84

چڑیا گھر

سلیم صاحب اخبار پڑھتے ہوئے اچانک بولے۔ ”یہ سنئے ذرا! کیا عجیب خبر ہے۔ کچھ فنکاروں کا کہنا ہے کہ چڑیا گھروں کو بند کردینا چاہیئے۔ جانوروں کو قیدکر کے رکھنا ظلم ہے۔”
” بھئی بات تو سچ ہے، جنگلوں کی آزاد فضا میں رہنے والے جانوروں کو شہروں میں لاکر پنجروں میں قید کردیتے ہیں۔ صرف ہم انسانوں کی تفریح کے لئے۔” افروز بیگم بیٹے کی طرف دیکھ کر بولیں۔
” جی یہ تو بات ٹھیک کہی آپ نے۔” سلیم صاحب ماں کی تائید کرتے ہوئے بولے۔ پھر اخبار تہہ کر کے تپائی پر رکھتے ہوئے کہنے لگے۔ ” آپ کو پتہ ہے ان جانوروں کو کیسے ظالمانہ طریقے سے سدھایا جاتا ہے؟ انہیں کئی کئی گھنٹے بھوکا اور تنہا رکھا جاتا ہے اور صرف حکم کی تعمیل پر ہی کھانے کو دیا جاتا ہے۔ بہت جلد بیچارے جانور یہ سمجھ جاتے ہیں کہ آقاؤں کی بات ماننے میں ہی ان کی بہتری ہے۔”
“ابو کیا شیر اور چیتے کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتے ہیں؟” سات سالہ گڑیا نے معصومیت سے باپ سے پوچھا۔
” جی بیٹی! کیا شیر اور کیا بندر اور کیا ہاتھی۔ سب جانوروں کو ایسے ہی سدھاتے ہیں اور تیار کرتے ہیں چڑیا گھر میں رکھنے کے لئے۔” سلیم صاحب بیٹی کو سمجھاتے ہوئے بولے۔
پاس ہی بیٹھے اپنے موبائل فون میں مصروف سلیم صاحب کے بیس سالہ چھوٹے بھائی صفدر نے نظر اٹھا کر پہلے اپنے بھائی اور ماں کی طرف دیکھا اور پھر صحن میں ڈھیروں کپڑے دھوتی اپنی بھابھی کو دیکھتے ہوئے طنز سے بولا۔ ” اچھا اب میری سمجھ میں آیا کہ سسرال والوں نے اپنی بہوؤں کو سدھانا کہاں سے سیکھا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں