242

" ہم کسی سے کم نہیں" نازنین انصاری

کیا یہ ضروری ہے کہ ہم خواتین کی صلاحیتوں کو انکے عالمی دن کے موقع پر ہی سرہائیں جس طرح ماں اور باپ کا شکریہ اور محبت کا اظہار کرنے کے لیے کسی خاص دن کا ہونا لازمی نہیں اسی طرح خواتین کے لیے بھی کسی خاص وقت کی قید نہیں ہونی چاہیں ہے۔
پاکستانی معاشرے میں خواتین کا کردار اہم ہے، خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہر شعبے میں کام کر رہی ہیں اور پاکستانی حوصلہ مند خواتین بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کر رہی ہیں اور دیگر معاشروں کی طرح پاکستان میں بھی عورت زندگی کے ہر شعبے میں اپنا کردار ادا کرتی نظر آتی ہے ۔ خواتین نے پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا ہے اور یہ بھی ثابت کیا کہ پاکستانی خواتین کسی سے کم نہیں۔
پاکستان میں چند ہی ایسے شعبے ہوں گے، جہاں پاکستانی خواتین نظر نہیں آتیں۔ ہماری خواتین ملک کے تمام بڑے شعبوں، فوج، سیاست، شوبز، صحت اور تعلیم میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
سیاست کی بات ہو تو مسلم دنیا کی پہلی خاتون سربراہِ مملکت بننے کا اعزاز محترمہ بے نظیر بھٹو نے حاصل کیا، پاکستان کی پہلی خاتون سپیکر بننے کا اعزاز فہمیدہ مرزا نے حاصل کیا۔ پاکستان کی پہلی خاتون وزیر خارجہ حنا ربانی کھر بنیں، نوبل امن ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی ہیں، معیشت کے میدان میں پاکستان کی پہلی خاتون گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور اسی طرح اسپورٹس میں دنیا کی سب سے بلند چوٹی ماونٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کوہ پیما ثمینہ بیگ اور پاکستان کی پہلی خاتون فائٹر پائلٹ عائشہ فاروق شامل ہیں۔

سال 2016 میں راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ثمر خان نے سطح سمندر سے ساڑھے 4 ہزار میٹر بلند بیافو گلیشئر پر سائیکل چلا کر نیا ریکارڈ قائم کیا جب کہ انہوں نے اسلام آباد سے بیافو گلیشیئر تک سائیکلنگ کا بھی ریکارڈ بنا ڈالا۔ بیافو گلیشیئر کو قطب شمالی و جنوبی سے باہر دنیا کا تیسرا طویل ترین گلیشیئر سمجھا جاتا ہے۔
پاکستان کا نام روشن کرنےوالی ثمرخان نے اردو قاصد سے خصوصی گفتگو کے دوران کہا کہ خواتین اپنے اپنے شعبوں میں ترقی کی منازل طے کر رہی ہیں اور یہ ثابت کر رہی ہیں کہ پاکستان کی خواتین کو اگر مواقع میسر ہوں تو وہ کامیابیوں اور نئی جہتوں کی اعلیٰ مثالیں قائم کر سکتی ہیں۔

عالمی ریکارڈ قائم کرنے والی پاکستانی سائکلسٹ ثمر خان سے خصوصی گفتگو اس لنک پر کلک کر کے سن سکتے ہیں۔

دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح سویڈن میں بھی پاکستانی خواتین ہر شعبے میں پیش پیش ہیں خواہ وہ ٹیکسی چلانے کا شعبہ کیوں نہ ہو۔
رمونا خان بھی ایک ایسی ہی خاتون ہیں جنھوں نے اس مقولے کو سچ کر دکھاتے ہوئے اس کام کا آغاز کیا ۔ اردو قاصد سے انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ کام کوئی بھی چھوٹا یا بڑا اور مرد یا عورت کے لیے نہیں ہوتا ، کام کام ہوتا ہے ۔

سویڈن میں مقیم پاکستانی خاتون رمونا خان سے خصوصی گفتگو اس لنک پر کلک کر کے سن سکتے ہیں۔

دن بہ دن بڑھتے اس ترقی کے دور میں ہمیں اپنے پرانے نظریات پر مشتمل ہمارے معاشرتی نظام کو بدلنا ہوگا جہاں لڑکیوں کے لیے کچھ شعبوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔ارشاد جونیجو نے اپنے آرٹیکل میں کیا خوب مثال دی ہے کہ، جس طرح کوئی پرندہ ایک پر سے پرواز نہیں کرسکتا، اُسی طرح کوئی بھی معاشرہ عورت کو نظر انداز کرکے ترقی کی راہ پر آگے نہیں بڑھ سکتا، کیونکہ عورت معاشرہ کے پرندے کا دوسرا پر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں