274

کیا دینی مسائل پر بولنے کا حق صرف عالم دین کو ہے؟

ہم یورپ میں حصولِ روزگار، اعلیٰ تعلیم اور دیگر معاملات کے حصول کے لیے سکونت اختیار کرنے والے مسلمان اپنے دنیاوی مقصد کو حاصل کرنے کی دوڑ میں دن رات ایک کر دیتے ہیں لیکن بحیثیت مسلمان اپنے حقیقی مقصد حیات کو فراموش کر دیتے ہیں۔ اس بات کا احساس تب ہوتا ہے جب ہمارے بچے اپنے ارد گرد کے ماحول ، اسکول اور گھریلو ماحول میں واضح فرق دیکھتے ہیں اور ان کے ذہن میں مختلف سوال پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب دینا اکثر والدین کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: فَاسْأَلُواْ أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ اگر تم لوگ نہیں جانتے تو جاننے والوں سے پوچھ لو۔ بلاشبہ قرآن شریف نے زندگی گزارنے کا ایک مکمل نظام دیا ہے اور دنیا کو سمجھنے کا انداز سکھایا ہے ۔ سویڈن میں رہتے ہوئے ہماری خوش قسمتی ہے کہ اہل علم حضرات نے اسے اپنی ذمہ داری سمجھا پھر چاہے وہ 2007 میں تشکیل دی گئی اسٹاک ہوم اسٹڈی سرکل ہو یا ڈاکٹر عارف محمود کسانہ کی بچوں کے لیے لکھی گئی کتاب ۔سب کا مقصد دورِ حاضر میں درپیش مسائل کو قرآن شریف اور سنت کی روشنی میں سمجھنا اور ان کا حل نکالناہے۔
ہمارا یہ خیال کہ دینی مسائل پر بولنے کا حق یا ذمہ داری صرف عالم دین کی ہے درست نہیں۔ ہر فرد کو دین کے معاملے میں اپنی معلومات کو بتانے اور سمجھانے کا برابر حق حاصل ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ وہ معلومات قرآن و سنت کی بنیاد پر ہوں ۔ ایسے ہی مسائل اور ان کے حل کے لیے حال ہی میں اسٹاک ہوم میں مقیم نوجوان جوڑے نے اس کوشش کا آغاز کیا ہے۔ محمد عشر اور ان کی اہلیہ ثمیرین بیلا نے ایس آئی آئی ایس کے نام سے ایک تنظیم تشکیل دی ہے ۔
ایس آئی آئی ایس (سویڈن انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سائنس) ایک غیر فرقہ ورانہ تنظیم ہے جس کا مقصد سویڈن/یورپ میں مقیم مسلمانوں کو دین اور سائنس کی روشنی میں معلومات فراہم کرنا ہے۔
اردو قاصد سے گفتگو کرتے ہوئے محمد عشر کا کہنا تھا کہ ایڈہیرنٹ کی مذہبی آبادیات کے اعداد وشمارکے مطابق مسلمان دنیا کی کل آبادی کا پچیس فیصد حصہ ہیں اور دنیا کا دوسرا بڑا مہذب اسلام ہے۔ مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ دورِ جدید میں ہم اپنے مذہب، تہذیب اور ثقافت کے اعتبار سے مسائل میں گھری دنیا کی سب سے بڑی آبادی ہیں۔
ثمرین بیلا نے اردو قاصد کو بتایا کہ ہم نے اپنے مذہب، سماجی و ذاتی معیار اور ثقافت کو الگ الگ کر دیا ہے جبکہ دین اسلام ایک مکمل دستور حیات ہے جو زندگی کے تمام معاملات میں انسان کو اچھائی اور برائی ، نیکی و بدی اور حقوق فرائض کا شعور بخشتے ہوئے امن وسلامتی اور انسانی ترقی کی ضمانت فراہم کرتاہے۔ اسلام ہمیں وفا شعاری ، امانت دیانت ، مروت ،حیا و شرافت پاکیزگی اور اچھے اخلاق کا درس دیتا ہے اور جس پر عمل پیرا ہوکر ہم بحیثیت مسلمان مغربی معاشرے میں فخر سے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ ایس آئی آئی ایس (سویڈن انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک سائنس) کا اولین مقصد اسلام اور سائنس کی منطقی استدلال کے ذریعے معاشرے میں پھیلے اسلام کے حوالے سے دکیانوسی تصور کو دور کرنا ہے۔
ایس آئی آئی ایس کا پہلا اجلاس 8 اپریل کو میشٹا میں ہونے جارہا ہے۔ جس کا عنوان ہے وقت کی قدر اور اہمیت ۔ وقت ایک دولت کی ماند ہے اور یہ دولت تقاضا کرتی ہے کہ اسے ضائع نہ کیا جائے۔ دنیا میں وہی قوم یا فرد آگے بڑھتا ہے جو وقت کی قدر و قیمت کرتا ہے۔

TIME MANAGEMENT EVENT

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں