یہ کامیابیاں، یہ عزت، یہ نام تم سے ہے
خدا نے جو دیا ہے مقام تم سے ہے

تمہارے دم سے ہے کھلے میرے لہو میں گلاب
میرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے

کہاں بصارتِ جہاں اور میں کم سِن و ناداں
یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے

جہاں جہاں ہے میری دُشمنی، سبب میں ہوں
جہاں جہاں ہے میرا احترام، تم سے ہے

وصی شاہ