75

ایک شام!

زمین والوں سے جُڑ کے رہتا ہوں
کہ آسمان والوں سے اک دن جا ملنا ہے

میں محبت بہت بے لوث کرتا ہوں
کہ عداوتوں سے دل بدنما ہوتا ہے

میں اُس کے قریب رہوں یا دور رہوں
کہ نگاہ و دل میں تو وہ ہر وقت رہتا ہے

کوئی ایک شام میرے حصے میں‌ بھی آئی تھی
کہ میری بخت کو شاید دعاؤں نے گھیر رکھا ہے

میرے دل میں‌کوئی خلش نہ کوئی سوال باقی ہے
کہ رب جسے بھی دیتا ہے، اپنے وقت سے دیتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں