46

بہت خموشی ہے ابھی تھما طوفان تھوڑی ہے،

بہت خموشی ہے ابھی تھما طوفان تھوڑی ہے،
وہ مستی میں ہے اپنے انجام سے انجان تھوڑی ہے،
بیٹھے ہو غمگین نا امید اندھیری کوٹھری میں،
تیرے نصیب میں وہ ایک جہاں تھوڑی ہے،
نصیب سے مجبور ہوں دسترس مقدر پہ نہیں،
تو میری ضرورت ہے میرا ارمان تھوڑی ہے،
جو ہاتھ تھاما محبت سے اسکے لب کپکپائے،
رخ پر جو نظر آئی وہ صرف مسکان تھوڑی ہے،
تمہاری دہلیز سے جدا ہو کے بہت ذمہ دار ہوگئے،
کہاں ہے آپ کا دل یہ آپ کا سامان تھوڑی ہے،
میری زیست تجھ سے شروع تجھ پر تمام جاناں،
مگر میرے سخن کا فقط تو ہی عنوان تھوڑی ہے،
عشق حقیقی ہو یا مجازی تجربہ ہے یہ نعمان،
جو نہ جلے عشق میں وہ کوئی انسان تھوڑی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں