22

پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس ادب اطفال 2020

پاکستان میں بچوں کے لیےلکھنے والے ادیب کم ہیں مگر جو ہیں وہ اکثر ایسے ہیں جو کہ مختلف مسائل کا شکار ہیں. دوسری طرف اُن کو سراہنے والے اشخاص اوراداروں کی بھی کمی ہے۔ محض بچوں کے مستقبل کو بہتربنانے کا خواب لئے بہت سے ادیب معاوضے اور تعریف کے بناء بھی کام کیے جا رہے ہیں۔مگر گذشتہ چند سالوں میں اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ادیبوں کے حالات قدرے بدلے جائیں تاکہ بچوں کے ادب کو مزید فرو غ حاصل ہو سکے۔ادیبوں کے آپس کے روابط پہلے بہت کم تھے۔ اگرچہ اب سوشل میڈیا کے ذریعے سے رابطہ تو ممکن ہے مگر بالمشافہ ملاقات کا کوئی خاص اہتمام نہیں تھا کہ وہ سالانہ بنیادوں پر ہو سکے۔ اس مشکل امر کو جناب محمد شعیب مرزا صاحب نے اپنے چند رفقاء کے ساتھ سر کرنے کا سوچااور بے شمار مسائل کو حل کرتے اور نظر انداز کرتے ہوئے عالمی اہل قلم کانفرنس اد ب اطفال کا سلسلہ یوں شروع کیا ہے کہ امسال اُس کی پانچویں تقریب کا اہتمام کیا جس میں راقم السطور کو بھی شرکت کا موقعہ ملا.ایسے ادیب جن کو برسوں سے محض نام کی حد تک جانتے تھے اُن کو براہ راست دیکھنے کا جہاں موقع ملا،وہیں اُن خوش نصبیوں کو اعزازت سے نوازتے دیکھنا بھی پُرلطف تھا جو کہ برسوں سے یا کم عمری میں ادب اطفال میں عمدہ تخلیقات سامنے لا چکے ہیں۔ملک بھر کے بچوں کے ادیبوں کو ادب اطفال ایوارڈ کا دیا جانا ایک اہم قدم ہے جو کہ لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کاسبب بن رہا ہے۔
پانچویں عالمی اہل قلم کانفرنس برائے ادب اطفال 2020 لاہور کے نجی ہوٹل میں 25اکتوبر کو منعقدکی گئی. اس محفل کی جب شروعات ہوئی تو پھر اس کی رونق دیکھنے کے قابل تھی کہ نہ صرف پاکستان بھر سے نامور ادیب، شاعر حضرات شامل ہوئے تھے بلکہ چند مہمان تو بطور خاص بیرون ممالک سے بھی تشریف لائے تھے۔ راقم السطور کو یوں لگ رہا تھا کہ پورے پاکستان کی نمائندگی ہو رہی ہے۔ جس سے آپس میں روابط بہترین اور سب اختلافات کو بھلا کر محض پاکستانیت اوربچوں کے ادب کے فروغ کا جذبہ پھل پھول رہا ہے۔
جہاں تک اس تقریب کے خا ص الخاص شرکا کی بات ہے تو اس میں جناب امجد اسلام امجد صاحب،اخوت کے چیئر مین امجد ثاقب صاحب، محترمہ تسنیم جعفری صاحبہ،محترمہ مسرت کلانچوی صاحبہ،ڈاکٹر فضیلت بانو صاحبہ،جناب نذیر انبالوی صاحب اور محمد فہیم عالم صاحب کے ساتھ ساتھ سید اعجاز گیلانی، ڈاکٹر فوزیہ سعید، شجاعت علی راہی تو تھے ہی مگر اس تقریب کے روح رواں جنا ب محمد شعیب مرزا صاحب کو ہم کیسے فراموش کر سکتے ہیں. یہ اُن کی جہد مسلسل ہی ہے کہ وہ پانچویں بار اس تقریب کے انعقاد کو ممکن بنا رہے تھے۔اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے کہ آپ سب کو ایک ساتھ ایک جگہ پر جمع کریں اور پھر اس طرح سے مختلف اور با صلاحیت افراد کو اُن کی نمایاں کارکردگی پرمعمار وطن ایوارڈ، تسنیم جعفری ایوارڈ، پروفیسر دلشاد کلانچوی ایوارڈ اور انعم فاطمہ ایوارڈز کو نقد انعامات، اسناد اور شیلڈز کی صورت میں نوازیں۔اس کام میں محمد شعیب مرز ا صاحب کس قدر کامیاب ہو چکے تھے،یہ تو تقریب کے شرکا ء بخوبی جان چکے ہیں اور اُن کے چہروں پر آنے والی مسرت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی کوشش میں پھر سے کامیاب ہو گئے ہیں۔
یہی دیکھ لیں کہ تسنیم جعفری ایوارڈ برائے ادب اطفال 2020 جن کو ملا، وہ ایسی شخصیات ہیں جو اپنے کام میں لاجواب ہیں اور اُ ن کی شہرت ہر سو ہے کہ یہ اپنے کام میں جس لگن سے مگن ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، اب آپ شجاعت علی راہی اور نوید مرزا صاحب کو دیکھ لیں. اس کے بعد شاعری کے میدان میں اپنے جوہر دکھانے والے ضیا اللہ محسن صاحب کو ہم کیسے فراموش کر سکتے ہیں کہ وہ بطور مدیر جس رسالے کو بام عروج کی طرف لے گئے وہ انہی کا خاصہ ہے۔ جبکہ مسرت کلانچوی صاحبہ کو سب جانتے ہیں کہ وہ کس پائے کی مصنفہ ہیں۔جبکہ دوسری طرف فلک زاہد جیسی کم عمر مگر بھرپور صلاحیتیں رکھنے والی منصفہ کو بھی امجد اسلام امجد صاحب کے ہاتھوں سے ”15پرسرار کہانیاں“پر انعم فاطمہ ایوارڈ اور دس ہزار روپے سے نوازا گیا جو کہ بے شمار نوجوان لکھاریوں کے لئے ایک خوش آئند بات ہے کہ وہ بھی عمدہ کہانیوں اورکتب کے ذریعے سے خود کو منوانے کی کوشش کے ساتھ بچوں کے ذہنوں کو مثبت طرز فکر کے ساتھ تفریح مہیا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔یہ صورتحال نوجوان ادیبوں کے لئے ایک مثبت اشارہ ہے کہ آپ کی کارکردگی دیکھی جا رہی ہے جب وقت آئے گا تو اُن کو بھی یوں سراہے جانے کے خواب کی تعبیر ظہور پذیر ہو گی۔
یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ اس طرح کی تقریب دنیائے اُردو خاص کرادب اطفال میں منفرد ہے. ایسا کام تو ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی نہیں ہو پایا ہے۔محمد فہیم عالم صاحب جیسے جوہری کو جو کہ نئے لکھاریوں کو سامنے لا رہے ہیں، اُن کو بھی خدمات پر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جبکہ نذیر انبالوی صاحب کو بھی مسلسل بہترین کارکردگی پر سراہے جانا یہ ثابت کرتا ہے کہ وقت بدل رہا ہے اور اب ادب اطفال کو نجی سطح پر سہی مگر سراہنے کی روایت بن گئی ہے۔
25اکتوبر2020کو ہونے والی اس تقریب میں جس موضوع پر اظہار خیال کرنے کا موقع دیا گیا تھا وہ بھی نہایت ہی اہمیت کا حامل تھا۔یہ موضوع تھا ”نئی نسل پر کرونالاک ڈاؤن اور منشیات کے بڑھتے استعمال کے تدارک میں اہل قلم کا کردار“ جس پر مقررین نے مختصر مگر پُر اثر گفتگو کرکے شرکاء محفل کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔
معروف شاعر ومعالج ڈاکٹر فرحت عباس نے کہا کہ قائداعظم قلم کو تلوار سے بھی زیادہ موثر سمجھتے تھے، لہذا اگر ہم قلم کو مثبت انداز میں استعمال کریں تو اپنی تحریروں کے ذریعے سے معاشرے میں انقلاب برپا کر سکتے ہیں کہ ادیب کی تحریر کایا پلٹ سکتی ہے۔
دوسری طرف ڈاکٹر عمران مرتضی جو کہ ماہر نفسیات ہونے کے ساتھ فاوئیٹن ہاوس کے ایم ایس بھی ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر ادیب قارئین کی نفسیات کو پیش نظر رکھ کر ادب تخلیق کریں تو ان کی تحریریں بہتر نتائج دے سکتی ہیں۔کرونا/ لاک ڈاؤن اور منشیات کے بڑھتے استعمال نے نئی نسل کو شدید متاثر کیا ہے۔ادیب اپنی تحریروں کے ذریعے ان کی ذہنی و نفسیاتی بحالی میں اہم کردار کر سکتے ہیں۔
ادکامی ادبیات کے چیئر مین محمد شعیب مرزا نے کہا کہ ہم بچوں کے ادب اور بچوں کے ادیبوں کو ان کا حق اور مقام دلوانے میں مصروف عمل ہیں. جس میں ہم کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں لیکن ابھی تک منزل نہیں آئی ہے۔جبکہ امجد اسلام امجد صاحب نے ادکامی ادبیات اطفال کو سراہتے ہوئے اُس کے نمایاں کردار کی بھرپور تعریف کی اورکہاکہ حکومت کو ایسے اداروں کی سرپرستی اور معاونت کرنی چاہیے۔
چند مقررین نے بچوں کے حوالے سے نت نئے موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق بھی کہانیاں سامنے لانے کی بات کی جس پر تمام رسائل کے مدیران کوغورو فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ بچوں کیلئے مستقبل اور اُن کی موجودہ ذہنی شعور کو مدنظر رکھتے ہوئے تحریروں کی اشاعت بڑے دل کے ساتھ ممکن بنائی جائے۔ اس محفل میں شرکا کی تواضع بھی بھرپور انداز میں کی گئی تھی. اُن کو جہاں خوب صورت ساتھیوں ، مدیران اور نامورشخصیات سے ملنے کا موقع ملا وہیں اُن کو خوب اچھے کھانوں سے بھی لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔تقریب کے اختتام پر سب مہمانوں کا شکریہ ادا کیا گیا جس کے بعد سب ادیب حضرات نے ایک حسین یاد کے ساتھ واپسی کی راہ لی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں