278

14اگست 1947 آزادی سے لے کر آج تک کا سفر

قوموں کی زندگی میں ایک ایسے دن بھی اتے ہیں جو تاریخ رقم کر دیتے ہیں اور ایسے دنوں کو ہمیشہ ذندہ رکھا جاتا ہے۔یہ وہ دن ہوتے ہیں جن کے سامنے موت بھی بےبس دکھائ دیتی ہے۔14 اگست 1947 کا دن بھی اسی نوعیت کا ایک دن ہے جو مرتے دم تک یاد رکھا جائے گا۔ہماری آزادی کی تاریخ بڑی طویل،صبر آزما اور عظیم جدوجہد سے بھری پڑی ہے۔برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان کو وجود میں لانے کے لیے بڑی عظیم اور ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں۔ آزادی حاصل کرنے کےلئے تو ویسے قربانیاں دینی ہی پڑتی ہیں مگر حصول پاکستان کے لیے ہندوستان کے مسلمانوں نے جو قربانیاں دی ہیں ان کی مثال تو پورے اقوام عالم کی تاریخ میں بہت کم ملتی ہیں۔ ہماری آزادی کا ایک ایک باب خون سے رنگین ہے۔
ییہہی کیفیت 14 اگست 1947 کو دیکھنے میں آئ تھی جب لٹےپٹے قافلے ڈھیروں خون میں لت پت لاشیں لیے اس نئ مملکت میں داخل ہو رہے تھے۔ وہ ایک ایسے جذبے سے سرشار تھے جو سارے دکھوں اور غموں کو برداشت کرنے کی قوت پیدا کر رہا تھا۔ان میں پیار اور لگن تھی۔وہ ہندوؤں اور انگریزوں کی محکومی اور غلامی کی ذلت سے نجات حاصل کر رہے تھے۔
آخرکار قائداعظم اور ان کے ساتھیوں کی قربانیوں اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پاکستان ہمیں 27 رمضان 14 اگست 1947 کو حاصل ہوا۔تمام محنت،قربانیوں اور جدوجہد کےبعد ہمیں ان تمام کاوشوں کا پھل نصیب ہوا۔اقبال کے خواب کو پورا کرنے کا سفر بہت مشکل تھا مگر لا حاصل نیہں۔آزادی کے بعد مسلمانوں نے بہت سی مشکلوں کا سامنا کیا۔
آج پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے 70 سال ہوگئے ہیں۔آج کا پاکستان آزادی کی تمام نعمتوں سے مالامال ہے۔ یہاں ہر سو دولت کی ریل پیل ہے،کاریں ہیں،کوتھیاں ہیں،سر فلک عمارتیں ہیں،تعلیمی مراکز ہیں،کارخانے ہیں،کاروباری مراکز ہیں،زرخیز زمین ہے،با صلاحیت اور تعلیم یافتہ لوگ ہیں ۔ان ہی لوگوں کی انتھک محنت اور کاوشوں سے پاکستان اپنی ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور انشاءاللہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک بن کر ابھرے گا۔
آج پاکستان کے بارے میں سن کر کسی بھی عام شخص کو جو پاکستان سے باہر ہے کیا تصور ذہن میں آتا ہے؟ یہ کہ وہ جگہ جہاں بم بلاسٹ ہوتے ہیں، جہاں اسامہ بن لادن کو دس برس سے زیادہ پناہ دی جاتی ہے،جہاں ملالہ جیسی لڑکیوں کو صرف اس لیے گولی مار دی جاتی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں اور باقی دنیا اس لیے ڈرتی ہےکہ ہم نیوکلئیر پاور ہیں اور کبھی بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں اور کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ہے؟ جبکہ سوال تو یہ ہے کہ ہم لوگوں نے پاکستان کو کیا دیا ؟ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔یہاں ہر مزہب کے لوگ آزادانہ طور سے رہتے ہیں ۔ یہ وہ ملک ہے جہاں مزہب کے نام پر قتل و غارت گری نہیں ہوتی۔ بلکہ ہم ہر مزہب کے لوگوں کا احترام کرتے ہیں اور ان سب کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
پاکستان جو ہمیں اتنی محنت اور جدوجہد سے حاصل ہوا ہے۔تو اس کامیابی کی خوشی میں ہم ہر سال 14 اگست کے دن کو بہت جوش و خروش سے مناتے ہیں۔یوم آزادی کے موقع پر سارے ملک کے شہروں اور قصبوں میں چراغاں کیا جاتا ہے۔ہر جگہ ترانے اور نغمے بجائے جاتے ہیں۔ سب لوگ ہرا اور سفید لباس پہنتے ہیں ۔گھروں اور عمارتوں پر پرچم لہرائے جاتے ہیں ۔مساجد میں ملک و قوم اور تمام مسلم امہ کی ترقی و خوش حالی اور سلامتی کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں ۔
ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنے بزرگوں کی قربانیوں کو رائے گا نہ جانے دیں اور اپنے ملک کی سلامتی کے لیے تمام گلے شکوئے اور نفرتوں کو مٹا کر اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیں اور اس کی ترقی کےلئے ہر ممکن کوشش کریں ۔اس یقین کے ساتھ کہ پاکستان ہے تو ہم اگر یہ نہیں تو ہم نہیں!!
پاکستان زندہ باد۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں