238

تبدیلی کے مراحل

تبدیلی لانے کے ۵ اہم مراحل ہیں . ہر مرحلہ انسانی رویئے کی تبدیلی پر روشنی ڈالتا ہے . اگر انسان تبدیلی کے لیے تیار نہ ہو تو اِس طرح وہ نئے صحت مند رویئے نہیں اپنا سکتا . طویل دورانیئے کے نتائج کے لیے چھوٹے چھوٹے قدم سب سے بہترین رہتے ہیں۔

غور و فکر سے پہلے:

اِس مرحلے پر انسان کا اپنا برتاؤ بدلنے کا کوئی اِرادَہ نہیں ہوتا . بہت سے لوگ اپنے مسائل سے بے بہرہ ہوتے ہیں . یہ لوگ تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہوتے .

حکمتِ عملی:

لوگوں کے علم ، رویئوں اور عقائد کا جائزہ لیں اور ان کو معلومات فراہم کریں .

غور و فکر :

یہ وہ مرحلہ ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ کوئی مسئلہ موجود ہےاور وہ اس پر قابو پانے کا سوچتا ہے . دوسرے لفظوں میں انسان اِس مرحلے میں تبدیلی کے لیے نہ تو عزم کرتا ہے اور نہ ہی کوئی حرکت . انسان اسی غور و فکر میں ہوتا ہے کہ کیا اس کا کوئی فائدہ ہو گا . سوچنے سے لے کر عمل کرنے تک کا فاصلہ مشکل ہے . ایسے میں اپنی عادتوں کو تبدیل کرنے کے فوائد اور نقصان کو دیکھنا فائدہ مند رہتا ہے .

 حکمتِ عملی:

ایسے میں حوصلہ افزائی کریں ، تبدیلی میں حائل رکاوٹوں اور ان کے حَل پر تبادلہء خیال کریں .

آمادگی:

اِس مرحلے میں آپ عمل کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں . شروعات کرنے کے لیے اپنےفائدے اور نقصانات کی فہرست کو دیکھیے . آپ اپنا منصوبہ کیسے بنائیں گے اور کیسے عمل کریئں گے ؟

حکمتِ عملی : منصوبہء تبدیلی بنانے میں مدد کریں اور حوصلہ افزائی کریں .

عمل:

یہ سب سے اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ اِس کے بغیر کچھ نہیں ہوتا . اِس مرحلے سے گزرنے کے لیے انسان کو وقت اور توانائی کی شکل میں بےپناہ لگن ہونی چاہیے . اسی میں آپ اپنے نئے عقائد ، خیالات اور عادات بناتے ہیں .

اپنی نئی عادات پر قائم رہنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ دیکھتے رہیں کہ آپ کیسا کر رہے ہیں ، اپنی ناکامیوں پر قابو پائیں اور اپنی محنت پر خود کو انعام دیں . اپنی پیشرفت کو ایک کتاب میں لکھیں . اِس سے آپ کو اپنی طاقت کو ماپنے کا موقع ملے گا. آپکو جہاں بہتری کی ضرورت ہے اسکی نشاندہی ہو گی اور اپنے مقصد پہ قائم رہنے میں آسانی ہوگی۔

حکمتِ عملی: تبدیلی کے فیصلے کو تقویت دیں، مسلسل حمایت کریں اور خوش آئند تبدیلی کے لئے زور دیں.

بحالی: maintenance

اِس مرحلے میں صحت مند خوراک یا جسمانی سرگرمیاں آپکی عادت بن چکی ہیں . اِس لیے اب ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ ہمیں چاہیے کہ غیر صحت مند چیزوں سے پرہیز کریں ، جتنا ہو سکے چیزوں کو دلچسپ رکھیں اور اپنی عادت کو نہ چھوڑیں .

حکمتِ عملی : جدت پیدا کریں اور اپنے آپ کو ترغیب دیتے رہیں . روزمرہ کے کاموں میں نئی سرگرمیاں شامل کریں ، جسمانی ورزش کے لیے نئے دوست ، کھانوں کی نئی تراکیب اور انعامات میں جدت لائیں.

فوڈ پرامڈ ہمارے کھانے کی عادات کے لیے صرف ہدایات ہی ہیں . اگر آپ صحت مند طرزِ زندگی کو اپنانا چاہتے ہیں تو یہ ہدایات کافی نہیں . ایک صحت مند طرزِ زندگی متوازن خوراک ، ورزش اور صحت مند دماغ سے حاصل ہوتی ہے . یاد رہے صحت صرف جسم کے لیے نہیں بلکہ دماغ کے لیے بھی ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں