60

افسانچہ نگاری کا عالمی مقابلہ

انسانی تجربے کو نثری صورت میں کم سے کم لفظوں میں بیان کرنا افسانچہ کہلاتا ہے۔
ادب میں یہ صنف انگریزی ادبیات کے تتبّع سے متعارف ہوئی، شاعری میں مختصر نظم اور نثر میں افسانچہ ایک ہی نوع کی چیزیں ہیں۔
حالیہ دوڑتی بھاگتی زندگی اور نفسانفسی کے عالم میں افسانچہ قاری کی ایک اہم ضرورت بن کر سامنے آرہا ہے اور اس صنف کے قارئین میں بھی روزبہ روز اضافہ ہورہا ہے اور رسائل کی مدیران بھی اس صنف پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں اور انھیں اہتمام سے شائع بھی کر رہے ہیں۔
کردار آرٹ اکادمی ممبئی اور گلشنِ افسانچہ کے اشتراک سے افسانچہ نگاری کے عالمی مقابلے کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں دنیا بھر سے افسانچہ نگاروں نے شرکت کی۔
منصفین میں جناب نخشب مسعود ، جناب رونق جمال ، جناب سرور غزالی اور اقبال نیازی شامل تھے۔
اردوقاصد کے لیے باعث مسرت بات یہ ہے کہ اردوقاصد کی مینجنگ ایڈیٹر محترمہ حنا خراسانی رضوی صاحبہ نے بھی اپنے خوبصورت افسانچہ “ نیکی “ کے ساتھ اس مقابلے میں شرکت کر کے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ شمشیر علی شعلہ اپنے افسانچہ “ یادگار “ کے ساتھ پہلی اور عبدل لطیف جوہر “ ٹھنڈک “ کے ساتھ دوسری پوزیشن پر رہے۔

مقابلے میں شامل دیگر دس بہترین افسانچے اور لکھاری مندرجہ ذیل ہیں۔
1- “بھوک “ سید اسمٰعیل گوہر
2- “دعاء “ احمد کمال حشمی
3- “گڑیا” صادق اسد
4- “ظالم مظلوم “ ارشد علی ارشد (پاکستان)
5- “پاپا” پرویز انیس
6- “ان پڑھ “ ہارون اختر
7-“پھول،پودے اور پانی “ علیم اسمٰعیل
8- “کھول دو “ اختر رومانی
9- “روح کا کرب “ صمد خانہ پوری
10- “سوال “ محمد عرفان ثمین

ہم اردو قاصد کی جانب سے گلشن افسانچہ کے خالد بشیر تلگامی صاحب اور رونق جمال صاحب کو اتنا خوبصورت اور منفرد مقابلہ کرانے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں