119

اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ لوگ

اللہ کن لوگوں کو پسند نہیں کرتا، قرآن حکیم نے اس حوالے سے صراحت کے ساتھ اپنی آیات میں لفظ ”لا یحب ُ “ استعمال کیا ہے۔ جب ہمیں خصوصیت سے یہ معلوم ہوجائے گا کہ کس طرح کا طرز عمل رکھنے والے لوگ اللہ کے ناپسندیدہ ہیں تو ہم کوشش کرسکتے ہیں کہ اپنے کردار اور قول و فعل کو ان امور سے بچا کر رکھیں۔ اس طرح ہم ان لوگوں کی فہرست میں شمار نہیں ہوں گے جو اللہ کے دوست نہیں ہیں۔ قرآن عظیم میں کم از کم بارہ مقامات پر اس حوالے سے ذکر آیا ہے اور لفظ لا یحبُ استعمال ہوا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت ۰۹۱ میں ہے کہ ”خدا زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا”۔ سورہ آل عمران کی آیت ۲۳ میں ارشاد ربانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔ حق کا انکار کرنا کفر ہے اور اسی لئے اللہ تعالیٰ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔ ہمارے ہاں کافر سے مراد صرف غیر مسلموں کو لیا جاتا ہے لیکن قرآن حکیم کی سورہ مائدہ کی آیت ۴۴ پر غور کرنے کی ضرورت ہے جس میں فرمایا ہے کہ ”جو لوگ اللہ کے نازل کردہ وحی کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔ گویا کلمہ کا اقرار کرنے والے اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے بھی اگر ”ما انزل اللہ“ کے مطابق فیصلے نہ کریں تو وہ قرآن کی رو سے کافر ہیں۔ سورہ مائدہ کی ہی آیت ۷۵ میں ہے کہ اللہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔ ظلم سے مراد صرف مارپیٹ یا زیادتی نہیں بلکہ جسے جس جگہ پر ہونا چاہیے وہ اس مقام پر نہ ہو، کسی بات میں کمی یا بیشی جو حق و انصاف کے خلاف ہو ظلم کہلاتا ہے۔کسی ناہل کا وہ مقام دینا جس کے وہ قابل نہ ہو، یہ بھی ظلم ہے۔ دوسرے الفاظ میں عدل کے مخالف طرز عمل ظلم ہوتا ہے۔ چوتھا مقام سورہ نساء کی آیت ۶۳ میں ہے کہ خدا تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔ اسی سورہ کی آیت ۷۰۱ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا۔ خائن اس شخص کو کہیں گے جو بددیانت، دھوکہ دینے والا، بے ایمان اور دغا باز ہو۔ اسی موضوع پر حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے بھی دھوکہ دیا، وہ ہم سے نہیں۔
خدا جنہیں اپنا دوست نہیں رکھتا، اس بارے میں سورہ مائدہ کی آیت ۴۶ میں ہے کہ خدا فساد کرنے والوں کو اپنا دوست نہیں رکھتا۔ فسا د سے مراد لڑائی جھگڑا اور قتل و غارت ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی خرابی، بگاڑ، خلل اور فتنہ انگیزی شامل ہے۔ قرآن حکیم نے جہاں یہ کہا کہ زمین میں فساد نہ کرو، اس سےمراد ہر قسم کا فساد لیا جاسکتا ہے جس میں زمین کے قدرتی حسن میں بگاڑ پیدا کرنا اور ماحول کو آلودہ کرنا بھی شامل ہوسکتا ہے۔ سورہ مائدہ کی ہی آیت ۷۸ میں ہے کہ خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ جن لوگوں کو باری تعالیٰ پسند نہیں کرتا ان میں سورہ انعام کی آیت ۱۴۱ کے مطابق فضول خرچی کرنے والے بھی شامل ہیں۔ وہ لوگ جو خدا کی دی ہوئی نعمتوں، وسائل اور مال و دولت کو بیجا اڑاتے ہیں، وہ خدا کے دوست نہیں ہوتے۔ سورہ انفال کی آیت ۸۵ میں دوبارہ دغا بازوں اور دھوکہ دینے والوں کا ذکر ہے اور فرمایا کہ کچھ شک نہیں کہ خدا دغا بازوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اللہ سرکشوں متکبروں کو بھی اپنا دوست نہیں رکھتا اور اس حوالے سے سورہ النحل کی آیت ۳۲ میں بیان آیا ہے۔ قرآن حکیم کی سورہ حج کی آیت ۸۳ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں اور کفران نعمت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔سورہ القصص کی آیت ۶۷ ہے جس میں ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اترانا کا معنی ہوتا ہے کسی شے کا پانی کی سطح پر آجانا۔ مطلب یہ کہ اوچھے پن کی وجہ سے ذرا سی دولت، عزت، اختیارات یا خوشی ملنے پر جامے سے باہر ہوجانا، شیخی میں آنا، گھمنڈ اور غرور کرنا شامل ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن حکیم نے بارہ مقامات پر ان لوگوں کے اعمال اور رویوں کا ذکر کیا ہے جن کو اپنا دوست نہیں رکھتا اور پسند نہیں کرتا۔ اس فہرست میں زیادتی کرنے والے، کافر، ظالم، تکبر اور بڑائی کرنے والے، خائن اور جرائم کے مرتکب، فساد کرنے والے، حدسے بڑھنے والے، فضول خرچی کرنے والے، دغا باز، سرکش، خیانت اور کفران نعمت کرنے والے، اِترانے اور شیخی مارنے والے شامل ہیں۔ان آیات پر اگر غور کریں تو یہ تمام وہ روئیے ہیں جو انسان دوسرے انسانوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں جنہیں ہم حقوق العباد بھی کہتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ حقوق اللہ ہی ہیں۔ دوسرے انسانوں سے برا رویہ رکھنے والے خدا کے دوست نہیں۔ یہاں یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ یہ طرز عمل یا خواہ مسلمانوں سے رکھا جائے یا غیر مسلموں سے، اس میں کوئی فرق نہیں کیونکہ قرآن نے انسانوں کی تخصیص نہیں کی۔ دھوکہ دہی، دغا بازی، خیانت، ظلم اور دیگر امور جن سے خدا نے منع کیا ہے کسی کے ساتھ بھی کریں، وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، فرد یا ادارہ یا حکومت، اس میں چنداں فرق نہیں بقول حالی
یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہْداٰ کا
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
وہی دوست ہے خالقِ دوسرا کا
خلائق سے ہے جس کو رشتہ ولا کا
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
قرآن حکیم نے جو فہرست ”لا یحب ُ “ کے عنوان سے دی ہے اگر ہم ان تمام برائیوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں تو ہمارا شمار ان لوگوں میں نہیں ہوگا جنہیں خدا اپنا دوست نہیں رکھتا بلکہ ان لوگوں میں شمار ہوسکیں گےجو خدا کا احکامات پر عمل کرنے والے ہیں اور یہی فلاح اور کامیابی کا راستہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں