76

اب شاید میں ہی محبت کرتا ہوں

خواب میں بھی دیکھتا ہوں،
ٹوٹنے سے ان کے سہمتا ہوں،

ساری روداد، دل کی بات،
کہنے سے اب میں جھجکتا ہوں،

اپنے احساس، سارے جزبات،
سینے میں دبا کے رکھتا ہوں،

اب ہر وقت کا پیار دکھانے سے،
خفگی سے تمھاری ڈرتا ہوں،

کوئی اظہار ہو تمھاری جانب سے،
سننے کو اب میں تڑپتا ہوں،

پیاسی زمین کے جیسے میں،
پیار کی بوند کو ترستا ہوں،

تمھاری دلکش باتوں کے،
گرفتار سحر میں رہتا ہوں،

کوئی لمحہ گذرا لوٹ آئے،
انتظار، میں اسکا سہتا ہوں،

بن موسم برسات ہو جائے،
اس آس میں پھرتا رہتا ہوں،

شاید لوٹ کے تم آجاؤ ،
خود ہی، ایسا سمجھتا ہوں،

لیکن پھر یہ بات خود سے میں،
گھٹ گھٹ کر ہر پل کہتا ہوں،

میں بس تم پر ہی تو مرتا ہوں،
اب شاید میں ہی محبت کرتا ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں