175

مسلمان اور ماں کا احترام

آج اتنے عر صے بعد میری ایک پرانی سہیلی سے ملا قات ہوئی وہ اپنے میکے آئی تو مجھ سے ملنے آگئی میں بھی بڑے جوش و خروش سے اُس سے ملی اور حال احوال پوچھنے لگی. میں آخری بار اس کی شادی پر اس سے ملی تھی اور آج ١٠ سال بعد ہماری ملاقات ہوئی- اس کے سسرال کی فیملی بہت کم افراد پر مشتمل تھی اسکا شوہر اور اس کی ساس اور اب ماشاءاللہ اس کے دو بچے تھے صارم اور آرزو. بچے ٹی _وی دیکھ رہے تھے اور ہم دونوں پرانی یادیں تازہ کر رہے تھے، تو اچانک صارم کہنے لگا کہ یہ عورت تو دادی کی طرح التجا کر رہی ہے اور رو رہی ہیں تو میں نے مڑ کر دیکھا ٹی وی پر کوئی پروگرام چل رہا تھا جس میں ایک عورت اپنے بیٹے کے سامنے جھولی پھیلا کہ رو رہی تھی اور اسکا بیٹا اسے گھر سے باہر نکال رہا ہوتا ہے صارم کے منہ سے یہ الفاظ سن کر میں حیران رہ گٸ اور خاموشی سے آکر ماریہ سے باتیں کرنے لگی اور پھر میں نے اُس سے پو چھا کہ بچے کیا بول رہے تھے تو پھر وہ مجھے بتانے لگی کہ کیا ہوا اتنے عرصے میں میری شادی کے بعد ہم بہت خوش تھے زندگی بہت خوش حال گزر رہی تھی شادی کے بعد میرا ادھورا خواب نوکری کر کہ کچھ بننے کا بھی پورا ہو گیااور میں عارف کے ساتھ ہی نوکری کرنے لگی اور میرے دونوں بچے کیسے بڑے ہو گے پتہ ہی نہ چلا کیونکہ مجھ پہ گھر کی کوٸ زمہ داری نہ تھی لیکن اچانک ہمارے خوشحال گھر کو کسی کی نظر لگ گٸ اورساس کو فالج کا آٹیک ہوا اورساری زمہ داریاں مجھ پر آگٸ اور مجھے نوکری بھی چھوڑنی پڑ گٸ اور اخراجات بھی بڑھ گۓ اور چند دنوں میں مجھے اُ ن سے اکتہاٹ ہونے لگٸ اور میں نے فیصلہ کر لیا اور عارف سے بات کرنے کا سوچا پہلے تو عارف نے انکار کر دیا لیکن میں نے سمجھایا کہ اس طرح بہت سی مشکلیں آسان ہو جاۓ گی اور اخراجات بھی کم ہو جاۓگے تو وہ مان گۓ اور ہم انکو ایدی میں چھوڑ آۓ اور وہ بولتی رہی کہ میں کمرے میں پڑی رہوں بس تم لوگوں کو دیکھتی رہوں گی مجھے یہاں نہیں چھوڑ جاٶں لیکن عارف نے انکی ایک بات بھی نہں مانی وہ بڑےفخرایہ انداز میں بول رہی تھی اور میں شرم سے پانی پانی ہوگی کہ وہ میری دوست ہیں .
اسکے جانے کے بعد میں یہ سوچنے لگ گٸ کہ یہ ہیں آج کے جدید مسلمان جو ماں جیسی عظیم ہستی کو خود پر بوجھ سمجھتے ہیں جو ماں اپنی پوری زندگی اپنی اولاد کو خوشیاں دینے کے لیے صرف کر دیتی ہیں چلنا سیکھاتی ہیں ، تعلیم دیتی ہے شعور سیکھاتی ہیں تو انکی اولاد کی نظر میں انکی کوٸ اہمیت نہی ہوتی اور جب اسکی خدمت کرنےکا وقت آتا ہے تو وہ بوجھ بن جاتی ہیں یہ یے ہماری جدید یات.
پکڑ کر انگلی جس نے چلنا سیکھایا
پکڑ کر انگلی اُسی نے گھر سے نکالا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں