ایک سوال جو اکثر میرے ذہن میں آتا ہے کیا ہم مہذب قوم ہیں ؟
پہلےآپ، پہلے آپ کی بازگشت شاید تاریخ کے اوراق میں کہیں گم ہو چکی ہے بس میں،صرف میں کی گونج ہر جگہ سنائی دیتی ہے۔
کسی بھی معاشرے کی اخلاقی سر بلندی اس قوم کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے پر افسوس یہ ہے کہ ہم ظاہری طور پر تو ترقی کر رہے ہیں مگر اخلاقی پستی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ بس یا ٹرین کے سفر کے دوران ہم لوگ موبائل فون میں اتنے مگن ہوجاتے ہیں کہ ہمیں احساس تک نہیں ہوتا کہ ہمارے قریب ہی موجود کسی بزرگ کو شاید اس جگہ کی ہم سے زیادہ ضرورت ہے،سلام میں پہل کرنا ہم اپنی انا کامسئلہ سمجھتے ہیں،کل تک پڑوس میں رہنے والے کو چچا،ماموں، تایا کہنے والے آج یہ تک نہیں جانتے کہ ہمارے پڑوس میں کتنے لوگ رہتے ہیں اور کیا کبھی انہیں ہماری ضرورت نہیں پڑ سکتی۔
اسلامی طور پر ہمارے پیارے نبی ﷺ کی اخلاقی تعلیمات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں اور اسی لیے قران کو نہ صرف دینی تعلیم کےحصول کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا بلکہ اسے ضابطہِ حیات بھی کہا جاتا ہے لیکن ہم نے اسے صرف خاص مواقوں پر پڑھنے کی چیز تصور کر کےاپنے گھروں میں رکھنا شروع کردیا ہے مگر کبھی اسے سمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی۔
پہلے زمانے میں بڑے بڑے بادشاہ اپنے بچوں کی تربیت کے لیے انہیں خاص طور پر طوائفوں کے پاس بھیجا کرتے تھے۔ہم اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے تو آراستہ دیکھنا چاہتے ہیں مگر یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں کہ تعلیم و تربیت ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں تو پھر آگے آنے والی نسل سے ہم کس طرح یہ توقع کر سکتے ہیں کہ وہ اخلاقی طور پہ باشعور ہو۔سب سے پہلے ہمیں اپنے آپ سے شروعات کرنی ہوگی اور ساتھ ساتھ ہمارے محترم اساتذہ کرام کو بھی اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ انکا ایک ایک شاگرد آنے والی زندگی میں انکا ایک نمائندہ ہے اسکی تعلیم بلکہ اسکی اخلاقی تربیت بھی اس کی آنے والی زندگی میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے.
آخر میں صرف ایک سوال کیا ہم میں اب بھی کچھ علامہ اقبال،سرسید احمد خان،اشفاق احمد (اور ان جیسےبہت سے لوگ) جیسی تعمیری اور اخلاقی سوچ رکھنے والے اساتذہ موجود نہیں ہیں. ادب انسان کو اخلاق کی بلندیوں تک لے جاتا ہے خالی علم نہیں، کیونکہ علم تو شیطان کے پاس بہت ہے مگر ادب نہیں، اسی لیے کہتے ہیں تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ، تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی۔