کچھ حقیقت کچھ تصورات کی بات کرتے ہیں
سہمے ہوئے چہروں کے حالات کی بات کرتے ہیں

سچ ہے کہ اہل شہر بھی شامل ہیں گناہ میں
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے نجات کی بات کرتے ہیں

اور وہ لوگ درد کے دریا میں ڈوب جاتے ہیں
جو پردہ نشینوں کےخطرات کی بات کرتے ہے

فقیہہ شہر کے پیمانے پہ بھی وہی ہیں محترم
جو آگ لگاتے ہیں اور جذبات کی بات کرتے ہیں

زندگی جبر بنا ڈالی ہے وقت کے صیادوں نے
دیکھے ہیں لیٹرے جو خیرات کی بات کرتے ہیں

ممکن نہیں کہ چپ کے بازار میں رہ سکوں مگر
ڈوبتے تارے بھی تو حیات کی بات کرتے ہیں

کوئی انقلاب ہی بدل سکتا ہے تقدیر وطن کو
یہاں کھیت جلانے والے باغات کی بات کرتے ہیں
سہیل صفدر