157

اخوت کے کچھ اور پہلو

اخوت اور ڈاکٹر امجد ثاقب کا نام ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔
آپ کی مستحق افراد کی امداد اور تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی خدمات کو ناصرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی طور پر سراہتے ہوئے آپ کو کئی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔
اپنے دورہ پاکستان میں کراچی میں مقیم اخوت کے زیرِ نگرانی چلنے والے NJV اسکول اور کلاتھ بینک میں جانے کا موقع ملا۔
اکتوبر سنہ1855 میں نارائن جگناتھ وائدیا کےنام سے منسوب یہ اسکول سندھ میں پہلا سرکاری اسکول تھا۔سنہ 1876 میں اسکول کو موجودہ عمارت میں منتقل کیا گیا- یہ عمارت اپنے ساتھ تاریخ کے اہم واقعات اور ورثہ اپنے پاس محفوظ رکھتی ہے۔


ہمارے میزبان جناب شہریار راشد صاحب جو کہ اخوت کراچی میں تعلیم اور کلاتھ بینک کے تمام معملات دیکھتے ہیں ، نے ہمارا پُر تپاک استقبال کرتے ہوئے اسکول اور اسکے تمام شعبوں کی معلومات فراہم کی۔سنہ 2015 میں اخوت نے NJV اسکول کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیااور عمارت اور اس میں موجود ورثے کو محفوظ کرنے کا کام شروع کیا جو آج بھی جاری ہے۔

اسکول میں موجود لائبریری میں ناصرف کتابوں کا خزانہ موجود ہے بلکہ ایک تہذیب ہے جو کہ یہاں پر کئی سو سال پرانی مختلف زبانوں کی کتب میں موجود ہے اور انھیں دوبارہ سے ایک نئی زندگی اور سنبھالنے کا کام بہت خوبی کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔

عمارت میں موجود ہال جو کہ اپنے تعمیری مرحلے میں تھاوہ بھی اپنے ساتھ ایک تاریخ رکھتا ہے 1947 میں قیام پاکستان کے بعد سندھ اسمبلی کا پہلا اجلاس بھی اسی ہال میں منقد کیا گیا تھا۔

چونکہ موسمِ سرما کی تعطیلات کی وجہ سے طلبہ موجود نہیں تھے لیکن رہائش اور تعلیمی انتظامات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔یہاں پر موجود تمام بچے اور بچیاں جن کا تعلق ملک کے کسی بھی علاقے سے ہو سکتا ہے کا صرف ایک ہی خواب ہوتا ہے اچھی تعلیم جو انہیں یہاں بنا رنگ و نسل کی تفریق کے حاصل ہوتی ہے۔ ہمارے میزبان شہریار راشد صاحب نے ہمیں اپنے آنے والے منصوبوں جن میں رہائشی حصے کی توسیع اور دیگر منصوبوں اور ان میں آنے والے مسائل اور انکے حل کے بارے میں بھی تفصیلی آگاہی دی۔

سنہ 2020 میں آنے والی عالمی وبا کے پیشِ نظر طلبہ کی پڑھائی متاثر نا ہو اس لئے خاص طور پر کنٹینر روم کا انتظام کیا گیا جہاں بیٹھ کر طالب علم آن لائن اپنی پڑھائی کر سکتا تھا۔

دور جدید میں کتابی پڑھائی کے ساتھ ساتھ کسی ہنر کا ہونا بھی ضروری مانا جاتا ہے اسی سوچ کے مدِ نظر عمارت کی چھت پر ایک ورکشاپ بھی قائم کی گئی ہے جس میں طلبہ کو مختلف ہنر کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔

عمارت کے ایک حصے میں کلاتھ بینک بھی موجود ہے جہاں پر دنیا بھر سے آنے والے کپڑے اور دیگر گھریلو سامان کو رکھا اور چھانٹا جاتا ہے اور صفائی، دھلائی اور پیکنگ کر کے مستحق افراد میں تقسیم کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔اس حصہ کا انتظام سنبھالنے والے بلاول صاحب نے کام کرنے کے طریقے کار سے ہمیں آگاہ کیااور بتایا کہ انکو کس قسم کے کپڑوں اور اشیاء کی زیادہ ضرورت رہتی ہے۔

آخر میں ہم نے شہریار صاحب اور انکے تمام ساتھیوں کے اس جذبے اور کاوش کو سراہتے ہوئے ان سے اجازت چاہی اور یہ بھی جانے کی کوشش کی کہ اخوت سویڈن انکی اس تمام سلسلے میں کس طرح سے مدد کر سکتی ہے جس کے جواب میں انھوں نے یہ کہا کہ سویڈن میں موجود مخیر حضرات اگر کسی بھی طالب علم کے اخراجات کا ذمہ لے لیں تو کسی کی زندگی سنور سکتی ہے۔

اور اس طرح سےاس دعا کےساتھ ایک خوبصورت اور یادگار سفر کا اختتام ہوا۔

“ کچھ یوں اُتریں تیرے لئے رحمتوں کے موسم
کہ آسماں سے تیرا حُرفِ دعا کبھی رد نہ ہو “

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں