صحت مند کھانے کے رہنما اصول‪:‬‬

فوڈ پرامڈ کی شکل سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ کس قسم کا اور کتنی مقدار میں کھانا کب ، کیسے اور کتنی بار کھانا چاہیے. فوڈ پرامڈ اِس بات پہ زور دیتا ہے کہ صحت یاب اور لمبی زندگی کے لیے متوازن خوراک بہت ضروری ہے . ذیل میں صحت مند خوراک کے بنیادی عنصر بیان ہیں .

پانی کا استعمال:

 

 

 

 

 

 

پانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے . انسانی جسم کے وزن کا دو تہائی حصہ پانی پر مشتمل ہے . پسینے ، سانس لینے اور نظامِ ہضم سے ہمارے جسم کا پانی خارج ہوتا ہے . اِس لیے لازمی ہے کہ ہم پانی کا استعمال زیادہ کریں. بڑوں کو کم اَز کم ۱۔۵ لیٹر پانی پینا چاہیے تاکہ ان کے جسم میں پانی کی کمی نہ ہو. غرض یہ کہ پانی زیادہ پیئں اور میٹھے مشروبات جیسا کہ توانانی بخش مشروبات ، گرم چاکلیٹ اور انسٹینٹ پاؤڈر والے مشروبات سے پرہیزکیا جائے.

جڑی بوٹی اور مصالحے:

تاریخ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جڑی بوٹیوں اور مصالحہ جات کا استعمال بہت اہم ہے . صحت مند طرزِ زندگی کے لیے درج ذیل جڑی بوٹیوں اور مصالحہ جات کی بہت ضرورت ہے۔ ان کو اپنے کھانوں میں استعمال کریں یا پِھر ان کو الگ سے استعمال کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں .

‪-‬ تیرجڑ (arrow root‬)
‪-‬ دَار چینی۔‬
‪-‬ ہلدی۔‬
‪-‬ تلسی۔‬
‪-‬لال مرچ۔‬
‪-‬ سویا ‪ (seed/dil weed‪) ‬۔‬‬‬
‪-‬ پودینہ۔‬
‪-‬ اوریگانو (‪ (‬oregano۔‬‬‬
‪-‬ کری پاوڈر ‪ (curry powder‪) ‬‬‬‬
‪-‬ دونی (‪ (‬rosemary۔‬‬‬

نمک اور چینی کا احتیاط سے استعمال‪:‬‬

ہمیں اپنے روزمرہ کے نمک اور چینی کے استعمال کو کم کرنا چاہیے کیونکہ اِس میں موجود سوڈیم اور گلوکوز ہمارے لیے زہر کی مانند ہے .
ایک مثال پروسسڈ خوراک کی ہے . اِس میں انتہائی کثیر تعداد میں سوڈیم اور چینی موجود ہوتی ہے جیسا کہ کاربونیٹڈ مشروبات .
اس سے زیادہ خطرناک آج کل کا کھانا پکانے کا طریقہ ہے جس میں ہم نمک اور چینی ذائقے کے لیے ڈالتے ہیں ، اِس سے ہم یقیناً ہپستال پہنچ جائیں گے .
غرض یہ کہ ہمیں اِس بات پر نظر رکھنی چاہیے کہ ہم کس مقدار میں روزمرہ چینی اور نمک کا استعمال کرتے ہیں .
باہر سے کھانا کھانا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے . کیونکہ ہوٹل والوں کو ہماری صحت سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ وہ تو بس کھانے میں مزہ لانے کے لیے اس میں کچھ بھی ڈال دیتے ہیں . نتیجتاً نمک اور چینی زیادہ ہو جاتی ہے .
اس کا بہترین حَل ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ گھر پر کھانا کھائیں . ( مگر اِس بات کا دھیان رہے کہ ہم کھانے میں زیادہ ذائقہ بڑھانے والی چیزیں نہ ڈالیں۔ )
اگر آپ نے گھر میں پکے ہوئے کھانے کا ذائقہ بڑھانا ہے تو قدرتی جڑی بوٹی اور مصالاجات کا استعمال کریں۔
یاد رہے کہ ان کا استعمال آہستہ آہستہ کم کرنے سے بھی ہماری صحت پر خوش آئند اثر پڑے گا۔

سوڈیم‫:‬‬


ممکن ہے کہ آپکو یہ معلوم بھی نہ ہو کہ آپ کے کھانے میں کتنا سوڈیم موجود ہے . گو کہ تھوڑی مقدار میں اِس کا موجود ہونا ہمارے جسم کے لیے بہت ضروری ہے مگر اسکی زیادہ تعداد ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہے . یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ زیادہ سوڈیم لینے سے سکتہء دِل ، جوڑوں کی بیماری ، اسٹروک اور پیٹ کے کینسر کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے . امریکیوں کی غذائی ہدایات کے مطابق ہمیں ایک دن میں ۲۳۰۰ ایم جی سے کم سوڈیم لینا چاہیے . اِس لیے ہمیں صحت کو خطرے سے بچانے کے لیے سوڈیم کم استعمال کرنا چاہیے اور اِس کی بجائے جڑی بوٹیوں اور مصالوں سے کھانے میں ذائقہ پیدا کرنا چاہیے

اضافی شکر:

اضافی چینی آج کل کی خوراک کا سب سے بد ترین جزو ہے . یہ موٹاپے اور دِل کے امراض ، diabetes mellitus اور کینسر کی ایک مرکزی وجہ ہے . اگر آپ کو میٹھا پسند ہے تو ڈینٹسٹ کے پاس جانے کے مواقع بڑھ جاتے ہیں . کیونکہ اضافی شکر دانتوں کو نقصان پہنچاتی ہے ، دانتوں میں کیڑا لگ جاتا ہے اور بہت سے دانتوں کے مسائل ہو جاتے ہیں . اِس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی خوراک میں چینی کے استعمال پر نظر رکھیں . اِس پر دھیان دینے سے ہی ہم صحت مند خوراک اور صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں .
اضافی شکر والے کھانوں کی چند امثال یہ ہیں:

‪-‬ اناج سے بنے میٹھے جیسا کہ کیک ، بسکٹ اور پائز ‪.‬‬‬
‪-‬ میٹھے مشروبات‪.‬‬‬
‪-‬پھلوں کے مشروبات‪.‬‬‬
‪-‬ دودھ سے بنے میٹھے جیسا کہ میٹھا دودھ ، آئس کریم ، میٹھی دہی‪.‬ ‬‬
‪-‬ چینی اور ٹافیاں۔ ‬
‪-‬ اناج سے بنے کھانے جیسا کہ اخروٹ کے وافل اور دارچینی کے ٹوسٹ. ‬