Shahzad Ansari Sweden 118

اچھا کیا جو سویڈن شفٹ ہوگئے

“یار تمہارے تو مزے ہیں، اچھا کیا جو سویڈن شفٹ ہوگئے، بچوں کی تعلیم بھی مفت بلکہ بچوں کو پالنے کے لیے 18 سال تک سویڈش گورنمنٹ معاوضہ بھی دیتی ہے۔” نعیم نے فون اُٹھاتے ہیں بولنا شروع کر دیا۔
اس سے پہلے کے میں کچھ کہتا نعیم نے پوچھا کہ اگر 4 یا 5 بچے ہوں تو گھر کے اخراجات تو نکل ہی جاتے ہونگے اور ایک ہم ہیں یہاں پاکستان میں مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے۔
کیونکہ دوستوں سے رابطہ برقرار رکھنے کو خواہش بھی میری ہی ہے تو میں ان باتوں کو نظر انداز کرنا بہتر سمجھتا ہوں اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ شاید اس طرح ان کی بھڑاس بھی نکل جاتی ہے۔ بہرحال یہ سوال بہت عام ہیں کیونکہ اس میں واقعی کوئی شک نہیں کہ سویڈن ایک فلاحی مملکت ہے۔ لیکن کیا واقعی بچوں کی پرورش کا جو معاوضہ سویڈش گورنمنٹ دیتی ہے وہ کافی ہے؟
حال ہی میں سویڈ بنک کی سینئر تجزیہ کار مادالین فالکن ہیل کی رپورٹ کی بنیاد پر ایک آرٹیکل سویڈ ن کے روزنامہ ایکسپریسن میں شائع کیا گیا۔ جس میں ایک بچے کی پیدائش سے لے کر 18 سال کی عمر تک ہونے والے بنیادی اخراجات کا تخمیہ لگایا گیا تھا۔ جس کے مطابق ایک بچے کی پیدائش سے لیے کر 19 سال کی عمر تک تقریباً بارہ لاکھ چالیس ہزار کرونا خرچ ہوتے ہیں ۔ جس کا صرف 32 فی صد ہی سویڈش گونمنٹ اس الاؤنس کی شکل میں ادا کرتی ہے۔ جبکہ پیدائش کے فوراً بعد والدین میں سے ایک کی تنخواہ میں بھی کمی آجاتی ہے ۔ گزشتہ دہائی میں سویڈن میں بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس چائلڈ الاؤنس میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ حیرت ہے کہ یہاں کیسے صبر شکر سے لوگ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ جبکہ ان کو تو احتجاج کرنا چاہیئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں