Embed HTML not available.

دنیا میں 9 ممالک ایسے ہیں جہاں میک ڈونلڈ پر پابندی عائد ہے

کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا میں 9 ممالک ایسے ہیں جہاں میک ڈونلڈ پر پابندی عائد ہے؟
دنیا کی مشہور اور بچوں میں مقبول فاسٹ فوڈ چین ہونے کے باوجود میک ڈونلڈ کچھ ممالک میں میکڈونلڈز پر پابندی عائد ہے ۔
جہاں یونائٹڈ اسٹیٹس میں آپ میک ڈونلڈ سے بمشکل 100 میل دور ہو سکتے ہیں وہیں آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں ایک بھی میک ڈونلڈ نہیں ہے۔ اس کی وجہ معاشی بہران سے لے کر سیاسی کشمکش ہو سکتی ہے۔

برمودا
1995 تک کیریبین آئلینڈ میں صرف ایک میک ڈونلڈ موجود تھا۔ ملک میں غیر ملکی فاسٹ فوڈ پرپابندی عائد کرنے کا قانون 1970 سے لاگو ہے ۔ تاہم میکڈونلڈز نے 1985 میں قانون میں خامی تلاش کر کے امریکی بحریہ کے ایک ایئر اسٹیشن پر مکی ڈی کی تعمیر کی۔ یہ اسٹیشن 1995 میں بند ہوا اور اس کے ساتھ میکڈونلڈز بھی بند ہوگیا۔
ایران
حالیہ برسوں میں ایران اور امریکہ کے مابین تعلقات تناؤکا شکار ہیں، اور میکڈونلڈز جیسے مغربی فرنچائز کو اس کا نقصان پہنچا ہے۔ایران نے میکڈونلڈز کا متبادل میش ڈنلڈز تشکیل دے دیا ہے۔

میسیڈونیا
بلقان میں واقع اس چھوٹی یورپین قوم کے پاس میک ڈونلڈ کے سات 7 ریستوراں تھے۔ 2013 میں ، مقدونیائی میکڈونلڈز چلانے والا شخص اپنا لائسنس کھو بیٹھا ، جس کی وجہ سے تمام سات اسٹور مستقل طور پر بند ہوگئے۔ افواہ ہے کہ مقدونیائی حکومت اپنی عوام کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سب کے پیچھے ہے۔

یمن
ایک طرف ، مشرق وسطی کی اس ملک کی معیشت قدرے متزلزل ہے ، لہذا میکڈونلڈ کو یقین نہیں ہے کہ وہاں ریستوراں کھولنا “معاشی طور پر قابل عمل” ہوگا۔

مونٹی نیگرو
میڈڈونلڈ نے یہاں 2003 میں موبائل میکڈونلڈز اس امید سے شروع کیا کہ کچھ عرصہ بعد مستقل اسٹور کھولا جاسکے۔
2003 میں ، میک ڈونلڈز نے اس ننھی قوم میں ایک چھوٹا سا اسٹور خریدا۔ یہ صرف “موبائل میک ڈونلڈز” تھا ، اس امید کے ساتھ کہ اس سے کچھ مستقل ہوسکتا ہے۔ اگرچہ بہت سارے لوگوں میں مکی ڈی کا کھانا پسند کیے جانے کے باوجود ، حکومت نے رونالڈ میکڈونلڈ کو مونٹی نیگرو میں مستقل گھر بنانے سے روکنے کے لئے مقامی کاروباروں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ تب سے ، فرنچائز نے اپنا میک ڈسٹینس برقرار رکھا ہے۔
اسی طرح شمالی کوریا، زمبابوے، بولیویا اور آئس لینڈ میں بھی میکڈنلڈز موجود نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں