207

یوم پاکستان کی تقریب تُمبا سینن میں

رپورٹ: طارق محمود
تصاویر: نوید عباس میمن

تومبا بتشرکا میں یوم پاکستان کی تقریب تومبا سینن میں آنریری جج لیاقت علی خان کی زیرنگرانی منعقد ہوئی۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی بتشرکا کے کمونل راد جناب فریدرک اولسن تھے۔

تقریب میں مختلف کھانوں اور جیولری کے سٹال لگائے گئے تھے جہاں بچوں اور بڑوں اور خواتین کی پسند کی چیزیں موجود تھیں۔ پاکستانی خاندانوں کی ایک بڑی تعداد نے اس میلے میں شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اسکے بعد آنریری جج لیاقت علی خان نے مختصرا 23 مارچ کے حوالے سے اس تقریب کو منانے کا احوال بیان کیا۔ اور میزبانی کیلئے سٹیج سندس رفیق اور ڈاکٹر شہلا کے حوالے کر دیا۔

ڈاکٹر شہلا پہلے اردو میں مہمانوں کو بلانے کا اعلان کرتیں اور سندس رفیق بعد میں انگلش میں وہی باتیں ٹرانسلیٹ کرتیں تاکہ تقریب میں موجود اردو نہ سمجھنے والوں کو باتوں کی سمجھ آجائے۔

سید عبداللہ جو صرف چار سال کا بچہ ہے اس نے بہت پیارے انداز میں نعت، الہی تیری چوکھٹ پر۔۔۔۔۔ پڑی جس نے سامعین کے دل موہ لئے۔ اسکے بعد انگلش گانے پر بچوں کی پرفارمنس پیش کی گئی۔ اور پاکستان ڈے کے حوالے سے ایک ڈاکومنٹری فلم دکھائی گئی جسمیں پاکستان کے پانچوں صوبوں اور آزاد کشمیر کی ثقافت اور قابل دید نظاروں کو دکھایا گیا۔

فاطمہ سعید نے انگلش میں 23 مارچ پاکستان ڈے کے حوالے سے تقریر کی اور بچوں نے ملی نغمہ پر ڈانس کیا جنمیں عبدالقادر اور معاذ احمد شامل تھے

مشاہرے کیلئے سٹیج پاکستان اردو سوسائیٹی کے صدر جناب جمیل احسن صاحب نے سنبھالا اور اپنی تازہ نظمیں پیش کیں اسکے بعد جناب شکیل خان شکو صاحب نے اپنی نظم پیش کی جسکے چند اشعار ذیل میں دیے گئے ہیں۔

ایماں کھوتا ہوا جوان برا لگتا ہے
قلم کے ہاتھ میں ہتھیار برا لگتا ہے
سنبھالا جب انہوں نے وطن کا ٹھیکہ ہے
سیاست کا ہر عنوان برا لگتا ہے۔


اور پھر افتخار ثاقب صاحب نے کلام پیش کیا۔

جناب شفقت کھٹانہ صاحب نے حاظرین کو یوم پاکستان کی مبارکباد دی اور اپنے آنے والے پروگرام سے آگاہ کیا. شفقت کھٹانہ صاحب نے گزشتہ ہفتے امن کانفرنس کا انعقاد کیا تھا. جس کی رپورٹ آپ اردو نامہ پر پڑھ سکتے ہیں.

تقریب میں جناب دین سیال چوہدری صاحب بھی اپنی دو نئی شائع شدہ کتابیں لیکر آئے ہوئے تھے جنمیں ایک کا نام پاکستان مصر اور اسرائیل تھا جبکہ دوسری تاریخ خالصہ تھی جسمیں سکھوں کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ اسکے بعد کاشف صاحب نے اپنی خوبصورت آواز میں ملی نغمہ پیش کیا اور شزہ نے اردو میں قیام پاکستان پر تقریر کی۔

تقریب کے آخر میں بچوں کا ایک سوال و جواب کا مقابلہ کروایا گیا اور سامعین میں سے دو عمر رسیدہ جوڑوں کی کامیاب زندگی جانچنے کیلئے ان سے علیحدہ علیحدہ سوالات کئے گئے۔ اور آخر میں تقریب میں حصہ لینے والوں میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ اور مہمان خصوصی فریڈرک اولسن نے اختتامی تقریب سے خطاب کیا۔

جناب آنریری جج لیاقت علی خان صاحب واقعی تعریف کے مستحق ہیں جنہوں نے اس کامیاب تقریب کا اتنی خوبصورتی سے انعقاد کیا اور پاکستانیوں کے دلوں میں پاکستان سے دور پاکستان کی چاہت کی یاد تازہ کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں