بہت خوبصورت، دلکش و دلنشین مناظر سے پُر یہ خطہ پاکستان کہلاتا ہے۔ یہ خطہ بہت سی نعمتوں سے مالا مال قدرتی وسائل پر مشتمل ہے۔ پاکستان میں قدرتی وسائل کی بات ہو، خاص طور پر اگر ہم پاکستان کے شمال کو فراموش کریں تو یہ انصاف کے تقاضوں کو پائمال کرنے کے مترادف ہوگا۔ یہ وہ علاقہ ہے جس میں قدرت کے تمام مناظر،انسانی دل کو منور کرنے کے لئے چمکتے ستاروں کے مانند بیٹھے ہیں۔ اس علاقے سے مخلوقات خداوندی طرح طرح کی نعمتوں سے لطف اُٹھاسکتی ہے۔
میری مراد، قراقرم اور ہمالیہ کے مضبوط پہاڑی سلسلے ہیں جو قدرت کے عظیم تحفے ہیں۔ قراقرم کا لفظ زبان پر آئے اور دنیا کی توجہ فلک شگاف پہاڑ کے ٹو(K2) کی طرف نہ جائے یہ تو ناممکن ہے۔ یہ پاکستان کی پہلی اور دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے۔ نہ صرف کے ٹو بلکہ ان سلسلوں میں لگ بھگ پانچ ایسے پہاڑ ہیں جو 8000 میٹر سے زیادہ بلند ہیں۔ ان خوبصورت و دلکش مناظر کو ہم بھول نہیں سکتے جب ان کو برف کی سفید چادر ڈھک دیتی ہے۔ ان مناظر کی تعریف قلم کے ذریعے کرنا گویا ایسا ہے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کرنا۔
برفیلے پہاڑوں میں ایک پہاڑ سیاچن کے نام سے بہت مشہور ہے۔ یہ دنیا کے بڑے گلیشئرز (Glaciers) میں شامل ہوتا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے اُونچا محاذ ہے جہاں پاکستان کے بہادر فوجی اپنی سرحد کی حفاظت کے ئے تعینات ہیں۔
خوبصورتی اور رنگوں کی اصل مثال صرف وہ دے سکتا ہے جو پاکستان کے سب سے اونچے و دلفریب مقام پر گیا ہو۔ دنیا اس کو دیوسائی نیشنل پارک(Deosai National Park)کے نام سے جانتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ہزار ہا قسم اور رنگوں کے پھول اور پودے اُگ آتے ہیں۔ یہاں بہت سی جڑی بوٹیاں بھی موجود ہیں جو کہ دنیا بھر میں دوا کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہیں۔ سینکڑوں قسم کے جانوروں کا گھر، دیوسائی ہے۔ جس میں دنیا کا منفرد بھورا ریچھ (Brown Bear)،سنو لیپرڈ(Snow Leopard) اور مارمرڈ(Marmaid) شامل ہیں۔ یہ میدان صرف زمینی مخلوق کی کثرت سے منفرد نہیں بلکہ آبی مخلوقات کی بھی بیشتر اقسام یہاں پائی جاتی ہیں۔ دیوسائی کی ایک خوبصورت تمہید یوں بھی باندھی جاسکتی ہے کہ:
” قدرت کو اگر زیادہ قریب سے محسوس کرنا ہے تو ایک رات دیوسائی میں گزاریں۔ یہاں کا آسمان صبح میں صاف و شفاف ہوتا ہے اور رات میں ایسا لگتا ہے کہ جیسے سیاہ چادر پر ٹمٹماتے ہوئے تارے چاند کو گھیرے ہوئے اُس سے سرگوشی میں مگن ہوں۔“
بہت خوبصورت ہے گلگت بلتستان، استور کے گاؤں چلم کو دیکھتے ہیں تو گویا محسوس ہوتا ہے کہ جنت کے کسی ایک حصے سے نکل کر دوسرے حصے میں پہنچ گئے ہوں اور اس کے بعد راما جھیل اور اس کی وادی کی کوئی مثال بھی نہیں ملتی۔
گلگت بلتستان پر نظر دوڑائیں توجا بجا ہمیں ایسے مقامات نظر آتے ہیں کہ اُن کو دیکھ کر بے تحاشا خدا کی قُدرت یا د آتی ہے۔ اس بات کے ثبوت کے لئے میں ایک پُرکشش مقام ، وادی نلتر کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ وادی نلتر گلگت بلتستان کی مشہور وادی ہے اور یہ سوئٹزرلینڈ کی کسی وادی سے کم نہیں۔ سردیوں میں یہاں آئس ہاکی کھیلی جاتی ہے۔ یہ وادی سکی (Ski) کےلئے بھی مشہور ہے۔ وادی نلتر سے تھوڑا آگے چین کی طرف جائیں تو ہمیں دو وادیاں آمنے سامنے نظر آتی ہیں۔ ایک وادی نگر ہے اور دوسری وادی ہنزہ ہے۔ وادی نگر بھی خوبصورت میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ برف پوش پہاڑ یہاں کی خوبصورت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ انہی میں سے ایک راکاپوشی ہےجو دُنیا بھر میں مشہور و مقبول ہے۔
وادی ہنزہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس وادی میں عطا آباد جھیل اپنی جوبن پر نظرآتی ہے۔ یہ پاکستان میں موجود وہ حادثاتی جھیل ہے جو کہ ایک پہاڑ کے ٹوٹنے پر بنی۔ ہنزہ کا ذکر ہو اور تاریخی عمارت التت و بلتت کا ذکر نہ ہو یہ ناممکن ہے۔ یہ دونوں عمارتیں قدم طرزِ تعمیر کی یاد دلاتی ہیں۔ قدرتی حُسن کی دولت سے یہ خطہ مالامال ہے۔ اس کی زندہ مثال ہنزہ کے دو قلعے اور خطہ بلتستان کے شگر، خپلو اور کھرمنگ میں واقع قلعے ہیں۔ مذکورہ قلعے جمیل و ادیب لوگوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ سکردو شہر کے بالکل سامنے ایک چھوٹی پہاڑی پر موجود کھرپو قلعہ ہے جو ماضی قریب کے جنگی حالات و حکمت عملی کی زندہ مثال ہے۔
جیسا کہ ہم نے ابتداء میں ذکر کیا تھا کہ قدرت نے اس خطے کو ہر قسم کی نعمتوں سے نوازا ہے۔ یہاں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں پر سرد ریگستان بھی موجود ہے اور سکردو میں موجود ریگستان کتپناہ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ سطح سمندر سے دنیا کا سب سے اونچا کولڈ ڈیزرٹ یعنیٰ سرد ریگستان ہے۔ جس کو دیکھ کر دل سے پھر یہی آواز نکلتی ہے کہ بہت خوبصورت ہے پاکستان اور گلگت بلتستان۔
شنگریلا اور اپر کچورا وادی بلتستان کے ماتھے کا جھومر ہیں۔ شنگریلا کے معنی ’’جنت زمین پر‘‘ ہیں اور اس کو دیکھ کر ہر کوئی اس بات سے اتفاق کرے گا کہ واقعی یہ بات درست ہے کہ جنت زمین پر ہے۔
جغرافیائی لحاظ سے یہ وہ علاقہ ہے جو پاکستان کو چین سے ملاتا ہے۔ میں کہتا ہوں بہت خوبصورت ہے پاکستان۔ اگر پاکستان اس علاقے کو آئینی طور پر اپنا مان لے۔ پاکستان کے ٹو، سیاچن، دیوسائی اور آرٹیکل میں مذکور دیگر جگہوں کو تو اپنا کہتا ہے مگریہاں کی قریب 20 لاکھ آبادی کو قبول کرنے کےلئے تیار نہیں ہے۔ جب ایسی صورت حال ہے کہ گلگت بلتستان کو قومی دائرے میں شامل کیا جائے تو پھر کسی کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں اپنے مسائل پیش کرے یا پاکستان کے وزیراعظیم کے انتخاب میں اپنا حصہ ڈالے۔
بہت خوبصورت ہے پاکستان، اگر پاکستان ”معاہدہ کراچی“ کو نظر انداز کرکے گلگت بلتستان کو آئینِ پاکستان کا حصہ بنائے۔ کیونکہ یہ معاہدہ ہماری شناخت مٹانے کا باعث بنا اور اب تک اس کے اثرات نمایاں ہیں۔
ہاں! پاکستان نے اس خطے کو کچھ دیا ضرور ہے لیکن اس کے عوض یہاں کے باسی بھی بہت کچھ کر رہے ہیں۔ آج یہاں کے جوان این ایل آئی کی شکل میں نہ صرف پورے پاکستان کی حفاظت کر رہے ہیں بلکہ ہر محاذ پر صفِ اوّل کا کردار نبھا رہے ہیں ۔ یہ قوم واحد قوم ہے جو متنازعہ کہلانے کے باوجود، نظر انداز کئے جانے کے باوجود پاکستان کو اس کے آئینی شہری سے زیادہ چاہتی ہے۔
پاکستان اگر ایک معاہدے کی آڑ میں اس خطے کونظر انداز نہ کرے اور اس کواپنا آئینی حصہ سمجھے تو واقعی میں فخر سے کہوں گا کہ ”بہت خوبصورت ہے پاکستان۔“