92

کنٹاس ائیر کی 137 ٹکٹس 10 منٹ میں فروخت ہو گئی

جب سے کرونا وائرس کی وبا نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے ملکوں کے درمیان ہوائی اور زمینی سفر منقطع ہو چکے ہیں اور اس کا اثر فضائی اداروں پر براہ راست پڑا ہے گو کہ حالات بہتری کی طرف گامزن ہیں پھر بھی احتیاط کے پیشِ نظر لوگ طویل فاصلے کے سفر سے گریز کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ملکوں کے بنائے گئے سفری قوانین بھی مشکلات کا باعث بن رہے ہیں اس کا حل فضائی کمپنیوں نے یوں نکالا کے بجائے کسی دوسرے ملک جائیں کیوں نا اپنے ہی ملک کے اوپر سفر کیا جائے یعنی آپ کا جہاز جس ائرپورٹ سے فضا میں بلند ہو گا کچھ گھنٹوں کے سفر کے بعد اسی ائرپورٹ پر واپس لینڈ کرے گا اس سفر کے درمیان آپ پوری طرح سے ہوائی سفر سے لطف اندوز ہونگے لیکن بجائے کسی دوسری جگہ یا ملک جانے کے آپ واپس اپنے ہے شہر میں آئیں گے۔ کنٹاس ائیر نے اس سلسلے میں دو راستوں کا انتخاب کیا تھا جس کی 137 ٹکٹیں محض 10 منٹ میں فروخت ہو گئی۔
ائیر لائن کے ترجمان کے مطابق یہ شاید کنٹاس کی تاریخ میں سب سے تیزی سے فروخت ہونے والی پرواز ہے۔ ٹکٹوں کی قیمت 787 آسٹریلین ڈالر ( 575 امریکن ڈالر ) سے 3787 آسٹریلین ڈالر ( 2765 امریکن ڈالر)کے درمیان ہے۔
پیسیفک ایئر لائن ایسوسی ایشن کے مطابق ، کرونا وائرس کو قابو میں رکھنے کے لئے سخت سرحدی پابندیوں کی وجہ سے ، اس خطے میں بین الاقوامی سفر میں 97.5 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
تائیوان کی ایوا ایئرویز کارپوریشن اور جاپان کی اے این اے ہولڈنگز نے بھی اپنے خصوصی مسافروں کے لیےاور ساتھ ہی ساتھ اپنے پائلٹوں کے لائسنس کو برقرار رکھنے کے لئے خصوصی سیر کی پروازوں کا اہتمام کیا ہے۔
جہاں کنٹاس ائیر ان خصوصی پروازوں کے لیے بوئنگ 787 استعمال کر رہا ہے وہی تائیوان کی ایوا ائیر اپنے مشہور ہیلو کٹی لیوری اور جاپان کی اے این اے ائیر Airbus SE A380 ااستعمال کرتے نظر آرہے ہیں۔
سنگاپور کے مقامی جریدے کے مطابق سنگاپور ائیر بھی اگلے مہینے سے اس قسم کی خصوصی سیر کی پروازوں کا ارادہ رکھتی ہے گو کہ انہیں ماحولیات کے ماہرین اور صارفین کی جانب سے کافی تنقید کا سامنا ہے۔ائیر لائن کے مطابق متعدد مقامات زیر غور ہیں لیکن کسی بھی مقام کا ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں