33

دنیا کی 20 بہترین ہوائی کمپنیوں کی فہرست

اسکائی ٹریکس نامی ایک ادارے نے، جو دنیا کی تمام ہوائی کمپنیوں کی رپورٹ تیار کرنے کی مجاز ہے، اپنی سالانہ رپورٹ پیش کی ہے جس کے مطابق دنیا کی بیس بہترین ہواباز کمپنیوں کی ترتیب کچھ اس طرح سے ہے۔
1۔ قطر ائرویز، 2۔ ائر نیوزی لینڈ، 3۔ سنگاپور ائرلائن 4۔ کونٹاس، 5۔ امارت،6۔ کیتھے پییسیفک، 7۔ ورجن اٹلانٹک، 8۔ یونائیٹڈ ائرلائن، 9۔ ایوا ائر، 10۔بریٹش ایرویز، 11۔ لفت ہنسا،12۔ آنا، 13۔ فن ائر، 14۔ جاپان ائر لائن، 15۔ کے ایل ایم، 16۔ہوائین ائرلائن، 17، آلاسکا ائرلائن ، 18۔ ورجن آسٹریلیا، 19۔ ڈیلٹا ائرلائن، 20۔ اتحاد ائرویز۔ لیجیے جناب اتحاد ائر ویزہ کے فین کو مبارک ہو یہ اتفاق سے آخری صفحہ میں جگہ پاکر بہرحال دنیا کی بیس بہترین میں شامل ہوگئی ہے۔ ہمارے ہندوستانی دوست مایوس ہو رہے ہوں گے کہ ان کی ہوائی کمپنی پہلے بیس میں بھی نہیں شامل ہوسکی۔ تو کوئی بات نہیں بہتری کی امید رکھیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے پاکستانی دوستوں کو بھی بہت خوش ہوناچاہیے کہ چلو ہم نہیں تو تم بھی صنم کدے میں نہیں۔۔۔۔ایسی بات نہیں اور ابھی تو بات شروع ہوئی ہے۔ اصل بات تو ابھی سامنے آئے گی۔ دنیا کی صف اول کی خراب ترین ہوائی کمپنی۔ مگر نہیں ابھی اپنا قہقہ روک رکھیں اور آگے پڑھیں۔ یہ اعزاز بھی ان دونوں ملکوں کو نہیں ملا۔ بلکہ اس بار اس اعزاز سے نوازی گئی ہے کوریا کی ائر لائین، ائر کوریا۔ اور اس فہرست میں اور بھی کئی پردہ نشینوں کے نام ہیں۔ تو چلیے دیکھتے ہیں کہ اس کے بعد کس کا نام آتا ہے۔ آپ نے ائر بلیو کا نام تو ضرور سنا ہوگا دیکھیے ان کو کس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔
پاکستان کی دوسری بڑی ہوائی کمپنی کو دو ستارے کا اعزاز ملا ہے۔ یعنی فوجی زبان میں جونیئر نام کمیشنڈ افسر، اندازے سے کہہ رہا ہوں مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں کہ فوجی رینکنگ کا علم خاص نہیں۔ جبکہ مہمان نوازی کا شہرہ رکھنے والی پاکستانی تہذیب اور ثقافت کے ناک کے نیچے یہ ہوائی کمپنی مہمان نوازی میں اس سے کمتر صرف ایک ستارے کے اعزاز پر فائز ہوئی ہے۔ صفائی کے معاملے نہایت کمتر اور عملے کے طرز عمل میں حد درجہ ناشائستگی، اور کراچی ائرپورٹ کی ناکافی سہولیات بھی اس کے کھاتے میں ڈال دی گئیں ہیں۔
بولیوین، موزمبیق، تیونس کی ہوائی کمپنیاں یا ترکی کی اونور وغیرہ جو اسی فہرست کا حصہ ہیں انہیں چھوڑتے ہوئے آگے چلتے ہیں۔ آپ یہ کہہ کر بھی دل کی بھڑاس نکال لیں کہ یہ ساری کارستانی یورپین کی ہے اپنے آروگنٹ میں یہ دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ مگر ایسی سوچ کو جلا دینے سے قبل دنیا کی بیس بہترین ہوائی کمپنی کی فہرست پر ضرور نظر ڈال لیں۔ اور بات آگے بڑھاتے ہوئے اصل مدعا کی طرف آتے ہیں۔ گو اب یہ بات عام ہوچکی ہے کہ پی آئی اے اپنی زندگی کی آخری سانس لے رہی ہے اور جناح ائرلائن کے نام سے جنم لینے والی نئی ائرلائن پی آئی اے کے تابوت پر آخری کیل ٹھونکنے کا سبب بنے گی۔ مگر آخری ہچکی لیتی اس ائرلائن جس نے کئی بہاریں دیکھیں کا بھی احوال سنتے جایئے۔
اسکائی ٹریکس نے اسے خراب ترین کا درجہ دیا ہے اور اسے اس میں بہتری کی کوئی بھی امید نہیں نظر آتی ہے۔ پی آئی اے کا بزنس کلاس پریم اکنامی کلاس سے بھی گیا گزرا ہے۔ اور عملہ کی کارکردگی اور طرز عمل غیر دوستانہ ہے۔
اب اسکائی ٹریکس کو کون سمجھائے بھائی ہم سفر کراتے نہ کہ دوستی کا بندھن باندھنے کا کام کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں