِس لیے ایک صحت مند وزن برقرار رکھنے کے لیے محنت کرنی چاہیے .

وزن کو گھٹانے کے لیے mayo کلینک کا مشورہ ہے کہ  چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں کی جائیں . اپنے روزمرہ کے کاموں میں آہستہ آہستہ جسمانی سرگرمیوں کو شامل کریں جیسا کہ  تیز تیز چلنا یا گھر کے کام کرنا ، باہر کھانے کے بجائے گھر کا کھانا کھایئں . ان سب چیزوں سے وزن کم ہو گا اور کولیسٹرول  کی سطح بھی .

۴)   الکوحل سے پرہیززیادہ تر ):

ایک بات کو ڈاکٹروں نے صیغئہ راز میں رکھا ہے کہ الکوحل سے کولیسٹرول بہتر ہوتا ہے اور دِل صحت مند ہوتا ہے۔ 

تحقیق بھی ثابت کرتی ہے کہ الکوحل کے استعمال سے سوزش کم ہوتی ہے اور زندگی کا دورانیئہ بڑھتا ہے۔ 

مگر اِس بات کو کئی وجوہات کی بنا پر راز رکھا گیا ہے کیونکہ پھر بہت سے لوگ اِس بات کو ناجائز استعمال کریں گے اور ٹنّو ں کے حساب سے الکوحل پئیں گے۔ 

متوازن مقدار سے پینا فائدہ مند ہے مگر الکوحل کی کثرت سے جگر کی خرابی ،  بلند فشارِخون ، دِل کا دورہ ، اسٹروک ، الکوحل کا نشہ اور موت  بھی ہو سکتی ہے۔

۵تمباکو نوشی سے اجتناب:

تمباکو نوشی  highdensity lipoprotein HDL کی سطح کو کم کرتی ہے . سگریٹ پینے سے موت بھی واقع ہو سکتی ہے . ایک صحت مند انسان اِس عادت سے بہت سی بیماریوں میں گھر جاتا ہے . سانس لینے کے نظام کو نقصان پہنچانے کے علاوہ  یہ ہمارے دورانِ خون کے نظام کو روکتا ہے جس سے سوزش ہوتی ہے اور دِل کا دورہ پڑتا ہے۔

اِس لیے اگر آپ تمباکو نوشی کرتے ہیں تو اِس کو فوراً بند کر دیں . نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے خاندان اور ارد گرد کے لوگوں کے لیے بھی . تمباکو نوشی سے آس پاس کے لوگوں کو بھی اتنا ہی خطرے  ہے جتنا کہ آپ خود کو. اِس سے پرہیز کرنے سے HDL کولیسٹرول کی سطح بہتر ہوگی . تحقیق سے یہ بات ثابت بھی ہوئی ہے۔

اگر طرزِ زندگی میں تبدیلیاں لانے کے باوجود کوئی فرق نمایاں نہ ہُوا تو پھر؟ ؟

اگر آپکی صحت ایک ایسے مقام پر ہے کے طرزِ زندگی میں تبدیلیاں لانے کے باوجود آپ کے کولیسٹرول کی سطح کم نہیں ہوتی تو آپ کو اپنے ڈاکٹر سے رُجوع کرنا چاہیے تاکہ آپکو دوائی دی جا سکے . مگر یہ بات تحقیق سے بھی ثابت ہوئی ہے کہ زندگی کے طرزِعمل میں تبدیلی لانے سے ہمیں کولیسٹرول کو قابو میں کرنے کیلئے دوائی کا استعمال کم کرنا پڑتا ہے. اِس لیے ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور اِس پر کاربند رہنا چاہیے .

ہائی کولیسٹرول کا علاج:

آپکو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے کہ آپکی صحت کو کتنا خطرہ ہے اور اس کے لیے بہترین علاج کیا ہے . مگر یاد رہے کے طرزِ زندگی کے بدلاؤ سے دِل کے دورے اور اسٹروک کو قدرے کو کم کیا جا سکتا ہے.