اب اہل سیاست پہ اعتبار ر نہیں ہوتا
جھوٹوں کی فراست پہ اعتبار نہیں ہوتا

جب ووٹ کے نام پہ سر عام نیلامی ہو
جمہور کی آڑ میں برسوں کی غلامی ہو
ہرفرد کے پیچھے کرپشن کی کہانی ہو
نیا دور تقاضا ہوآور سوچ پرانی ہو
پھر چہروں کی نفاست پہ اعتبار نہیں ہوتا

جب ظلم کی چکی میں پستے ہوں انساں
انضاف کے پہلو میں بکتے ہوں ایماں
خواب ادھورے ہوں اور مردہ ہوں ارماں
اور شہر کی گلیوں میں بستے ہوں حیوان
پھر ایسی ریاست پہ اعتبار نہیں ہوتا

اب اہل سیاست پہ اعتبار ر نہیں ہوتا
جھوٹوں کی فراست پہ اعتبار نہیں ہوتا