میں مرد ہوں اس معاشرے کا جس میں مرد اپنی جنت عورت کے قدموں میں تلاش کرتا ہے۔ میں مرد ہوں اس معاشرے کا جس میں بھائ اپنی بہن کی عزت کی خاطر جان دے سکتا ہے۔
میرے معاشرے کا مرد اپنی بہن کا گھر آباد کرنے کے لیے اپنی جوانی قربان کر دیتا ہے۔
میں اس معاشرے کا مرد ہوں جہاں وہ اپنے خاندان کے لیے مشرق وسطے کے صحراوں میں غلامانہ انداز میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ میرے معاشرے نے میری تربیت میں اپنے خاندان کے لیے جس میں بیوی بچے ، بہن بھائ، والدین ہیں قربانی دینا میری جبلت میں ڈال دیا۔
میں اس امت کا مرد ہوں جس امت کا نبؐی اپنی بیٹی فاطمہ کے آنے آپر کھڑے ہوجاتے اور چار پای پر اپنی پگڑی مبارک بچھا کر بٹھاتے۔
جس معاشرے میں بیٹیاں گھر کی رحمت ہوں اگر اس معاشرے میں کچھ ناسمجھ لوگ یہ زہر گھولنا شروع کر دیں کہ عورت کو چادر اور چار دیواری سے آزادی دلانا چاہیں اور معاشرے میں انتشار پھلانا چاہیں تو میں وہ مرد ہوں جو کبھی نہیں قبول کروں گا۔
میں وہ مرد نہیں جو زمانہ جہالت میں بیٹیوں کو شرم کا باعث سمجھتے ہوئے زندہ گاہڑ دیتا تھا۔ میں وہ مرد نہیں جو زمانہ جہالت میں عورتوں کو اپنی جائیداد سمجھتے ہوئے اپنی سوتیلی ماوں کو اپنی ملکیت میں لے لیتا تھا۔
میرے دین نے قرآن میں عورت کے حقوق واضع طور پیش کیے ہیں میرے اوپر( مرد) عورت کی ضروریات کی زمہداری ڈالی ہے۔ اگر عورت چاہیے تو اپنے خاوند سے بچے کو دودھ پلانے کا معاوضہ تک لے سکتی ہے۔ اور وراثت میں عورت حق دیا ہے۔ میرے دین نے عورت کو نکاح اور خلح لینے کی آزادی دی ہے اور مرد کو عورت سے احسان یعنی اچھا سلوک کرنے کی ہدائت کی۔
ہر معاشرے میں حقوق فرائض ہوتے ہیں تاکہ معاشرے میں انتشار نہ پھیلے اور کسی سے کسی طرح ظلم اور نا انصافی نہ ہو۔ اس لیے اسلامی معاشرہ نے جس طرح مرد کے لیے حقوق فرائض کا تعین کیا ہےاسی طرح عورت کے لیے بھی حقوق فرائض ہیں۔ اور میرا جسم میری مرضی ان حقوق فرئض کی نفی کرتا ہے۔
مرد سے آزادی معاشرے میں ایک ایسا فتنہ ہے جو معاشرے کو صرف تباہی کی طرف لے کر جائے گا۔
میں مرد ہونے کے ناطے عورت کی عظمت کو سلام کرتا ہوں۔ میری جنت عورت کے قدموں میں ہے ، میرے گھر کی رحمت عورت ہے۔ میرے بچوں کی جنت عورت ہے۔ میری زندگی کا ساتھی عورت ہے۔ مگر اگر یہی عورت میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگا کر تمام پاکیزگیوں پر لات مارے گی تومیں مرد ہونے کے ناطے میرے لیے وہ موت ہوگی۔ وہ جنت دوزخ میں تبدیل ہوجائیگا۔ رحمت زحمت میں تبدیل ہوجائے گی اور زندگی کا ساتھی اپنی تنہائیوں میں ڈوب جائیگا۔
ہاں میں اس معاشرے کا مرد ہوں جو عورت کو پاکیزہ رشتوں میں ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہوں۔