4 اپریل ہر سال آتا ہے اور اپنی تلخیاں بکھیر کر چلا جاتا ہے۔ آج وہ دن جب پاکستان کے ہر دل عزیز لیڈر کو تختہ دار پر چڑھایا گیا۔ پاکستان کی فوجی حکومت نے بھٹو سے ایسا بدلہ لیا کہ دوبارہ کوئی فوج کے خلاف بولنے کی جرات نہیں کرے گا۔
یہ امر طئے شدہ ہے بھٹو صاحب کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں متحد ہوکر میدان عمل میں آگئیں تا کہ بھٹو کو اقتدار سے نہ صرف دور کیا جائے بلکہ ان کو ایسی مثال بنایا جائے کہ دوبارہ کوئی عوام کے زور کا رعب نہ دکھا سکے۔ مولانا مودودی، ولی خان، شاہ احمد نورانی، اصغر خان اور نوابزادہ نصر اللہ چونکہ بھٹو تعصب میں جل رہے تھے اس لئے ان حضرات نے سرعام بھٹو کو پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ فوج چونکہ پہلے ہی بھٹو پہ کھار خائے ہوئے تھی لہذا سب نے ملکر بھٹو سے انتقام لینے کی تھان لی اور اس طرح 4 اپریل 1979 کو ایک کافر کو پھانسی لگا کر پاکستان کو پاک کر دیا گیا۔
4 اپریل کو فون کی گھنٹی بجی، مودودی نے بھٹو کی موت پر مبارک باد وصول کی اور اس طرح یہ سلسلہ 3 دن تک چلتا رہا۔ جماعت اسلامی کے کارندے مٹھائیاں بانٹنے پر معمور تھے۔
بھٹو صاحب کو لٹکانے میں بھٹو تعصب تو اپنی جگہ لیکن اپنوں کا قصور زیادہ تھا۔ بھٹو صاحب 2 سال تک قید و بند کی صعوبت برداشت کرتے رہے مگر پی پی کے کسی بھی سیاسی لیڈر سے یہ نہ ہو سکا ایک آدھ جلوس ہی نکال دیں۔ بھٹو نے جتوئی اور پیرزادہ کو بلا کر کہا کہ آپ کم از کم فیس سیونگ کے لئے عوام کے پاس جائیں مگر مذکورہ حضرات نے صاف انکار کر دیا۔
جرنل چشتی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ غلام مصطفی جتوئی، پیرزادہ اور کھر نے صاف صاف کہا کہ الیکشن نہ کروائیں۔ بلکہ جتوئی صاحب نے یہاں تک فوجی افسران کو کہہ دیا کہ اگر ہم سے کام کروانا ہے تو بھٹو کو یا تو پھانسی لگائیں یا اسکو ملک بدر کر دیں۔ اسکی موجودگی میں ہم کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ جرنل چشتی نے یہ بات بارہا ٹی وی پہ کہی جبکہ جتوئی صاحب اور دیگر اس وقت زندہ تھے۔ جرنل چشتی نے یہاں تک کہہ دیا کہ یہ حضرات جب بھی چاھیں ٹی وی پہ آکے مجھ سے استفسار کر سکتے ہیں۔ جتوئی یا کھر نے کبھی بھی تردید کرنے کی جسارت نہیں کی۔ 1988 کے الیکشن میں عوام نے ان کو ووٹ نہ دے کر اپنا بدلہ لے لیا۔ جتوئی کو دونوں سیٹوں سے ہاتھ دھونے پڑے جبکہ پیرزادہ ضمانت ظبط کروا بیٹھے۔ کھر انگلینڈ میں عیاشیوں میں مصروف تھے جبکہ
رامے اور ممتاز بھٹو بھی منہ کی کھا کے بیٹھ گئے۔ یہ سب حضرات وڈیرا شاھی کے زعم میں تھے مگر جب عوام کا سیلاب آتا ہے تو بڑے بڑے وڈیروں اور بادشاہوں کو بہا کر لے جاتا ہے۔ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔
بھٹو صاحب نے نہایت بہادری اور جرات کے ساتھ پھانسی کے پھندے کو اپنے گلے میں ڈال کر اپنوں اور مخالفین کے گلے میں تا قیامت لعنت کا طوق ڈال کر خالق حقیقی کے سامنے سرخرو ہو گئے۔ بقول شخصے اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ جیالوں کے لئے یہ بات نہایت تلخ ہوگی مگر حقائق تو حقائق ہیں۔
آج منظر کچھ عجیب ہے۔ فوج نے بھٹو صاحب کی قبر پہ 2 سال پہرہ لگوا رکھا تاکہ کوئی فاتح خوانی نہ کر سکے۔ آج لاکھوں کی تعداد میں لوگ اپنے لیڈر کی قبر پہ فاتح خوانی کے لئے جمع ہوتے ہیں۔ جبکہ جرنل ضیاء کی قبر پہ لوگ جوتے مارتے ہیں۔ میاں نوازشریف کافی عرصہ کرائے کے ٹٹو جمع کر اپنے چھوٹے ابا جی کی قبر پہ جاتے رہے مگر مشرف نے جب بستر بوریہ گول کر دیا تو میاں جی بھی فوج کے خلاف ہو گئے۔ آج ہر خاص و عام کے لبوں کہ ایک بات ہے کہ نوازشریف چور ہے۔
موجودہ پی پی سندھ تک محدود ہو چکی ہے جبکہ بھٹو صاحب پورے پاکستان کی بات کرتے تھے۔ قیادت کے فقدان نے پی پی کا برا حال کر دیا ہے۔ دوسری طرف جرنل ضیاء کے 11 سالہ دور نے ملک کو اس نہج پہ پنہچا دیا ہے کہ پوری قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ 1988 کے بعد سے، 9 سالہ فوجی آمریت کو نکال کر، کسی بھی سیاسی حکومت نے کوئی ایسا حل پیش نہیں کیا جس کا نتیجہ مثبت ہو۔ اب جمھوریت کی جگہ ملوکیت نے لے لی ہے اس لئے اقتدار کی جنگ میں وہ جیتتا ہے جو بے ضمیر ہو اور رج کے بے غیرت وبے شرم ہو۔ بھٹو صاحب نے کہا تھا کہ اگر مجھے قتل کیا گیا تو ہمالیہ روئے گا اور یہ ہی ہوا۔ آج کون سا گھر ہے جس میں صف ماتم نہیں بچھی۔ 40 ہزار شیعہ، مسلک کی بنیاد پر، قتل کئے گئے اور آج تک ہو رہے ہیں۔ اہلسنت کی مساجد پہ حملے، محرم کے جلوسوں پہ حملے، عید میلاد النبی کے جلوس پہ حملے۔ نماز جمعہ پر مساجد کے باھر پولیس پہرہ پر معمور ہوتی ہے۔ لوگ ڈرتے مارے اپنے بچوں کو گارڈ کے بغیر سکول نہیں بھیجتے۔ چھ چھ سالا بچیوں کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں۔ بچوں کی پورنو گرافک فلمیں بن رہی ہیں۔ 150 بچوں کا دن دہاڑے قتل ہوتا ہے اور پشاور میں خون کی ندیاں بہہ جاتی ہیں۔ کیا ہمالیہ نہیں رو رہا؟ بلکہ اب تو دریا، سمندر اور پہاڑ بھی رو رہے ہیں۔ یہ ہیں وہ حالات جو بھٹو صاحب کے قتل کے بعد پیدا ہوگے۔
سیاسی جماعتوں کو چاھئے کہ اب جمھوریت کا راستہ اپناتے ہوئے ملکویت کا خاتمہ کریں ورنہ حالات اس بد تر تو ہو سکتے ہیں بہتر نہیں۔