91

علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ٹرک آرٹ پورٹریٹ

پاکستان پروموشن نیٹ ورک یورپ (پی پی این ای) کے روح رواں زبیر حسین کا کہنا تھا کہ ہمارا ادارہ فقط پاکستان کو یورپ میں ہی نہیں بلکہ وطن عزیز پاکستان میں بھی پاکستان کو پروموٹ کرنے کی کاوشیں کر رہا ہے، کیونکہ جب تک ہم بطور قوم اپنی قدروں کو نہیں سمجھیں گے تب تک دنیا میں ہم وہ مقام حاصل نہیں کرسکتے جو ایک ترقی یافتہ مملکت کا خواب ہوتا ہے۔ اس کے لئے ہمیں میڈ ان پاکستان ٹرینڈ سیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے.پچھلے ستر برس میں ہم نے فقط امپورٹڈ اشیاء کو ہی تقویت بخشی ہے جس سے ملک کی معیشت کو خاطر خواہ استفادہ حاصل نہیں ہوسکا۔ فقط ملکی مصنوعات اور دیگر پیداوار ہی نہیں ہم نے آج تک نہ تو اپنے ثقافتی ورثے، اپنے فنکاروں، موسیقاروں، غرض یہ کہ ہر وہ چیز یا شخصیت جو ملکی مفاد میں ہو، ہم نے کبھی ان کی اہمیت نہیں جانی. ہم نے لوگوں کی قدر ان کے کھو جانے کے بعد ہی جانی ہے.ایسا ہی کچھ قومی ہیرو علی سدپارہ کے ساتھ بھی کیا جارہا ہے۔

پاکستان پروموشن نیٹ ورک اب ایک امبریلا آرگنائزیشن کے طور پر پاکستان میں اپنی کاوشوں کو جاری رکھے ہوئے ہے.سرکار ٹرک آرٹ چونکہ ملک کی ایک انوکھی پہچان، ٹرک آرٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے، اب پی پی این ای کا حصہ ہے. طارق خان کو پی پی این ای کی جانب سے پاکستان بھر میں کلچرل ایمبیسیڈر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے.طارق خان کی ٹیم میں پاکستان کے معروف آرٹسٹ اقبال صنم اور عبد الرحیم عرف دادا بھی شامل ہیں۔ یہ طارق خان اور ان کی ٹیم کی ہی انتھک محنتوں کا نتیجہ ہے کہ کراچی میں غیر ضروری وال چاکنگ کی جگہ اب ہر جگہ ٹرک آرٹ کے فن پارے نظر آتے ہیں. یہاں تک کہ کراچی کی معروف فوڈ اسٹریٹ برنس روڈ کی دیواریں بھی ٹرک آرٹ کے باعث خوبصورت پاکستان کی منظر کشی کررہی ہیں۔

علی سدپارہ کی ٹرک آرٹ پورٹریٹ ڈیزائن کرنے میں سرکار ٹرک آرٹ اور پاکستان پروموشن نیٹ ورک کے ساتھ لیارینز یوتھ ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن اور کے ایم سی پارکس کا بھروپور تعاون حاصل ہے۔ کل بروز منگل پورٹریٹ تیار ہونے کے بعد اس کا باقاعدہ افتتاح کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں