114

ادھوری زندگی

” آپ کی اپنے شوہر سے جان پہچان کیسے ہوئی تھی”
” جی میرے گھر والے میرے ابو امی بہت خوش تھے میرے شوہر سے۔ اس لیے میری شادی ان سے ہوئ اور شادی کے بعد جان پہچان بھی”۔
” اچھا وہ سب خوش تھے اور آپ؟”
“جی بس والدین خوش تھے اسی لیے شادی بھی ہوئی۔”
جی جی سن لیا کہ والدین خوش تھے خود آپ خوش تھیں یا نہیں؟؟۔”
” جی ہماری خوشی ضروری نہیں ہوتی۔ ہم کب پوری زندگی جیتے ہیں”۔
” اس کا مطلب ہے آپ خوش نہیں ہیں”۔
” نہیں جی میں بالکل خوش ہوں آپ غلط معنی نہ نکالیں۔”
” دیکھیں بی بی اس کمرے میں جو بھی بات ہوتی ہے وہ کسی تیسرے شخص کو نہیں بتائ جاتی آپ بے فکر ہوکر اور کھل کر اپنے بارے میں بتاسکتی ہیں”۔
” جی میں سب کچھ درست ہی بتارہی ہوں میرا شوہر ہے وہ ۔۔۔۔۔جو باہر بیٹھا ہے
۔۔۔۔۔ اور ماں باپ نے کہا تھا کہ شوہر کے گھر سے مر کر ہی نکلنا۔”۔۔۔۔۔۔۔۔
ہچکی سے آواز کانپ رہی تھی اور آنسو کا سیلاب کمرے میں بکھری دفتر کی فائلوں کو بھگو رہا تھا۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں