18

سویڈن میں سفارت خانہ پاکستان کے زیر اہتمام تقریب میں مشال ملک کا ورچوئل خطاب

“بھارتی جابرانہ اقدامات کے باوجود جموں کشمیر کے عوام جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے۔ ظلم اور جبر سے تحریک آزادی کشمیر کو ختم نہیں کیا سکا۔ مقبوضہ جموں کشمیر میں حقوق انسانی کی سنگین خلاف ورزیوں سے دنیا میں بھارت کا چہرہ عیاں ہورہا ہے.” ان خیالات کا اظہار ریاست جموں کشمیر کی مکمل خودمختاری کی داعی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چئیرمین یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے سویڈن میں سفارت خانہ پاکستان کے زیر اہتمام ایک تقریب میں ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ تقریب 27 اکتوبر 1947 کو بھارت کی جانب سے ریاست جموں کشمیر میں افواج داخل کرنے کے دن کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لئے منعقد کی گئی۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائد کی اہلیہ مشال ملک نے اپنے خطاب میں بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کی جانب سے اگست 2019 میں ریاست جموں کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے والے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام ایسے جبری ضابطے کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ ریاست جموں کشمیر کے نوجوان، بچے اور خواتین بھی اب تحریک کا حصہ ہیں۔ بھارت نے تمام حریت پسند قیادت کو جیلوں میں ڈال کر دیکھ لیا لیکن پھر بھی تحریک آزادی ختم نہ کرسکا۔ یوم سیاہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سویڈن اور فن لینڈ میں سفیر پاکستان ڈاکٹر ظہور احمد نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ریاست جموں کشمیر کا محکوم عوام کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر وہاں کے عوام کے حق خود آرادیت کا مسئلہ ہے جسے ان کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے، جس کے لئے اقوام متحدہ نے قراردادیں بھی منظور کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں کشمیر ہر بچہ اور نوجوان جذبہ حریت سے سرشار ہے۔ انہوں نے سویڈش حکومت کی حقوق انسانی کے حوالے سے پالیسی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن کی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر دو قراردادوں پر بحث قابل قدر پیش رفت ہے۔ انہوں نے سویڈن میں مقیم پاکستانی اور کشمیریوں سے کہا کہ وہ یہاں مسئلہ کشمیر کو متعارف کرانے کا سلسلہ جاری رکھیں۔ سفیر پاکستان نے یوم سیاہ کے حوالے سے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے۔ اس موقع پر سفارت خانہ کے ہیڈ آف چانسری عبدالرزاق تھیبو نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے تفصیلات پیش کیں۔ تقریب میں سٹاک ہوم میں مقیم پاکستانی اور کشمیریوں نے بھی اظہار خیال کیا اور جموں کشمیر کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں