120

کسانہ صاحب کی خدمت میں مفت مشورہ

حال ہی میں یوم آزادی کے موقع پر آپ نے پاکستانی مایہ ناز سیاستدانوں پہ یلغار کر دی۰ واقع کچھ یوں ہے کہ تیرہ اگست کو سویڈن کی ایک وزیر مستعفی ہو گئی۰ وجہ یہ تھی کہ مذکورہ نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے پکڑی گئی۰ وزیر محترمہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے وزیر اعظم کی خدمت میں استعفیٰ پیش کر دیا۰
اب اس واقع کا پاکستان کے سیاستدانوں سے کیا تعلق؟ پہلی چیز تو پاکستان کے رہنما خود گاڑی چلاتے ہی نہیں اور دوسرا یہ کہ اتنی کم مقدار میں شراب پینے کو اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں۰ آپ نے بیس کروڑ عوام کو مردہ قرار دے دیا لا حول ولا۰ نعرے بھی تو زندہ لوگ ہی لگاتے ہیں نا۰ جلسے جلوس، دھرنے، سیاسی و مذھبی اجتماع اور نعرے بازی کیا قبرستان میں ہوتے ہیں؟ ہمارے وزرا بھی اتنی چھوٹی سی غلطی پہ استعفیٰ دے دیں، تو ملک کون چلائے گا جی؟ ہمارے وزرا اتنے سمجھدار ہیں کہ بڑی سے بڑی غلطی پہ بھی مستعفی نہیں ہوتے اور بڑے حوصلہ کے ساتھ تنقید کا مقابلہ کرتے ہیں۰ پناما لیکس بھی یہود و نصارا کی ایک سازش ہے جس کے تحت فرزندان امیر المومنین کو بدنام کیا جا رہا ہے۰ یہ کوئی رہنما ہیں جو آرام سے گھر چلے جائیں۰ رہنما میدان کاردار میں تلوار بکف ہیں۰ آپ نے جے آئی ٹی اور کمشن بنانے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۰ ڈاکٹر صاحب اگر ایسا نہیں ہوگا تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیسے ہوگا؟ ہمارے رہنما کلین چٹ لینے کے لئے اب یہ بھی نہ کریں؟ بارہ مئی ، سانحہ ماڈل ٹاون اور دیگر واقعات میں اگر ایک یا دو کانسٹیبل کو معطل کر دیا تو کیا ہوا؟ کیا کسی بڑے افسر کو معطل کیا جاتا؟ اس سے تو ہماری پولیس فورس کا مورال ڈاون ہو جائے گا جس سے اس مقدس ادارے کی کارکردگی پہ نہایت ہی برے اثرات پڑیں گے۰ آپ نے رہنماوں کو لٹیرے لکھا ہے جو کہ ایک نہایت ہی نا شائستہ لفظ ہے ۰ کذاک ذرا ادبی لفظ ہے یہ لکھنا چاہئے تھا۰ قانون شکن اور کرپٹ جیسے نامناسب الفاظ استعمال کر کے آپ نجات دہندگان ملت کی توہین کے مرتکب ہوئے ہیں۰ ہمارے رہبران کے ہاتھ میں کوئی ہتھوڑا نہیں پکڑا ہو ا جس سے قانون توڑیں بلکہ اس سے تو ریل کی پٹری اور گٹر کے ڈھکن توڑ کر اتفاق کی بھٹیوں میں ڈھال دیتے ہیں تا کہ مارکیٹ میں صارف کو اصلی مال میسر ہو اور ملاوٹ شدہ نہ ہو ۰ مجھے یقین ہے اس تشریح کے بعد آپ اس کار خیر کو نگاہ تحسین سے دیکھیں گے۰ کرپٹ کی جگہ اگر الراشی لکھتے تو ذرا بہتر معلوم ہوتا۰ آخر میں لیڈران کو چلو بھی پانی میں ڈوب کر مرنے کا مشورہ دیکر بے عزت کرنے کی آپ نے حد ہی کر دی۰ بھلا کیا ہمارے رہبران اس قابل ہیں؟ کم از کم آپکو ایک بڑی جھیل لکھنی چاہئے تھی جس میں ذرا آرا م سے ڈوب کے مرتے۰ بحرحال ڈاکٹر صاحب امید ہے میرے مختصر سے مشورے پہ عمل کرتے ہوئے آئندہ آپ ذرا نرم الفاظ کے ساتھ قوم و ملت کے رہبران کی کلاس لیں گے۰
افارِتازہ سے نقل: سائیں رحمت علی ناتھن شاہی کی تحریر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں