108

کچھ مُعاشرتی حقیقتیں اور اُن پر طنز و مزاح

(مُشاہدہ:ڈاکٹر ریاض رضی)
اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ لڑکا/مرد اگر وجیہہ شکل ہو، خُوبرو ہو اور قد کاٹھ کا بھی بے مثال ہو، بزعم خود وہ لڑکا کسی ایک لڑکی/خاتون سے نتھی ہونا خلافِ “حُسن” سمجھتا ہے۔ بعض لوگ اپنے گورے چمڑے کو بھی اِنتہائی اہمیت دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ “حَسین” ہونے کا معیار بھی اُن کے نزدیک گورا ہونا ہی ہے۔ جب تک کہ کوئی ایک لڑکی اِن “حَسین” لڑکوں کے پلو نہیں باندھی جائے گی وہ اپنے “حَسین” ہونے کا ناجائزہ فائدہ اُٹھائیں گے اور پسند در پسند کا شوق بڑھتا چلا جائے گا۔ لڑکیاں تو بے چاری۔۔۔آہ۔۔۔۔سیدھی سادھی ہیں۔ اُن کو اپنی پسند سے زیادہ والدین کی پسند کو سرِ آنکھوں پر بٹھانا ہوتا ہے۔ البتہ سُنا ہے کہ(شاید کہیں کہیں ہمارا مشاہدہ بھی واقع ہوا ہے)خوش شکل لڑکیاں/خواتین اکثر ضدی اور مغرور ہوتی ہیں۔

پہلے پہل اِن لڑکوں کو پیار جیسا “حادثہ” ہو ہی گیا۔ پھر ساتھ جینے اور مرنے کی قسم بھی کھالی۔ زندگی بھر ساتھ نبھانے کے وعدے وعید بھی ہوئے۔ اچانک وہ اوّلین پیار کو نظر لگ ہی جاتی ہے۔ وہ لڑکا کہ جس کو اپنے گورے پن کا پورا اِحساس ہے وہ پُھدک کر کسی اور “شاخ” پر بیٹھ جاتا ہے، اُلو کی طرح۔۔۔ پھر تو اوّلین پیار کرچی کرچی ہوگیا، وہ وعدے وعید پُھر ہوئے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ کیسا پیار ؟؟ جب پسند کیا تھا اور ایک دوسرے کےلئے راضی تھے، مرنے کی تمنا جاگی تھی، “فرار” ہونے کا جذبہ بھی تھا تو پھر درمیان میں یہ “دوسری” کا نزول کیسے؟؟ یہ اُس دائرہ اخلاق سے بغاوت کا نتیجہ ہے جس کو ہم “مذہب کا شعبہ اخلاق” کہتے ہیں۔

میرا مشورہ ہے کہ بھئی حَسین لڑکو! ایک پر ہی اِکتفاء کریں۔ پیار کے معاملے میں بار بار مائنڈ بدلنے سے اقدار اور خصوصیات کی نفی ہوجاتی ہے۔ جب اوّلین لڑکی ہی پہلے پہلے پیار کےلئے اِنتخاب ہوگئی تھی تو پھر کسی دوسری کی طرف جھکاؤ عجیب معاملہ ہے۔ شاید عقل کے پردے کھل جاتے ہیں یا ہوس کی بندھ پُڑیا مزید کھل جاتی ہے، یہ میرے دائرہ علم سے باہر ہے۔

مرد کی فطرت بھی عجیب ہے۔ ظاہر حُسن و شباب کا بڑا رسیا ہوتا ہے۔ باطنی نور کی بالکل بھی تمنا نہیں۔ معلوم نہیں کیوں؟؟

مرد جب حد سے تجاوز ہوتا ہے تو وہ آس پاس کی کسی بھی چیز کو خاطر میں نہیں لاتا۔ اگر اوّلین لڑکی سے کچھ اَن بَن ہوگئی یا لڑکی کی طرف سے بے رُخی کا اظہار ہوا تو لڑکے کے دل میں ایک کھسک پیدا ہوتی ہے اور وہ “دلِ عاشق” سے “دلِ بے وفا” کی طرف چلا جاتا ہے۔ پھر تو دوسری، تیسری۔۔۔ کی ایک لمبی فہرست مرتب ہوتی ہے۔ اور یہ ایک بگڑے ہوئے مرد کی بد ترین نشانی ہے۔ یہ بہت سی لڑکیوں کی طرف رغبت کا عنصر دراصل خوبصورتی سے زیادہ اور محبت سے پِرے ایک اور چیز ہوتی ہے جس کو ہم سب”ٹھرکی” کہتے ہیں۔ شاید آج کے وجیہہ شکل مرد اِسی خصوصیت کے اسیر ہیں۔

اِن عاشقوں میں تیسرا اہم فریق ماں باپ ہیں۔ والدین کی قربانی کا کوئی مول نہیں۔ وہ دونوں انمول ہیں۔اپنی لڑکی یا لڑکے کےلئے انگنت مسائل جھیلتے ہیں۔ زندگی کا ہر سُکھ قربان کرتے ہیں۔ رشتہ ازدواج میں ماں باپ ہمیشہ اپنی پسند کا رونا دھونا لئے بیٹھتے ہیں اور یہ غلط بھی نہیں ہے جبکہ لڑکا اپنی پسند کو ترجیح دینا چاہتا ہے۔ ماں باپ ایک پختہ عمر کے لڑکے کو بھی نادان سمجھتے ہیں اور خیال ظاہر کرتے ہیں کہ وہ پختہ عمر لڑکا شادی کے معاملے میں دھوکا کھاسکتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ پختہ عمر لڑکا یا آدھی سے زیادہ زندگی گزارنے والے مرد کے تجربات اور تعلیمی اسناد کوئی معنی نہیں رکھتے، بس والدین کا حکم نامہ با اثر ہوتا ہے۔ (میں اس روش کے غلط یا صحیح ہونے کی نشاندہی نہیں کروں گا)

بے شک زندگی لڑکے نے گزارنی ہے اور پھر بھانت بھانت کے لوگوں سے پالا لڑکے کا پڑتا ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ لڑکے کے تجربے میں خوبصورتی سے لے کر کردار کا ہر شائبہ پہناں ہوتا ہے۔ جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ شادی کا عملی نمونہ میاں بیوی کی باہمی محبت اور عقیدت ہے۔ جب لڑکا ماں باپ کی پسند کی لڑکی کے ساتھ خوش نہیں رہے گا یا لڑکی خوش نہیں رہے گی تو پھر شادی کرنے کا کیا فائدہ؟؟
بہرحال فریقین کو سوچ سمجھ کر اور غصے سے پرے ہٹ کر فیصلہ کرنا ہوگا۔ زبردستی ہرگز نہیں ہونی چاہیئے۔ چونکہ بیٹا یا بیٹی والدین کا اپنا خون ہے۔ کوئی لڑکی بہو بننے سے قبل والدین کی کچھ نہیں لگتی۔ یا کوئی لڑکا داماد بننے سے پہلے اجنبی ہوتا ہے۔ والدین کو اپنے خون کےلئے پریشان ہونا چاہیئے نہ کہ کسی اور کےلئے۔

اگر بالفرض لڑکے نے اپنی پسند کی شادی کرلی اور والدین کی رضا مندی بھی نہیں لی تو والدین کو چاہیئے کہ وہ ٹینشن نہ لیں۔ اپنی صحت کی طرف توجہ دیں۔ زندگی میں اس طرح کے معاملات درپیش رہتے ہیں۔ آپ نے اپنی سی کوشش کی اور فرض کو پوری طرح نبھایا۔ اب اگر معاملہ اصل وجہ کے خلاف ہوا تو اس میں آپ کا قصور نہیں ہے۔ خود کو ہلکان رکھیں اور اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ کسی اور کی غلطی کو خود پر سوار کیوں؟؟۔ ہر شخص نے اپنا بوجھ خود اُٹھانا ہے اور خود ہی جواب دہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ والدین کی رضامندی کے بناء اتنا بڑا فیصلہ لینا غلط ہے۔ البتہ اس کی سزا اس قدر نہیں ہونی چاہیئے کہ لڑکا بغاوت پر اُتر آئے۔

یہ باتیں میں اس لئے کر رہا ہوں کہ اپنی تیئں میں نے اپنی جوانی کی قیمت چُکاکر سمجھداری کی سند لے لی ہے۔
????????????????

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں